تغيير الحكومات مع بقاء الرأسمالية الحاكمة  لن ينجي مصر وأهلها بل هو مزيد من الفشل
تغيير الحكومات مع بقاء الرأسمالية الحاكمة  لن ينجي مصر وأهلها بل هو مزيد من الفشل

نقلت قناة صدى البلد على موقعها الجمعة 2024/6/14م، تأكيد الإعلامي مصطفى بكري، أن الدكتور مصطفى مدبولي أعلن أن التشكيل الوزاري سيصدر عقب إجازة عيد الأضحى المبارك، مشيرا إلى أن رئيس الوزراء التقى خلال الفترة الماضية ببعض المرشحين للوزارات بشكل سري، وتابع: سيكون هناك مفاجآت في تغيير وزارات تابعين للمجموعة الاقتصادية، وسيتولون مناصب أخرى، وأشار مصطفى بكري إلى أنه نأمل أن تعبر الحكومة الجديدة عن مطالب وطموحات الشعب، مؤكدا أنه يجب أن تتصدى الحكومة لارتفاعات معدل التضخم.

0:00 0:00
Speed:
June 20, 2024

تغيير الحكومات مع بقاء الرأسمالية الحاكمة لن ينجي مصر وأهلها بل هو مزيد من الفشل

تغيير الحكومات مع بقاء الرأسمالية الحاكمة

لن ينجي مصر وأهلها بل هو مزيد من الفشل

الخبر:

نقلت قناة صدى البلد على موقعها الجمعة 2024/6/14م، تأكيد الإعلامي مصطفى بكري، أن الدكتور مصطفى مدبولي أعلن أن التشكيل الوزاري سيصدر عقب إجازة عيد الأضحى المبارك، مشيرا إلى أن رئيس الوزراء التقى خلال الفترة الماضية ببعض المرشحين للوزارات بشكل سري، وتابع: سيكون هناك مفاجآت في تغيير وزارات تابعين للمجموعة الاقتصادية، وسيتولون مناصب أخرى، وأشار مصطفى بكري إلى أنه نأمل أن تعبر الحكومة الجديدة عن مطالب وطموحات الشعب، مؤكدا أنه يجب أن تتصدى الحكومة لارتفاعات معدل التضخم.

وأشار إلى أن الحكومة الجديدة أمامها تحديات صعبة وليست حكومة تجارب، مضيفا أن الدكتور مصطفى مدبولي رئيس مجلس الوزراء يعقد لقاءات متواصلة لاختيار أفضل الأسماء في الحكومة الجديدة، وأوضح أن مصر تمر بظروف اقتصادية كبيرة وأمامها تحديات كبيرة، وعبور فترة 2011 أصعب من الفترة الحالية، وفترة الإخوان كانت فترة لا تقارن بأي وضع اليوم.

التعليق:

يتحدث أبواق النظام عن التعديل الوزاري وكأنه طوق النجاة لحالة الانهيار التي يعاني منها الاقتصاد المصري كما يحاولون خداع الناس بهذا، مصورينه ببارقة أمل جديدة يرتجى منها تصحيح الأوضاع وتخفيف حدة الأزمات الاقتصادية.

بعيدا عن الأسماء التي لم تعلن بعد أو التي تم التكهن بها فإن الحكومات في بلادنا ليست إلا أدوات تنفذ النظام الرأسمالي وتطبقه على الشعوب، وفوق هذا فهي تدين بالولاء الكامل للغرب، فأي تغيير يطال الأدوات دون أن يصل إلى النظام ويستبدله وقوانينه ليس تغييرا حقيقيا بل فسحة من الوقت وخداع للناس، بينما تزداد الأزمات حدة وتعصف بمصر وأهلها.

فأصل الأزمة ليست في وزير المالية مثلا ولا وزير التموين ولا التجارة ولا حتى رأس النظام مع يقيننا بأنهم جميعا فاسدون وعملاء، إلا أن الأزمة الحقيقية في الرأسمالية التي يطبقون والتي توجد البيئة الخصبة لكل فساد وترعى كل ما من شأنه أن يضيق على الناس أرزاقهم ويمكن الغرب وعملاءه من نهب ثرواتهم.

إن الأزمة في الرأسمالية وقوانينها وحلولها التي تزيد حدة الأزمات ولا تعالجها، وإلا فمَن عاقل يقول إن دولة كمصر تستورد القمح حتى تتصدر قائمة مستورديه، ومن عاقل يقول إن مصر تعتبر الزيادة السكانية عبئا يلتهم التنمية المزعومة بينما هي طاقة هائلة إذا أحسن استغلالها وأعطيت المساحة لزراعة القمح وكفاية الناس به على سبيل المثال لا الحصر ناهيك عن باقي الزراعات والصناعات وغيرها مما ينتج الثروات لمصر وأهلها وبشكل ضخم! إلا أن الرأسمالية التي تحكم وتحتكر الأسواق والصناعات لن تسمح بهذا، فمصر سوق لهم يستثمرون فيه ويبيعون لأهله ويقرضون الدولة حتى تبقى رهينتهم، لهذا فأي تغيير من خلال الرأسمالية ويبقي على وجودها حاكمة هو دوران في حلقة مفرغة وخروج من فشل إلى فشل وتعميق لأزمات مصر وأهلها.

بل إن التغيير الحقيقي المثمر والمنتج يكون بتغيير النظام كله؛ بكل سياساته ودستوره وقوانينه وبرامجه وأطروحاته، وسيأتي تغيير الأدوات أو بالأحرى اقتلاعها مع الرأسمالية ضمنا، فالتغيير حتى يكون منتجا يجب أن يأتي بنظام مغاير يحتوي أحكاما تضمن رعاية الناس وتضمن عدالة وصدق وأمانة منفذيه، وهذا لا يوجد إلا في الإسلام ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تقتلع جذور الفساد وتعالج مشكلات الناس بحلول حقيقية جذرية، نعم إنه الإسلام بنظامه وأحكامه التي مصدرها الوحي والتي تضمن رعاية الناس وأداء حقوقهم والتي يمكنها فقط العبور بمصر وأهلها وعلاج كل أزماتها على الحقيقة.

نعم إن الحل ليس في تغيير وزاري مزعوم بينما يبقى النظام العفن في الحكم، بل الحل في اقتلاع النظام بكل ما فيه من سياسات وقوانين وأدوات تنفذ هذه السياسات وتطبق تلك القوانين واستبدال نظام الإسلام به، فهو الضامن الوحيد لحاجات الناس والقادر على إشباعها ورعايتهم رعاية حقيقية بوحي الله وفي ظل دولته التي ندعو لها ونرجو أن تكون مصر حاضرتها ونقطة ارتكازها، دولة الإسلام؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست