تدّعون الدّفاع عن المرأة وحقوقها وأنتم من يتاجر بقضيّتها ويحطّ من شأنها
تدّعون الدّفاع عن المرأة وحقوقها وأنتم من يتاجر بقضيّتها ويحطّ من شأنها

الخبر:   حذّرت الأمم المتّحدة في تقرير صدر الأربعاء من أنّ حرمان النّساء من العمل في أفغانستان سيفاقم الأزمة الاقتصاديّة "الكارثيّة" التي غرقت فيها البلاد بعد الانسحاب الغربيّ وعودة طالبان إلى السّلطة. وأشار برنامج الأمم المتّحدة الإنمائيّ في تقريره "الآفاق الاجتماعية والاقتصادية لأفغانستان 2021- 2022" بحسب ما نقلت فرانس برس إلى أنّ الأزمة الاقتصاديّة والإنسانيّة في أفغانستان "تتفاقم" و"يجب أن نواجهها لإنقاذ أرواح" مهدّدة بالفقر والمجاعة. (العربيّة 01/12/2021)

0:00 0:00
Speed:
December 04, 2021

تدّعون الدّفاع عن المرأة وحقوقها وأنتم من يتاجر بقضيّتها ويحطّ من شأنها

تدّعون الدّفاع عن المرأة وحقوقها وأنتم من يتاجر بقضيّتها ويحطّ من شأنها

الخبر:

حذّرت الأمم المتّحدة في تقرير صدر الأربعاء من أنّ حرمان النّساء من العمل في أفغانستان سيفاقم الأزمة الاقتصاديّة "الكارثيّة" التي غرقت فيها البلاد بعد الانسحاب الغربيّ وعودة طالبان إلى السّلطة. وأشار برنامج الأمم المتّحدة الإنمائيّ في تقريره "الآفاق الاجتماعية والاقتصادية لأفغانستان 2021- 2022" بحسب ما نقلت فرانس برس إلى أنّ الأزمة الاقتصاديّة والإنسانيّة في أفغانستان "تتفاقم" و"يجب أن نواجهها لإنقاذ أرواح" مهدّدة بالفقر والمجاعة. (العربيّة 2021/12/01)

التّعليق:

سلّط تقرير حديث نشرته منظّمة الأمم المتّحدة للطّفولة (اليونيسيف) الضّوء على تفاقم الأزمة في أفغانستان؛ إذ ذكر التّقرير أنّ "جائحة كورونا وأزمة الغذاء المستمرّة وقرب فصل الشّتاء قد أدّت إلى تفاقم ظروف الأسر الأفغانيّة"، وأضاف التّقرير أنّه "في عام 2020، كان قرابة نصف سكّان أفغانستان في حالة فقر لدرجة أنّهم كانوا يفتقرون إلى الاحتياجات الأساسيّة مثل الغذاء ومياه الشّرب النّظيفة"، كما أنّ سيطرة طالبان على السّلطة أدّت إلى تجميد المساعدات والمنح الخارجيّة التي تشكّل 75% من حجم الإنفاق العام.

بوصولها إلى الحكم واجهت حركة طالبان عراقيل وصعوبات عدّة لدفع الرّواتب المستحقّة لموظّفي الدّولة وسط ارتفاع أسعار المواد الغذائيّة وأزمة سيولة تعصف بالمصارف الأفغانيّة. وهو ما دفعها للاستنجاد بأمريكا التي يمكنها "لضمان الأمن أن تستثمر في قطاعات التّصنيع والزّراعة والتّعدين".

 ورد في الرّسالة المفتوحة التي أرسلتها حكومة الحركة باسم وزير خارجيّتها متقي خان إلى الكونغرس الأمريكيّ يوم 2021/11/17: "نطالب الكونغرس الأمريكي باتّخاذ خطوات تساهم بفتح الأبواب أمام العلاقات المستقبليّة وإزالة تجميد أصول البنك المركزيّ الأفغانيّ (9,5 مليار دولار) ورفع العقوبات"! فكيف تجعل الحركة لأمريكا عليها سبيلا وتعيد لها الحقّ في الاستثمار وفرض هيمنتها من جديد؟! كما جاء في الرسالة: "هناك حاجة إلى خطوات متبادلة لبناء الثّقة يجب على أمريكا رفع عقوباتها، وإلا ستكون كارثة وهجرة جماعية في الشتاء، ما سيخلق مشاكل جديدة للمجتمع"! أتعيد علاقاتها مع أمريكا حتّى ترفع عنها العقوبات؟! إنّها تفتح الباب على مصراعيه من جديد لدولة استعماريّة لم تتوان عن قتل الملايين من أجل تحقيق مصالحها وفرض سيطرتها وهيمنتها. أليست هي التي أذاقت أهل أفغانستان الويلات وهي من جعلتهم يحيون في ظروف معيشيّة صعبة طوال ما يقارب 20 سنة؟!

 أيّ هوان هذا لحركة تدّعي أنّها تريد إقامة إمارة إسلاميّة؟! كيف تأمن لمن لم يرقبوا في المسلمين إلّا ولا ذمّة وقتلوا منهم الآلاف خلال حربهم في أفغانستان؟!

إن العزّة لله ولرسوله وللمؤمنين فلا يُذلّ ولن يذلّ من تمسّك بدين الله؛ "نحن قوم أعزّنا الله بالإسلام"، ﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾.

أمام هذه المزايدات والمساومات تحرّكت مجموعة العشرين والاتّحاد الأوروبّيّ والحكومة الألمانيّة لمعالجة ما أطلقوا عليه اسم "الأزمة الإنسانيّة في أفغانستان" وتعهّدوا بتقديم مساعدات، وأكّدت المستشارة الألمانية ميركل عدم استعداد بلادها للاعتراف بحكم طالبان. تحرّك هؤلاء بعد سيطرة هذه الحركة الإسلاميّة على الحكم ليقدّموا مساعدات وكأنّ ما تمرّ به أفغانستان من أزمات لم يكن ليتفاقم لو لم تصل هذه الحركة إلى الحكم! وهو ما تفنّده تصريحات ووقائع عدّة؛ ففي تصريح لبي بي سي، قال سيّد موسى كليم الفلاحي، المدير التّنفيذيّ لبنك أفغانستان الإسلاميّ، إنّ القطاع الماليّ في أفغانستان في قبضة "أزمة وجوديّة" بسبب الهلع الذي يسيطر على العملاء. فالاقتصاد في أفغانستان يمرّ بأزمة طاحنة بالفعل حتّى قبل سيطرة طالبان على الحكم في آب/أغسطس الماضي.

لقد سُلِّطت الأضواءُ في ظلّ تغيّر الوضع السّياسيّ في أفغانستان على المرأة في سعي متواصل من الغرب لضرب مفاهيم الإسلام واستهجانها وتشكيك المرأة المسلمة في أفغانستان في أحكام دينها ودفعها للتّمرّد عليها ورفضها.

فما تقوم به حركة طالبان من منع للمرأة من العمل أو الحدّ منه وعدم السّماح للفتيات بالتّعليم هو ما جعلها تُنعَتُ بالتّشدّد ممّن يريدون أن يحقّقوا أهدافهم الدّنيئة للنّيل من الإسلام من خلالها كحركة تمثّل الإسلام. هي ممارسات تقوم بها الحركة والإسلام منها براء فقد حثّ الإسلام على طلب العلم ولم يفرّق في ذلك بين ذكر أو أنثى وسمح للمرأة بالخروج للعمل ما دامت لا تحيد عن الضّوابط التي حدّدها لها الشّرع.

مفاهيم مغلوطة ومزيّفة لا هدف من ورائها سوى مواصلة الحرب التي أعلنتها الحضارة الغربيّة على الإسلام لتظهره "متخلّفا" ينتهك حقوق المرأة ويحقّرها ويحرمها من التّعليم والعمل... هي مساعٍ حثيثة للحطّ من قدرته على إخراج أفغانستان وغيرها من دول المسلمين ممّا يعانيه النّاس من مشاكل اقتصادية ومن صعوبة العيش من خلال إيصال ما أطلقوا عليه "حركات إسلاميّة" إلى الحكم فتحكم بغير الإسلام أو تقتطع بعض أحكامه لتظهر بمظهر الحاكمة به وهو ما يخالف طبيعة هذا الدّين العظيم الذي جاء كلّا لا يتجزّأ؛ أحكامه مترابطة متسلسلة لا تفكّ عقدها... وبتنفيذها تسعد أمّة الإسلام والبشريّة جميعا فهي الرّحمة التي أرسلها الله سبحانه وتعالى للعالمين.

إنّ من تتحرّك من النّساء في أفغانستان هنّ النّساء العلمانيّات اللّاتي وظّفهنّ الغرب لتنفيذ مخطّطاته لصرف المرأة المسلمة عن إسلامها، وهنّ يعملن لا في أفغانستان فقط بل في كلّ بلاد المسلمين... يعملن بجدّ لينفثن سموم الحضارة الغربيّة في عقول النّساء المسلمات وهنّ فئة لقيطة تسعى لكسب من يؤيّدنها من أصحاب النّفوس الضّعيفة ونسأل الله أن يهدي نساء المسلمين وبناتهم وأن يثبّتهنّ على طاعته ولا ينسقن وراء هذه المفاهيم الفاسدة المفسدة والمضلّلة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلاميّ المركزيّ لحزب التّحرير

زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست