تدابير قيس سعيّد الاستثنائية وحل المعضلة التونسية
تدابير قيس سعيّد الاستثنائية وحل المعضلة التونسية

الخبر:أصدر الرئيس التونسي قيس سعيد يوم 2021/9/22 أمرا رئاسيا يتعلق بتدابير استثنائية يتولى هو بموجبها إعداد مشاريع التعديلات المتعلقة بالإصلاحات السياسية وتضم هذه التدابير: "مواصلة تعليق جميع اختصاصات مجلس نواب الشعب، ومواصلة رفع الحصانة البرلمانية عن جميع أعضائه، ووضع حد لكافة المنح والامتيازات المسندة لرئيس مجلس النواب وأعضائه،

0:00 0:00
Speed:
September 30, 2021

تدابير قيس سعيّد الاستثنائية وحل المعضلة التونسية

تدابير قيس سعيّد الاستثنائية وحل المعضلة التونسية


الخبر:


أصدر الرئيس التونسي قيس سعيد يوم 2021/9/22 أمرا رئاسيا يتعلق بتدابير استثنائية يتولى هو بموجبها إعداد مشاريع التعديلات المتعلقة بالإصلاحات السياسية وتضم هذه التدابير: "مواصلة تعليق جميع اختصاصات مجلس نواب الشعب، ومواصلة رفع الحصانة البرلمانية عن جميع أعضائه، ووضع حد لكافة المنح والامتيازات المسندة لرئيس مجلس النواب وأعضائه، والتدابير الخاصة بممارسة السلطة التشريعية، والتدابير الخاصة بممارسة السلطة التنفيذية، بالإضافة إلى مواصلة العمل بتوطئة الدستور وبالبابين الأول والثاني منه وبجميع الأحكام الدستورية التي لا تتعارض مع هذه التدابير الاستثنائية، إضافة إلى إلغاء الهيئة الوقتية لمراقبة دستورية القوانين، على أن يتولى رئيس الجمهورية إعداد مشاريع التعديلات المتعلقة بالإصلاحات السياسية بالاستعانة بلجنة يتم تنظيمها بأمر رئاسي"، وأعلن عن "زيادة صلاحيات رئيس الجمهورية بأن يتولى ترؤس مجلس الوزراء، وله أن يفوض لرئيس الوزراء ترؤسه، ويسهر رئيس الجمهورية على تنفيذ القوانين ويمارس السلطة الترتيبية، وله أن يفوض كامل هذه السلطة أو جزءا منها لرئيس الحكومة. ويمارس رئيس الجمهورية خاصة الوظائف التالية: القيادة العليا للقوات المسلحة، وإشهار الحرب وإبرام السلام بعد مداولة مجلس الوزراء، وإحداث وتعديل وحذف الوزارات وكتابات الدولة والمؤسسات العمومية والمصالح الإدارية وضبط اختصاصاتها وصلاحياتها، وإقالة عضو أو أكثر من أعضاء الحكومة أو البت في استقالته، واعتماد الدبلوماسيين للدولة في الخارج، وقبول اعتماد ممثلي الدول الأجنبية لديه، والتعيين والإعفاء في جميع الوظائف العليا والمصادقة على المعاهدات والعفو العام، ولرئيس الجمهورية أن يعرض على الاستفتاء أي مشروع مرسوم وإذا ما اقتضى الاستفتاء إلى المصادقة على المشروع فإن رئيس الجمهورية يصدره في أجل لا يتجاوز 15 يوما من تاريخ الإعلان عن نتائج الاستفتاء".

التعليق:


الكثيرون قالوا إن هذه التدابير والإجراءات تخالف دستور تونس لعام 2014. ولكن إذا دققنا في هذا الدستور فنراه غامضا في موضوع السلطة التنفيذية التي هي مدار البحث. فيقول الفصل رقم 71 "يمارس السلطة التنفيذية رئيس الجمهورية وحكومة يرأسها رئيس الحكومة". فإذن هناك رأسان على رأس السلطة التنفيذية! وذلك سوف يؤدي إلى التنازع كما حدث قبل انقلاب سعيّد في 2021/7/25 وبعد انقلابه هذا على جزء من السلطة التنفيذية وعلى السلطة التشريعية وهي البرلمان. فعندما انقض على كافة السلطات اعتبر تدابيره أنها تساير الدستور بسبب هذا الغموض. والفصل رقم 77 يعطيه حق حل البرلمان! فهناك غموض في ممارسة السلطة التنفيذية وتداخل في الصلاحيات وعند ممارسة الصلاحيات يبدو التناقض والنقص.


وهذا يثبت أن البشر عاجزون مهما سمت عبقرياتهم، فإن التناقض والنقص سيظهران، وقد ظهرا في دستور تونس. فهذا الدستور وضعه بشر عاجزون، وهو لا يستند إلى أسس شرعية يؤمن بها الشعب تمثل مجموعة المفاهيم والمقاييس والقناعات التي تنبثق من الإسلام دين الشعب التونسي، بل وضع تحت رقابة ممثلي دول الكفر الاستعمارية وأُخرج بعلمهم وصدر بمباركتهم. فهو ليس كما افترى راشد الغنوشي بعد وضعه عام 2014 بأنه أفضل دستور بعد دستور رسول الله ﷺ الذي وضع في المدينة المنورة! علما أن الرسول ﷺ كتب كتابا حدد فيه العلاقات بين فئات الناس وكيفية التعامل معهم. فقد جعل المهاجرين والأنصار ومن تبعهم من المؤمنين أمة من دون الناس. وأما اليهود وغيرهم من الكفار فعليهم أن يتحاكموا إلى الله ورسوله لا غير، وألا يخرجوا من المدينة إلا بإذن محمد ﷺ ولا يتعاونوا مع أية قوة أجنبية.


وأما دستور تونس فهو بعيد كل البعد عن كتاب الله وسنة رسوله. فقد أكد النظام الغربي الجمهوري والديمقراطي، وأن الشعب صاحب السيادة ومصدر السلطات أي أن التشريع للبشر، وأكد الدولة المدنية التي تعني الدولة التي لا يكون أساسها الدين، أي التي تفصل الدين عن الدولة.


وعندما يأتي قيس سعيّد وهو أستاذ دستور، وهو يدرك حقيقة هذه الدساتير وهي بشرية وهو من البشر، فيسهل عليه أن يخالفه تحت مسمى تدابير استثنائية! وإن كانت مخالفته لم تأت إلى الأسس، وإنما أقر أساس الدستور غير القائم على الإسلام، ولكنه تعرض لنظام الحكم فيه ليعزز صلاحياته حتى يتمكن من التأثير في سياسة البلد ويتمكن من خدمة المصالح الفرنسية في الداخل وفي الخارج. إذ إنه أظهر ارتباطا بفرنسا، ودافع عن استعمارها لتونس ولم يعتبره استعمارا، علما أن تونس ما زالت مستعمرة فكريا وسياسيا واقتصاديا للدول الغربية ومؤسساتها التي تتحكم فيها.


ولهذا فلا قيمة للدستور في نظر قيس بن سعيّد لأنه يدرك أن بشرا مثله وضعوه، ولا قيمة له في نظر المنتقدين له بأنه خالف الدستور، فهم يدركون أنه دستور بشري يمكن التلاعب به، فيريدون أن يتمسكوا به للحفاظ على مناصبهم ومصالحهم. ولهذا لا ابن سعيّد على حق، ولا المنتقدين له على حق، فكلاهما "في الهوى سوى"! ﴿فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءهُمْ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾.


وعليهم أن يرجعوا عن غيهم وضلالهم، وأن يلتزموا بالدستور الإسلامي المستنبط من كتاب الله وسنة رسوله ﷺ والذي قدمه حزب التحرير للناس وبيّن الأسباب الموجبة له، فهو واضح كل الوضوح؛ فلا غموض فيه ولا تداخل في الصلاحيات ولا تناقض ولا تشاكس. فالخليفة هو صاحب الصلاحيات ومعاونو التفويض يساعدونه في ذلك. والجميع يلتزم به ويطبقه لأنه أوامر ونواه من الله سبحانه وتعالى. ﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست