تفوّق أمريكا على دول العالم: أمر لا تدعمه الحقائق ولا التّاريخ
تفوّق أمريكا على دول العالم: أمر لا تدعمه الحقائق ولا التّاريخ

الخبر:   الحقيقة المرّة أنّه لا يكاد يمرّ يوم إلاّ ويقتل في الولايات المتّحدة الأمريكيّة أناس ذوو بشرة سوداء لا لشيء إلاّ لأنّهم سود، من دون أيّ سبب يذكر، ومع إفلات من العقاب في أغلب الأحوال. هذا ما يراه الكاتب الأمريكيّ ذو الأصل الأفريقيّ كيفن كوكلي، مؤكّدا في مقال له بصحيفة ذي هيل أنّه "لم يعد في هذا البلد مكان يمكن للأسود الملتزم بالقانون أن يشعر فيه بالأمان". ولمن يعتقدون من هذه الشّريحة أنّهم آمنون داخل منازلهم، فإنّ كوكلي يقول لهم " فكّروا مرّة أخرى". (الجزيرة نت)

0:00 0:00
Speed:
June 03, 2020

تفوّق أمريكا على دول العالم: أمر لا تدعمه الحقائق ولا التّاريخ

تفوّق أمريكا على دول العالم: أمر لا تدعمه الحقائق ولا التّاريخ

الخبر:

الحقيقة المرّة أنّه لا يكاد يمرّ يوم إلاّ ويقتل في الولايات المتّحدة الأمريكيّة أناس ذوو بشرة سوداء لا لشيء إلاّ لأنّهم سود، من دون أيّ سبب يذكر، ومع إفلات من العقاب في أغلب الأحوال.

هذا ما يراه الكاتب الأمريكيّ ذو الأصل الأفريقيّ كيفن كوكلي، مؤكّدا في مقال له بصحيفة ذي هيل أنّه "لم يعد في هذا البلد مكان يمكن للأسود الملتزم بالقانون أن يشعر فيه بالأمان".

ولمن يعتقدون من هذه الشّريحة أنّهم آمنون داخل منازلهم، فإنّ كوكلي يقول لهم "فكّروا مرّة أخرى". (الجزيرة نت)

التّعليق:

صرّحت تسيانينا لوماويما، أستاذة التّاريخ الأمريكيّ بجامعة أريزونا، أنّ أمريكا "تؤمن باستثنائيّتها، أي بتفوّق الأمّة الأمريكيّة على أيّ أمّة أخرى، ولكن هذا أمر لا تدعمه الحقائق أو التّاريخ" (ديمقراطيّة الدّماء.. كيف تأسّست أمريكا على أشلاء السّكان الأصليّين؟ الجزيرة نت ميدان بتاريخ 2018/5/12).

هذه هي حقيقة الدّولة العظمى التي تحكم العالم بديمقراطيّتها الزّائفة، الدّولة التي تقود العالم بفكر عنصريّ يتعامل مع "السّود" باحتقار واستنقاص، دولة تاريخها الأسود مع الهنود الحمر يفضح ادّعاءاتها بالتّفوّق والتّقدّم والتّحضّر ليظهر وجهها الحقيقيّ القبيح الذي تعلي فيه من شأن الجنس الأبيض وتغرس فيه حبّ السّيطرة والتّحكّم والسّيادة. تاريخ تسعى الدّولة لإخفائه وطمس أحداثه؛ ففي 2012م قرر مجلس الجامعة الأمريكي أن يضيف موضوع مذابح الأمريكيّين بحقّ الهنود الحمر في مادّة التّاريخ الأمريكيّ لطلّاب الثّانويّ فقوبل ذلك باعتراض واسع في جميع أنحاء الدّولة.

ها هو التّاريخ يفنّد أكاذيب الدّولة العظمى وها هي الحقائق تبيّن زيف ما ترفع من قيم الحرّيّة والعدالة والمساواة، فقد استهلّت الولايات المتّحدة أولى خطواتها بإبادة الملايين من السّكّان الأصلييّن للبلاد ومارست عليهم أقسى أنواع الإرهاب وارتكبت بحقّهم أبشع المجازر وأذاقتهم أصنافا من التّعذيب والمعاناة، ثمّ كتمت هذه المذابح وأخفت هذه الحقيقة التّاريخيّة ليستمرّ الإجرام الأمريكيّ بحقّ هؤلاء النّاس والعالم بأسره.

يقول المخرج ستيفان فيراكا: "هؤلاء الهنود الذين خلقتهم سينما هوليوود وألبستهم ريش الطّيور لا يتمّ اعتبارهم بشرا. ولم يكن الهدف من تصويرهم على هذه الشّاكلة أن يكونوا بشرا، لأنّ معظم الأمريكيّين لا ينظرون إليهم كبشر. وعلينا هنا أيضا أن نتذكّر أنّ كثيرا من الأطفال الأمريكيّين يعتقدون اليوم أنّ الرّيش ينبت في رؤوس الهنود الحمر".

هذه هي حقيقة الدّولة التي تدّعي نشر السّلام والحرّيّة وهي في الواقع تنشر الحروب والكراهيّة والإرهاب، فعن أيّ تفوّق يتحدّثون؟ وبأيّ تقدّم وتحضّر يبشّرون؟

ها هي الحقائق والأحداث تدعم ذلك لتسقط القناع عن وجه الدّولة العظمى، وها هي حادثة جورج فلويد القطرة التي أفاضت الكأس والقشّة التي قصمت ظهر البعير فاندلعت نيران الغضب في دولة الدّيمقراطيّة "الزّائفة" التي خنقت أهلها وأزهقت أرواحهم، فقط لأنّهم سود يُقتَلون ولا يحاسَب المجرمون.

لرئيسها المتعجرف ترامب دور كبير في تأجيج نار الكراهيّة بين الجنسين بتصريحاته وتغريداته التي لا يخفي فيها احتقاره لهذه الفئة، وعلى سبيل الذّكر لا الحصر مواقفه من النّائب الدّيمقراطيّ إيلايجا كامنجز الذي هو من أصل أفريقيّ، فقد صرّح في تغريدة له على "تويتر" قائلا: "النّائب متنمّر متوحّش.. يصرخ ويصيح على الرّجال والنّساء العظام القائمين على حراسة الحدود بشأن الأوضاع على الحدود الجنوبيّة". وأضاف "الحدود نظيفة وفعّالة وتدار بكفاءة، ولكنّها مكتظّة فحسب. منطقة كامنجز مقزّزة وممتلئة بالفئران والقوارض. إذا قضى مزيدا من الوقت في بالتيمور ربّما يتمكّن من المساعدة في تنظيف هذا المكان القذر بالغ الخطورة".

هذا وقد كشف استطلاع للرّأي نشرت نتائجه جامعة كويني بياك في تموز/يوليو الماضي أنّ ثمانين بالمائة من النّاخبين السّود يعتبرون ترامب عنصريّا.

فمواقف ترامب هذه قد زادت في دعم الكثيرين من جنسه الأبيض وشجّعتهم على قتل السّود الأبرياء فكثرت جرائم العنصريّة. بحسب كتاب "السّجل الأسود لأمريكا" لعصام عبد الفتّاح، فإنّ تقارير منظّمة مراقبة الشّرطة الأمريكيّة فى واشنطن تشير إلى أنّ المنظّمة تستقبل في اليوم من 8 إلى 10 حالات تعذيب من الشّرطة الأمريكيّة تجاه مواطنين سود سواء أكانوا مجرمين أو مشتبهاً بهم. وكذلك تفيد هذه التّقارير بوجود تمييز عنصريّ داخل السّجون الأمريكيّة، حيث يصل عدد المسجونين بسبب العرق إلى أكثر من 60% من إجمالي المسجونين داخل الولايات المتّحدة، كما أنّ هناك من يقبع داخل السّجون دون تهم أو محاكمة مسبقة. هذا فضلا عن القتل دون سبب أو جرم.

فأيّ قانون وحشيّ هذا الذي يمتهن الإنسان بسبب لونه؟ أيّ نظام هذا الذي يحطّ من قيمة الإنسان بعد أن كرّمه خالقه؟ إنه القانون الوضعيّ النّاقص والنّظام البشريّ العاجز الذي حكم العالم فأذاقه الويلات. ولن تعود للإنسان كرامته ولن يهنأ بعيش إلّا في ظلّ نظام خالقه الذي كرّمه على سائر مخلوقاته ولم يفرّق بين النّاس بجاه أو مكانة أو لون وإنّما بدرجة تقواهم وورعهم «لَيْسَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَضَ وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ فَضْلٌ إِلَّا بِالتَّقْوَى»؛ نظام الخلافة الرّاشدة الثّانية على منهاج النّبوّة الذي نسأل الله أن يعجّل بقيامه.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلاميّ المركزيّ لحزب التّحرير

زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست