طالما لم يغلق باب الديمقراطية فإن الانقلابات لن تُمنع أبدا (مترجم)
طالما لم يغلق باب الديمقراطية فإن الانقلابات لن تُمنع أبدا (مترجم)

الخبر:   نُشر مؤخرًا مرسومان جديدان في ظل السلطة القضائية لحالة الطوارئ في رسمي غازيت (الجريدة الرسمية لجمهورية تركيا). التغيير الأكثر إثارةً للاهتمام في المرسوم الجديد هو انتخاب رئيس للأركان. ووفقًا لهذا المرسوم الجديد، فإن شرط "أن يكون قائدًا عسكريًا بريًا، أو في القوات المسلحة البحرية"، ليحق له أن يصبح رئيس أركان قد ألغي. (المصدر: وكالات أنباء).

0:00 0:00
Speed:
August 27, 2016

طالما لم يغلق باب الديمقراطية فإن الانقلابات لن تُمنع أبدا (مترجم)

طالما لم يغلق باب الديمقراطية فإن الانقلابات لن تُمنع أبدا

(مترجم)

الخبر:

نُشر مؤخرًا مرسومان جديدان في ظل السلطة القضائية لحالة الطوارئ في رسمي غازيت (الجريدة الرسمية لجمهورية تركيا). التغيير الأكثر إثارةً للاهتمام في المرسوم الجديد هو انتخاب رئيس للأركان. ووفقًا لهذا المرسوم الجديد، فإن شرط "أن يكون قائدًا عسكريًا بريًا، أو في القوات المسلحة البحرية"، ليحق له أن يصبح رئيس أركان قد ألغي. (المصدر: وكالات أنباء).

التعليق:

يحاول حزب العدالة والتنمية أو الرئيس أردوغان اتخاذ الاحتياطات اللازمة لمنع انقلابات مستقبلية من قبل الجيش. فمحاولة الانقلاب الأخيرة هذه أفسدت الأمر على أردوغان والحكومة كثيرًا جدًا. النسخة القديمة من البند التي ذكرته للتو كانت في السابق هكذا:

"البند 8: يتم تعيين رئيس الأركان من قبل الرئيس مع أخذ اقتراحات مجلس الوزراء على أن يكون من الجنرالات الحاليين والأميرالات الذين خدموا كقادة بريين أو في القوات البحرية".

أما في المرسوم الذي تم نشره اليوم فقد تم تغييره إلى ما يلي:

"تم تغيير القسم الأول من البند الثامن من قانون رقم 1324 ليصبح على النحو التالي: "يتم تعيين رئيس الأركان من قبل الرئيس مع أخذ اقتراحات مجلس الوزراء على أن يكون من الجنرالات الحاليين والأميرالات".

كان هذا ربما أكثر المراسيم الصادرة أهميةً وإثارةً للاهتمام والتي خرجت تحت الولاية القضائية للدولة في ظل حالة الطوارئ. وقد تمت تغييرات جذرية في الجيش ومحاولات لتحييده وذلك في محاولة لكسر ظهر الجيش الذي أسس وفقًا للثقافة الإنجليزية ليكون مشتتًا لمركز قوة القيادة. ويرغبون في مقابل ذلك بإنشاء جيش يكون مخلصًا تمامًا لأمريكا. وفيما كان قادة القوات يأخذون أوامرهم مباشرةً من رئيس الأركان، أصبح هؤلاء مرتبطين بوزير الدفاع وأنهيت صلتهم برئيس الأركان.

وبعبارة أخرى فقد عمدوا من خلال هذه التغييرات إلى جعل السلطة داخل الجيش موزعة بحيث لا تتركز عند نقطة واحدة أو جهة. كل هذا في محاولة للحد من احتمال وقوع انقلاب آخر أو منع وقوعه مطلقا. وأيضًا من خلال ربط الدرك بوزارة الداخلية، فإنهم بذلك يريدون أن يجعلوا منهم كيانًا مدنيا. وفي الوقت ذاته فإن فصل مبنيَيْ وزارة الدفاع الوطني عن رئاسة الأركان، كما هو الحال في أمريكا، فإنهم سيتحولون إلى ما يشبه البنتاغون. وإذا ما راعينا ذلك فإن تغييرات كبيرة ستحصل في هيكل وزارة الدفاع، وهذا يعني أن الوزارة التي كانت في الماضي ثقيلة عسكريا، فإنها مع هذه التغييرات ستصبح 60% مدنية و40% عسكرية.

وفي مقابل هذه التغييرات التي قامت بها الحكومة، فقد قام الإنجليز ببعض الخطوات أظهرت ردود فعل واسعة وصعبة على هذه التغييرات الجوهرية التي لحقت بالجيش. وهم يعبرون عن رفضهم لما يجري عبر رجالاتهم والتصريحات التي يدلون بها على التلفاز. وعلاوةً على ذلك، فقد أعرب أحد رؤساء الأركان السابقين عن قلقه قائلا: "حتى عبد الحميد الثاني لم يقم بإغلاق الأكاديميات العسكرية أو المدارس ولم يتصرف بهذه الجرأة ضد انقلابات قامت ضده".

اتبع أردوغان ومعه أمريكا خطة ماكرة ضد ردات الأفعال هذه. وقد كان أردوغان قلقاً جدًا وخائفاً من أن تطاله محاولة الانقلاب هذه والتي كانت تستهدفه. ولذلك فقد أعاد أردوغان تعيين بعض من مخلفات الإنجليز القديمة، ممن بُرؤوا من حادثة آرجينكون وبالمطرقة وأعادهم إلى بعض المواقع، وذلك ليتغلب على مخاوفه من جهة ولأنه لا يملك خيارًا آخر من جهة أخرى. وللتخفيف من ردات الأفعال قاموا أيضا بانتهاج طرقٍ ودية في التعامل مع حزب الشعب الجمهوري. إنهم يستخدمون سياسة تكتيكية وماكرة جدا. فمن جهة هو يعيد تشكيل الجيش ويقيل من يرغبون بإزالته من السياسيين، ومن جهة أخرى يقوم برشوة الإنجليز بإعطائهم بعض المناصب. ولكن هذه الخطوة محفوفة بالمخاطر؛ فالضباط الذين أعيدوا للخدمة هم مصدر للانقلاب. والإنجليز الذين لم يكونوا فاعلين قبل الخطوات السياسية التي اتخذها أردوغان يريدون أن يحافظوا على موقعهم في الجيش مهما كان قليلا.

إنهم يتبعون سياسة إنجليزية شهيرة "إذا لم تستطع أخذ الكعكة كلها فارضَ بنصفها". لذلك فهل ستنجح أمريكا ومعها أردوغان في هذه السياسة الماكرة؟ ستبدي لنا الأيام المقبلة ذلك. وحتى لو رأينا أن الأمر يسير في مصلحة أمريكا وأردوغان، إلا أنه وبالتأكيد سيكون هنالك حد لذلك. وأخيرًا فحتى لو اتخذت هذه الخطوات لمنع الانقلابات، فما دام باب الديمقراطية، مصدر الانقلابات الحقيقي، مفتوحا وما دام باب الخلافة الراشدة على منهاج النبوة مغلقا، فإنهم لن ينجحوا أبدا (في منع الانقلابات).

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست