تداعي نظام التعليم العلماني في هونغ كونغ (مترجم)
تداعي نظام التعليم العلماني في هونغ كونغ (مترجم)

الخبر: ذكرت وكالة صباح جنوب الصين الإخبارية في 12 شباط/فبراير نبأ وفاة طالب مدرسي عقب سقوطه من أعلى سطح مبنى سكني في ما أون شان. هذه الحادثة هي الثالثة لوفاة مراهق في مثل هذه الظروف خلال ثمانية أيام. الولد الذي يبلغ 15 عاما سقط من مبنى كام بونغ في ساحة كام تاي على طريق نينغ تاي حوالي الساعة العاشرة صباحا. وفاة الولد جاءت بعد وفاة اثنين آخرين من طلاب المدارس بعد عطلة السنة القمرية الجديدة. والآن فإن مكتب التربية ينظر بجدية إلى تطبيق التوصيات من لجنة منع انتحار الطلاب، والتي تم تأسيسها بعد انتشار ظاهرة الانتحار بين طلاب المدارس بشكل كبير السنة الماضية.

0:00 0:00
Speed:
February 21, 2017

تداعي نظام التعليم العلماني في هونغ كونغ (مترجم)

تداعي نظام التعليم العلماني في هونغ كونغ

(مترجم)

الخبر:

ذكرت وكالة صباح جنوب الصين الإخبارية في 12 شباط/فبراير نبأ وفاة طالب مدرسي عقب سقوطه من أعلى سطح مبنى سكني في ما أون شان. هذه الحادثة هي الثالثة لوفاة مراهق في مثل هذه الظروف خلال ثمانية أيام. الولد الذي يبلغ 15 عاما سقط من مبنى كام بونغ في ساحة كام تاي على طريق نينغ تاي حوالي الساعة العاشرة صباحا. وفاة الولد جاءت بعد وفاة اثنين آخرين من طلاب المدارس بعد عطلة السنة القمرية الجديدة. والآن فإن مكتب التربية ينظر بجدية إلى تطبيق التوصيات من لجنة منع انتحار الطلاب، والتي تم تأسيسها بعد انتشار ظاهرة الانتحار بين طلاب المدارس بشكل كبير السنة الماضية. حيث ينظرون إلى طرق جديدة لتمكين المدارس من توفير رعاية أفضل للصحة النفسية لدعم طلاب المدارس، كما تقترح العمل بشكل أكبر على ترويج إنجازات الطلاب اللامنهجية. حيث إن هناك أكثر من 70 حالة انتحار لطلاب المدارس منذ 2013.

يعتبر كثيرون أن اللوم الأكبر يقع على نظام التعليم الشديد في هونغ كونغ، حيث يركّز كثيرا على التقييم المبني على أساس العلامات مما يشكل ضغطا كبيرا على الطلاب، حيث يؤكد الخبراء أن قضية انتحار الشباب هي قضية معقدة وأن أصولها وُجدت في وقت أبكر بكثير مما نتوقع. وقد وصفت تشان يو لينغ، وهي تلميذة شابة في مدرسة دولية، بأن المدارس المحلية أشبه ما تكون "بسجن". "لقد كانت المدرسة كالسجن بالنسبة لي. لم يكن من المسموح لي أن أتجول في الأنحاء، ولا أن أشرب الماء، أو أن آكل، أو أن أذهب إلى المرحاض، أو حتى أن أتحدث بشكل عشوائي مع أي أحد داخل الصف. لم أتمكن حتى من الركض خلال الاستراحة". وأضافت بأنها في إحدى المرات استمرت في أداء واجبها المدرسي إلى حوالي منتصف الليل.

التعليق:

إن واحدة من خصائص نظام التعليم العلماني الرأسمالي هي التركيز المبالغ فيه على مادة وكمية الإنجاز الأكاديمي. إن دولة متقدمة اقتصاديا مثل هونغ كونغ قد لا تواجه مشاكل تتعلق بنقص المرافق التعليمية، أو الطاقم التعليمي، أو توفّر الوسائل التكنولوجية في المدارس. إلا أن هذه الدولة الرأسمالية تواجه قضايا أساسية أكبر من تلك المشاكل. فعلى سبيل المثال: سوء الهدف التعليمي؛ حيث فشل التعليم العلماني في هونغ كونغ منذ محاولته لتحديد الهدف الأسمى للتعليم، وكنتيجة لذلك فشلوا بشكل واضح في إنتاج أناس يتمتعون بصحة نفسية سليمة وشخصية قوية، وعلى النقيض، فإن نظامهم التعليمي أصبح بوابات موت لجيل المستقبل.

حيث إن التعليم البعيد عن الدين، والذي أصبح سلعة للتجارة الرأسمالية، لن يكون قادرا على بناء وتطوير ورفع الكرامة الإنسانية في حياة البشر، بل على العكس، فإن النظام التعليمي أصبح خادما لتوفير الربح من أجل التجارة. بالإضافة إلى أن النظام التعليمي الذي يركّز فقط على الأهداف الفردية، سيعلم الأفراد من أجل تمكينهم من الحصول على وظيفة بهدف تحقيق النجاح الشخصي، لكن شخصياتهم ستفتقر إلى الأخلاق والكرامة. وهذا يوقع العديد من أبناء الجيل الجديد في قضايا نفسية ومشاكل مجتمعية مثل تعاطي المخدرات، والزنا، والشجارات وغيرها من القضايا. ومن الواضح أن هذا الوضع بعيد كل البعد عن إيجاد مجتمع يتمتع بحياة شريفة.

وفي هذا تناقض صارخ مع الإسلام، حيث يعرّف الشيخ نقوب العطّاس بأن: "الهدف من التعليم في الإسلام هو خلق إنسان جيد... إن العنصر الأساسي المتوارث في مفهوم الإسلام للتعليم هو غرس الأدب". فمن هو الإنسان الجيد أو المتحضر؟ فحسب وجهة نظر الإسلام، هو الإنسان الذي يعرف ربه، ويعرف نفسه، ويتخذ الرسول محمداً rقدوة حسنة له، كما يتبع سيرة خليفة رسول الله rفي الأمة، بالإضافة إلى غيرها من صفات الإنسان الجيد.

إن التعليم في الإسلام هو جهد واعٍ ومبنيّ ومبرمج ومنظم بهدف تحقيق أهداف التعليم. وقد تم رسم هدف التعليم من قبل الشريعة الإسلامية لبناء إنسان تقيّ يمتلك الشخصية الإسلامية، والتي تتكون من العقلية (الأفكار) والتصرفات (السلوكيات) المبنية على العقيدة الإسلامية، لخلق العلماء، والمفكرين، والخبراء بأعداد وافرة في كل مجال من مجالات الحياة والتي هي مصدر الفائدة للناس، الذين يخدمون المجتمع والحضارة - والذين سيجعلون من الدولة الإسلامية دولة متصدرة وقوية وذات سيادة حيث يسيطر الفكر الإسلامي على العالم. وبهدف كهذا للتعليم، فإن الجيل الذي سينتج عن التعليم الإسلامي هو جيل يتمتع بالتقوى والانقياد والطاعة لأوامر الله سبحانه وتعالى، وليس جيلا يفتقر للأخلاق وضعيفا ولا يغار على دينه. هذا هو الهدف الحقيقي الذي سيؤمّن التقدم والكرامة للمجتمع إن شاء الله.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست