تأثير المهاجرين المسلمين في الغرب
تأثير المهاجرين المسلمين في الغرب

الخبر: العديد من الشركات التجارية تعرض منتجات لمناسبتي رمضان والعيد في الأسواق الألمانية وتهنئ المسلمين بالعيد.

0:00 0:00
Speed:
March 30, 2025

تأثير المهاجرين المسلمين في الغرب

تأثير المهاجرين المسلمين في الغرب

الخبر:

العديد من الشركات التجارية تعرض منتجات لمناسبتي رمضان والعيد في الأسواق الألمانية وتهنئ المسلمين بالعيد.

التعليق:

مع تزايد عدد المهاجرين المسلمين إلى الدول الغربية مؤخرا تشهد الأسواق الأوروبية تزايدا للعروض الخاصة برمضان من أشكال الزينة والأطعمة والملابس ومواد الديكور، حتى إن إحدى المؤسسات التجارية الألمانية قامت بتحضير حلوى خاصة بالعيد وعرضها للبيع مع دعاية صوتية لتهنئة للمسلمين بالعيد بالكلمات العربية "عيد مبارك". ولم تكن هذه الظاهرة ملموسة في الأسواق الألمانية سابقا، في الوقت الذي كانت موجودة من قبل في فرنسا وبلجيكا لوجود أعداد أكبر من المهاجرين المغاربة أو في بريطانيا حيث كان لها عدد كبير من المستعمرات في البلاد الإسلامية.

بلغ في ألمانيا عدد الأجانب أو السكان من أصول مهاجرين حوالي 25 مليون نسمة وهو ما يشكل نسبة 20% تقريبا من عدد السكان، ومن المهاجرين المسلمين على وجه الخصوص ما يزيد عن خمسة ملايين أغلبيتهم من الأتراك ثم العرب وخصوصا السوريين إبان الثورة في السنوات العشر الأخيرة. وهذه النسبة من المسلمين تشكل ما يقارب 6% من السكان. ولعل تأثير الجالية السورية في الآونة الأخيرة كان الأكثر ملاحظة، حيث اقتصر تأثير الجالية التركية منذ ستينات القرن الماضي على بعض المتاجر، ومساجد قليلة متفرقة كان يرتادها كبار السن الذين جاؤوا محافظين على دينهم، ولكن هذه النسبة ازدادت بشكل ملحوظ مع ارتفاع وتيرة العداء العسكري والإعلامي للمسلمين منذ أحداث الحادي عشر من أيلول 2001م وما تبعها من غزو صليبي ضد البلاد الإسلامية، فصارت ردة الفعل عند المسلمين ملاحظة في ازدياد أعداد رواد المساجد من الشباب واهتمامهم بالقرآن ودعوة الناس للإسلام وكذلك دخول الكثير من أهل البلاد الأجانب الإسلام نتيجة انتشار وسائل التواصل وموارد المعلومات التي لا تخضع للتسييس والرقابة من الحكومات. وهذا ما دفع الدول إلى اتخاذ إجراءات صارمة ضد النشاطات الدعوية ومنع الأحزاب الإسلامية والجمعيات الثقافية واقتصار النشاطات على زيارة المساجد ومنع أي نشاط فكري خارج دائرة العبادات الفردية.

وكان لثورة أهل سوريا وهجرة الملايين منهم إلى أوروبا هاربين من ويلات حرب الإبادة التي مارسها نظام المجرم الجزار بشار الأسد الأثر الأكبر في ازدياد التأثير الشرقي في المجتمع الغربي، فعلى العكس من الجالية التركية التي كان جلها من عمال المصانع وكان اهتمامهم باللغة الألمانية قليلا وما يزال، نرى أن الجالية السورية اهتمت بالتجارة والأعمال الحرة وسوق الإنتاج وليس العمالة وكذلك اهتمت باللغة الألمانية فكان الاختلاط المجتمعي والاقتصادي أكبر وأكثر تأثيرا. ونشطت السوق التجارية الشرقية وما فيها من ثقافة وفنون في اللباس والزينة والطعام، ما حدى بالمؤسسات التجارية إلى مجاراة الطلب المتزايد على المنتجات الشرقية وعلى وجه الخصوص تلك المتعلقة بالمناسبات الدينية مثل رمضان والأعياد.

المواجهة السياسية لهذه التطورات المجتمعية والاقتصادية لوحظت من خلال زيادة المؤيدين للأحزاب اليمينية المتطرفة مثل الحزب البديل لألمانيا الذي يعارض سياسة التهجير ويريد إيقاف التأثير الإسلامي في المجتمع عبر التحريض وتوقيف الهجرة وطرد غير المرغوب فيهم من الأجانب من الأفغان والمغاربة والسوريين الذين يتهمونهم بالإجرام والعداوة للمجتمع ويمارسون عليهم ضغوطا سياسية للاندماج بتغيير هويتهم ومسخ عقيدتهم وتحريف دينهم مع الإبقاء على مظاهر التدين الفردي "الكنسي". وهذا التوجه السياسي أصبح أيضا متبعا في الأحزاب "المعتدلة" كأسلوب لاحتواء المؤيدين للأحزاب المتطرفة.

ولعل ما يشهد من الترويج للبضائع ذات الطابع الإسلامي أو في المناسبات الإسلامية دليل على فشل هذا المبدأ فكريا بمنع أو التقليل من تأثر المجتمع بالثقافة الإسلامية. وربما يكون هذا مؤشرا على نجاح مساعي المهاجرين في الحفاظ على هويتهم المتميزة وعقيدتهم التي يحملونها في جنباتهم، ويعملون على تطبيق أحكامها بجوارحهم في مجتمع يرفضهم ويرفض عقيدتهم وأسلوب حياتهم، متشدقا بأنه يحمل ثقافة أفضل وأرقى للبشرية، وهم بذلك يناقضون مبدأهم ويعارضون قيمهم التي بنوا عليها كياناتهم السياسية، مثل الحريات والديمقراطية وتأمين حرية التدين ومحاربة العنصرية والتفرقة العرقية.

ولو أردنا المقارنة بين ما يحصل في بلاد الغرب اليوم في ظل الديمقراطية، وما حصل في بلاد المسلمين أمس إبان الحكم الإسلامي في دولة الخلافة، لوجدنا الفارق الكبير والبون الشاسع، بل إنه لا سبيل للمقارنة بينهما، ولكن على سبيل التعريف بالنقيض نقول إن الأصل الذي التزمه الشرع في العلاقة بين الرعايا هو التابعية وليس غير، فكل من يحمل التابعية الإسلامية من غير المسلمين، له ما للمسلمين وعليه ما عليهم، ولا تفرق الدولة بين حاملي التابعية في الحقوق والواجبات والحفاظ عليهم وممارسة دينهم وعاداتهم دون المساس بالحقوق العامة التي تقيد الجميع بالشريعة الربانية التي قال الله سبحانه في تأكيدها: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ، والتي قال فيها رسول الله عليه الصلاة والسلام «مَنْ آذَى ذِمِّيّاً فَقَدْ آذَانِي».

هذه الحقيقة التي يسعى الغرب بكل أدواته الإعلامية والعسكرية والإدارية إلى طمسها وتشويهها، ولكنه يفشل في كل مرة ويزداد فشلا، ويرتقي هذا الدين في كل جولة من عليّ إلى أعلى، مصداقا لقوله تعالى: ﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. يوسف سلامة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست