تفجيرات الكنائس في مصر لتحقيق أهداف سياسية دنيئة
تفجيرات الكنائس في مصر لتحقيق أهداف سياسية دنيئة

نقلت وكالة أنباء الشرق الأوسط المصرية الرسمية عن مصدر مسؤول أن "انتحاريا" يشتبه في تنفيذه التفجير في كنيسة مارجرجس الذي خلف - بحسب حصيلة أولية - مقتل 25 شخصا وأكثر من 59 مصابا. وخلال ساعات من التفجير الأول، استهدف تفجير آخر محيط الكنيسة المرقسية (المقر البابوي) في محافظة الإسكندرية، ونجا من التفجير بابا الأقباط الأرثوذكس بمصر تواضروس الثاني الذي كان موجودا هناك. وخلف التفجير مقتل 13 شخصا وجرح أكثر من ثلاثين، بحسب حصيلة أولية. وتزامنا مع ترؤس بابا الكنيسة المصرية تواضروس الثاني قداس "أحد الشعانين" في المقر البابوي بالإسكندرية، وهو الأحد السابع والأخير من الصوم الكبير الذي يسبق عيد الفصح أو القيامة عند النصارى.

0:00 0:00
Speed:
April 12, 2017

تفجيرات الكنائس في مصر لتحقيق أهداف سياسية دنيئة

تفجيرات الكنائس في مصر لتحقيق أهداف سياسية دنيئة

الخبر:

نقلت وكالة أنباء الشرق الأوسط المصرية الرسمية عن مصدر مسؤول أن "انتحاريا" يشتبه في تنفيذه التفجير في كنيسة مارجرجس الذي خلف - بحسب حصيلة أولية - مقتل 25 شخصا وأكثر من 59 مصابا. وخلال ساعات من التفجير الأول، استهدف تفجير آخر محيط الكنيسة المرقسية (المقر البابوي) في محافظة الإسكندرية، ونجا من التفجير بابا الأقباط الأرثوذكس بمصر تواضروس الثاني الذي كان موجودا هناك. وخلف التفجير مقتل 13 شخصا وجرح أكثر من ثلاثين، بحسب حصيلة أولية. وتزامنا مع ترؤس بابا الكنيسة المصرية تواضروس الثاني قداس "أحد الشعانين" في المقر البابوي بالإسكندرية، وهو الأحد السابع والأخير من الصوم الكبير الذي يسبق عيد الفصح أو القيامة عند النصارى.

التعليق:

منذ أن دخل الإسلام مصر في عهد عمر بن الخطاب في القرن السابع الميلادي، وحكمت مصر بنظام الإسلام الذي وفر الأمن والعدل للنصارى الأقباط على مدى ثلاثة عشر قرنا من الزمان، وقد شجع ذلك الأقباط على الدخول في الإسلام ولم تبق إلا نسبة قليلة منهم على نصرانيتهم لم يفتنوا عنها.

ولكن بعد القضاء على الخلافة العثمانية ووقوع مصر كغيرها من بلاد المسلمين تحت الاستعمار الأوروبي كثرت حوادث الاعتداء على النصارى وكنائسهم، وإذا تتبعت الأمر وجدت أن الغرب الكافر هو خلف هذه الاعتداءات لكنهم على الطريقة الإنجليزية التي تحارب بيد عدوها كانوا يستخدمون أتباعهم في القيام بالاعتداءات تحقيقا لأغراض سياسية.

وفي هذا السياق نفهم الاعتداءات على النصارى وكنائسهم في ظل الأنظمة الطاغوتية خاصة مبارك والسيسي وذلك لتحقيق أهدافهم السياسية.

ففي شباط/فبراير 2017 وقعت سلسلة هجمات استهدفت النصارى في محافظة شمال سيناء وفي 11 كانون الأول/ديسمبر 2016 وقع تفجير في مكان مخصص للنساء بالكنيسة البطرسية الملحقة في مجمع كاتدرائية الأقباط الأرثوذكس بحي العباسية في القاهرة، وفي 14 آب/أغسطس 2013 حدثت سلسلة هجمات استهدفت كنائس بالتزامن مع فض قوات الأمن لاعتصامي رابعة العدوية والنهضة. وفي 20 تشرين الأول/أكتوبر 2013 وقع هجوم مسلح استهدف كنيسة في محافظة الجيزة، كما أن عددا من الكنائس استهدفت في بعض المحافظات المصرية إثر الانقلاب الذي أطاح بالرئيس محمد مرسي في الثالث من تموز/يوليو 2013، ومنها حرق كنيسة في منطقة كرداسة بمحافظة الجيزة، وذلك عقب فض اعتصام رابعة.

وفي عهد مبارك وقع حادث تفجير في الأول من كانون الثاني/يناير 2011 استهدف كنيسة القديسين بالإسكندرية عشية احتفالات رأس السنة، وقتل فيه 24 شخصا وأصيب أكثر من مئة، ونُسب الهجوم أولا إلى تنظيم القاعدة، ثم حاولت وزارة الداخلية المصرية إلصاقه بجماعات جهادية في قطاع غزة، وتبين بعد الثورة أنه ربما يكون من تدبير وزارة الداخلية خلال ولاية حبيب العادلي. وفي 7 كانون الثاني/يناير 2010 تم مقتل سبعة بينهم مساعد شرطة وسقوط عشرات الجرحى أمام كنيسة بمدينة نجع حمادي محافظة قنا (جنوبي مصر) إثر هجوم مسلحين على تجمعات من الشباب في ثلاث مواقع مختلفة عقب دقائق من انتهاء قداس عيد الميلاد.

أما الأهداف الدنيئة التي تسعى لتحقيقها الدول التي تقف خلف التفجيرات؛ فمنها إعادة تقسيم البلاد تقسيما جديدا، وكما قسمت السودان إلى دولتين فربما يراد تقسيم مصر أيضا إلى دولتين أو أكثر، فقد سبق تقسيمَ السودان اعتداءاتٌ متكررة على النصارى وكنائسهم؛ ففي عام 1985، تم قتل القساوسة وقادة الكنيسة، وتدمير القرى النصرانية، وكذلك الكنائس والمستشفيات والمدارس النصرانية، وتم تفجير عدد من الكنائس، أدت إلى وقوع حرب بين الشماليين والجنوبيين ثم انتهت الحروب بإعلان انفصال جنوب السودان عن شمالها عام 2012 وإقامة كيان للنصارى فيه.

ومن الأهداف أيضا إعادة الناس إلى بيت الطاعة بعودة الأحكام العرفية وأحكام الطوارئ إلى الوجود بعد أن أطاح الربيع العربي بها، هذه الأنظمة الطاغوتية التي لا تستطيع العيش إلا بحكم الناس بالحديد والنار، كما أن السيسي يهدف من وراء التفجيرات دعمه في محاربته (للإرهاب)، ذلك العدو الذي صنعته أيدٍ مخابراتية قذرة في كافة البلاد لإعادة تركيع الشعوب والحصول على الأموال القذرة التي تمكنهم من العيش ببذخ وترف على حساب دماء الآخرين.

أمر أخير أود الإشارة إليه وهو الكم الهائل من الاستنكار والتنديد والوعيد عندما يقتل نصراني أو يهودي، بينما مئات الألوف من المسلمين يعذبون ويجوعون ويقتلون والملايين منهم يهجرون ويشردون ليموتوا في البرد والحر دون أن نسمع صوتا يندد أو يستنكر إلا على استحياء، وكأن العالم أصيب بالصمم والبكم، بل ان الدول تنسى صراعها على مصالحها وتتحد على مقاتلة عدو واحد هو الإسلام والمسلمين. ولن يتخلص المسلمون من هذا العذاب إلا بالعودة إلى دين الله بتطبيقه في حياة الأمة والمجتمع والدولة عن طريق إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست