تغيير الأنظمة والأشخاص
تغيير الأنظمة والأشخاص

في 5 أيار/مايو 2025، أصدرت الوكالة المركزية للإحصاء في إندونيسيا تقريراً يفيد بأن عدد العاطلين عن العمل في إندونيسيا بلغ 7.28 مليون شخص. في غضون ذلك، يبلغ متوسط أجور العمال 3.09 مليون روبية إندونيسية شهرياً. وهؤلاء ليس فقط أنهم ليس لديهم وظائف، بل إن عدد الأشخاص الذين يفقدون وظائفهم يتزايد أيضاً. فقد كشفت الرئيسة العامة لجمعية أصحاب العمل الإندونيسية (أبيندو) شينتا كامداني في 13 أيار/مايو 2025، أن عدد ضحايا التسريح من العمل في البلاد مثير للقلق. وأوضحت أنه خلال الفترة من كانون الثاني/يناير إلى آذار/مارس 2025 فقط، تم تسجيل 73922 شخصا كضحايا للتسريح من العمل.

0:00 0:00
Speed:
May 21, 2025

تغيير الأنظمة والأشخاص

تغيير الأنظمة والأشخاص


(مترجم)


الخبر:


في 5 أيار/مايو 2025، أصدرت الوكالة المركزية للإحصاء في إندونيسيا تقريراً يفيد بأن عدد العاطلين عن العمل في إندونيسيا بلغ 7.28 مليون شخص. في غضون ذلك، يبلغ متوسط أجور العمال 3.09 مليون روبية إندونيسية شهرياً. وهؤلاء ليس فقط أنهم ليس لديهم وظائف، بل إن عدد الأشخاص الذين يفقدون وظائفهم يتزايد أيضاً. فقد كشفت الرئيسة العامة لجمعية أصحاب العمل الإندونيسية (أبيندو) شينتا كامداني في 13 أيار/مايو 2025، أن عدد ضحايا التسريح من العمل في البلاد مثير للقلق. وأوضحت أنه خلال الفترة من كانون الثاني/يناير إلى آذار/مارس 2025 فقط، تم تسجيل 73922 شخصا كضحايا للتسريح من العمل. ومن ناحية أخرى، الفجوة كبيرة جداً أيضاً. وفي 5 أيار/مايو 2025، صرح وزير الشؤون الزراعية والتخطيط المكاني / رئيس الوكالة الوطنية للأراضي، نصرون وحيد، أنه من إجمالي 170 مليون هكتار من مساحة الأراضي في إندونيسيا، يتم تصنيف حوالي 70 مليون هكتار كمناطق غير غابات. وأضاف أن "من هذا الرقم، ما يقرب من 46 بالمائة أو نحو 30 مليون هكتار تسيطر عليها 60 عائلة كبيرة تمتلك شركات". وهذا يعني أن عائلة واحدة تسيطر في المتوسط على 500 ألف هكتار أو 5 مليارات متر مربع من الأرض (1 هكتار = 10 آلاف متر مربع).

التعليق:


1. يوضح هذا الوضع الفجوة الكبيرة بين ثروة الأغنياء والفقراء في إندونيسيا. في الواقع، في وقت سابق، في 15 شباط/فبراير 2025، أعلن اتحاد الإصلاح الزراعي أن ما يقرب من 68 في المائة من الأراضي والموارد الطبيعية في إندونيسيا يسيطر عليها واحد في المائة فقط من المجموعات. وبعبارة أخرى، فإن الـ 32% المتبقية يسيطر عليها 99% من السكان.


2. والسبب في ذلك هو القوانين والأنظمة المعمول بها. فعلى سبيل المثال، يسمح القانون رقم 6 لسنة 2023، المعروف بقانون خلق فرص العمل المعدل، يسمح للقطاع الخاص بإدارة مناجم المعادن والفحم، والغابات، والأنشطة الخشبية وغير الخشبية، ومصايد الأسماك والشؤون البحرية، والموارد المائية. في الواقع، في هذا القانون تبلغ نسبة الضريبة على الفحم 0%. وليس من المستغرب أن تتمكن حفنة من الشركات الخاصة من السيطرة على غالبية ثروات الموارد الطبيعية في البلاد. فهم لا يفرقون بين أنواع الملكية. وهذا يختلف عن النظام في الإسلام، الذي يقسم الملكية إلى ثلاثة أنواع، وهي الملكية الخاصة، والملكية العامة، وملكية الدولة. وتعد مناجم المعادن والفحم والغابات والموارد البحرية والمائية مثل الأنهار والبحيرات والبحار ممتلكات عامة وبالتالي لا يجوز للأفراد أو المجموعات الخاصة السيطرة عليها.


3. والسبب الآخر هو الحكام أو المسؤولون في الدولة الذين لا يمكن الثقة بهم. على سبيل المثال، في 25 آذار/مارس 2025، كشف مكتب المدعي العام أن خسائر الدولة بسبب الفساد النفطي المزعوم في شركة برتامينا قد تتجاوز 193.7 تريليون روبية إندونيسية. هذا الرقم يشمل الخسائر في عام 2023 فقط، في حين إن فترة الفساد حدثت من عام 2018 إلى عام 2023. وبالتالي، في فترة 5 سنوات، حوالي 968.5 تريليون روبية إندونيسية. هذا من الناحية الشخصية. ومع ذلك، في قانون الشركات المملوكة للدولة الذي تم التصديق عليه في 4 شباط/فبراير 2025، تنص المادة 3X الفقرة (1) على "أجهزة وموظفو الشركات المملوكة للدولة ليسوا موظفي دولة" وتنص المادة 9G على أن "أعضاء مجلس الإدارة ومجلس المفوضين ومجلس الإشراف في الشركات المملوكة للدولة ليسوا مسؤولي دولة". وهذا يعني أن فساد الشركات المملوكة للدولة لا يمكن التحقيق فيه من قبل لجنة القضاء على الفساد، لأنه وفقاً للقانون، فإن اللجنة تتعامل فقط مع الفساد الذي يتورط فيه مسؤولو الدولة.


4. ومن الواضح أن مشاكل عدم المساواة والفوضى الاقتصادية لا يمكن حلها إلا بتغيير النظام والأشخاص؛ تغيير النظام إلى نظام صحيح من الأحكام والقوانين، أي الشريعة الإسلامية، وينفذ هذا النظام مسؤول الدولة الموثوق به، أي الخليفة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمد رحمة كورنيا – إندونيسيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست