تايوان والاستراتيجية الأمريكية ذات الغموض بين الثبات والإلغاء
تايوان والاستراتيجية الأمريكية ذات الغموض بين الثبات والإلغاء

الخبر:   زارت رئيسة مجلس النواب الأمريكي نانسي بيلوسي تايوان، والتقت فيها رئيسة تايوان تساي إنغ وين وعدداً من المسؤولين البارزين في العاصمة تايبيه، وأكدت خلالها أن أمريكا ثابتة في التزامها تجاه تايوان ولن تتخلى عنها، وقالت إنها ناقشت مع رئيسة تايوان تعميق علاقات البلدين الاقتصادية والأمنية والدفاع عن القيم الديمقراطية المشتركة، وأضافت في تغريدات عبر موقع تويتر أن أمريكا لا تزال ثابتة في التزامها تجاه شعب تايوان ولعقود مقبلة، ثم جاءت زيارة 5 نواب أمريكيين تايوان، وتم لقاء رئيسة تايوان تساي إنغ وين ونواب آخرين، وذلك لإظهار الدعم لتايوان في ظل تصاعد التوترات في مضيق تايوان.

0:00 0:00
Speed:
August 18, 2022

تايوان والاستراتيجية الأمريكية ذات الغموض بين الثبات والإلغاء

تايوان والاستراتيجية الأمريكية ذات الغموض بين الثبات والإلغاء

الخبر:

زارت رئيسة مجلس النواب الأمريكي نانسي بيلوسي تايوان، والتقت فيها رئيسة تايوان تساي إنغ وين وعدداً من المسؤولين البارزين في العاصمة تايبيه، وأكدت خلالها أن أمريكا ثابتة في التزامها تجاه تايوان ولن تتخلى عنها، وقالت إنها ناقشت مع رئيسة تايوان تعميق علاقات البلدين الاقتصادية والأمنية والدفاع عن القيم الديمقراطية المشتركة، وأضافت في تغريدات عبر موقع تويتر أن أمريكا لا تزال ثابتة في التزامها تجاه شعب تايوان ولعقود مقبلة، ثم جاءت زيارة 5 نواب أمريكيين تايوان، وتم لقاء رئيسة تايوان تساي إنغ وين ونواب آخرين، وذلك لإظهار الدعم لتايوان في ظل تصاعد التوترات في مضيق تايوان.

التعليق:

نشأت تايوان ككيان منفصل عن بقية الصين، إثر فرار حكومة حزب الكومينتانغ بعد انهيار سلطتها في البر الرئيسي للصين عام 1949 أمام قوات الحزب الشيوعي، وادعت هذه الفئة أنها تمثل كامل الصين، في حين ادعت حكومة الحزب الشيوعي أنها الممثل الوحيد لكامل التراب الصيني، لذا فمسألة صين واحدة كانت محل اتفاق بين الخصمين مع ادعاء كل منهما أنه الممثل الرسمي والشرعي لكامل التراب الصيني، وبصفة عامة ظلت سياسة الصين الواحدة هي السياسة الرسمية لتايوان حتى بداية التسعينات حيث أكد حزب الكومينتانغ الذي أسس تايوان، على أن كلاً من جمهورية الصين الشعبية وجمهورية الصين قد اتفقتا على وجود صين واحدة، لكنهما اختلفتا حول ما إذا كانت الصين تمثلها جمهورية الصين الشعبية، أم جمهورية الصين (تايوان).

ولبيان وتجلية الأمور نقول: في عام 1979 ألغت أمريكا برئاسة جيمي كارتر الاعتراف بجمهورية الصين وأقرت بحكومة بكين كممثل وحيد للصين، ومع ذلك رفضت الاعتراف بالسيادة الصينية على تايوان (مركز الدراسات الاستراتيجية والدولية (CSIS) الأمريكي). وهذا يعني أن واشنطن لا توافق على مطالبة بكين بالسيادة، ولا تتفق مع تايبيه على أن جمهورية الصين دولة مستقلة وذات سيادة.

وعلى إثر الاعتراف بالصين الشعبية أقر الكونغرس الأمريكي 1979 "قانون العلاقات مع تايوان" الذي نظم العلاقات مع الجزيرة والمصالح الأمنية والتجارية للولايات المتحدة. وحسب وزارة الخارجية الأمريكية فإن تايوان "كدولة ديمقراطية رائدة وقوة تكنولوجية تعد شريكا رئيسيا للولايات المتحدة في منطقة المحيطين الهندي والهادئ". وبموجب قانون الكونغرس، يتعين على الولايات المتحدة بيع الإمدادات العسكرية لتايوان لضمان دفاعها عن النفس ضد القوات المسلحة الأكبر حجما في بكين.

إن استراتيجية الغموض مسألة متعمدة من جانب الولايات المتحدة؛ ففي الوقت الذي ترفض فيه عودة تايوان إلى الصين، وهذه حقيقة الأمر في سياستها بعيداً عن الغموض، في الوقت نفسه تستخدم أسلوبا مراوغاً منذ بداية الأمر بالتلاعب بالألفاظ والوقت وقصة صين واحدة التي أضحت واضحة لكل ذي لب، وإلا فما معنى إبرام الاتفاقيات مع تايوان والحديث عن الدفاع عنها ومدها بالسلاح وتهديد الصين في حالة لجأت إلى القوة؟! فهي استطاعت التلاعب بالصين لعشرات السنين في استراتيجية غامضةٍ على جاهل واضحةٍ لعقلية صاحب الحكم؛ من أجل المحافظة على بقاء الأمور كما هي أحسن ساعة.

 يقول البروفيسور ستيف غولدستين مدير ورشة الدراسات التايوانية بمركز فيربانك للسياسات الصينية بجامعة هارفارد: إن هذه السياسة "تخلق نوعا من الرادع المزدوج، فكلا الطرفين يحجم عن تعريض الوضع الراهن للخطر من خلال التدخل المحتمل للولايات المتحدة، في حين يشعر بالاطمئنان إلى أن الطرف الآخر لن يحاول تغيير الوضع الراهن من جانب واحد. ومن ثم فإن تايوان تحجم عن قلب الأوضاع لأنها تعلم أنها ستتلقى الدعم في حال تعرضها لهجوم غير مبرر من بر الصين، كما تحجم الصين عن تغيير الوضع الراهن خشية تدخل محتمل من قبل الولايات المتحدة".

ولكن حديث الصين عن اقتراب الضم وعودة الأرض المتمردة للوطن، جعل البعض يظن أن الولايات المتحدة تراجعت عن سياسية الغموض، وهي لا زالت ثابتة عليها نتيجة ضعف العقلية السياسية الصينية والواقعية المقيتة والخوف من تدخل الولايات المتحدة عسكرياً، وأمريكا تدرك هذا، فقامت أمريكا بتصريحات حادة تجاه الصين والتهديد بالتدخل العسكري ودعم تايوان، سواء أكانت هذه تصريحات من بايدن أو بيلوسي أو أعضاء في الكونغرس أو تصريحات لحلفاء أمريكا في المنطقة مثل رئيس وزراء اليابان السابق شينزو آبي الذي كتب مقالاً يذكر فيه أن هذه السياسة تعزز عدم الاستقرار في منطقة المحيطين الهندي والهادئ من خلال جعل الصين تستهين بجدية رغبة الولايات المتحدة في التدخل العسكري، وجعل تايوان تشعر بالقلق في الوقت ذاته.

ويضيف آبي أن المجتمع الدولي أذعن في النهاية لضم روسيا شبه جزيرة القرم، "رغم اعتداء روسيا على أراضي دولة ذات سيادة هي أوكرانيا"، ويمضي في القول بأنه بالنظر لأن غالبية دول العالم لا تعترف بتايوان كدولة ذات سيادة، فإنه لن يكون مستغرباً أن يعول الزعماء الصينيون على أن يكون العالم أكثر تهاوناً إذا ما قاموا بضم أراض يعتبرونها جزءاً من بلادهم.

وفي الختام فإن سياسة الغموض لا زالت ثابتة وتؤتي أكلها بشكل جيد في ثبات الأمور على ما هي عليه، وهذا بدوره يعكس مدى ضعف الصين تجاه أخطر مسألة تعتبرها مسألة حياة أو موت، وهذا الضعف له آثاره وتبعاته على الصين داخلياً وخارجياً في المنطقة، وفي ثبات سياسة الاحتواء الاستراتيجية الوحيدة تجاه الصين منذ عشرات السنين، وإلا فإن الصين إذا أقدمت على المجازفة وضم تايوان بالقوة ففي هذه الحالة ستلغي أمريكا سياسة الغموض وتقوم بالدفاع عن تايوان مع الحلفاء في المنطقة، وهذا هدف آخر ومطلوب، وهو شكل آخر من استراتيجية الاحتواء بمحاولة جرّ الصين لضم تايوان بالقوة وتفعيل أمريكا لجميع الأوراق والأدوات والعملاء ضد الصين، وهذا واضح، ويبدو أنها تعمل لمحاولة ارتكاب الصين هذا الخطأ من وجهة نظرها، لأنه سيكون أقوى بالرد والتعامل وتفعيل سياسة الاحتواء بكامل أشكالها وأدواتها، أما إن بقيت الصين تطالب وتهدد بالأقوال وعلو الصوت وتكتفي ببعض العقوبات التي لا ترتقي لمسألة تعتبرها مسألة حياة أو موت فإن سياسة الغموض الاستراتيجية باقية وتتمدد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست