تهديدات وزير الخارجية الفرنسي للدولة اللبنانية إصلاحات حقيقية ملموسة أم الهاوية؟!
تهديدات وزير الخارجية الفرنسي للدولة اللبنانية إصلاحات حقيقية ملموسة أم الهاوية؟!

الخبر:   صرح وزير الخارجية الفرنسي جان إيف لودريان الجمعة 24/7/2020 في ختام زيارة استمرت يومين إلى بيروت بأن "هذا البلد بات على حافة الهاوية" في حال لم تسارع السلطات إلى اتخاذ إجراءات لإنقاذه. وشدد على "ضرورة عدم المماطلة"، والإسراع في إجراء إصلاحات ضرورية لحصول لبنان على دعم مالي خارجي. وبدا لودريان حاسما في تصريحاته. وأضاف أن "الجميع يعرف المسار الذي يجب اتخاذه، وهناك وسائل للإنعاش. وفرنسا جاهزة لمرافقتهم بشرط أن تتخذ السلطات السياسية القرارات" للسير في طريق الإصلاحات. وأكد "هذه طلبات فرنسا، وأعتقد أنها سُمِعت". ...

0:00 0:00
Speed:
July 26, 2020

تهديدات وزير الخارجية الفرنسي للدولة اللبنانية إصلاحات حقيقية ملموسة أم الهاوية؟!

تهديدات وزير الخارجية الفرنسي للدولة اللبنانية

إصلاحات حقيقية ملموسة أم الهاوية؟!

الخبر:

صرح وزير الخارجية الفرنسي جان إيف لودريان الجمعة 24/7/2020 في ختام زيارة استمرت يومين إلى بيروت بأن "هذا البلد بات على حافة الهاوية" في حال لم تسارع السلطات إلى اتخاذ إجراءات لإنقاذه. وشدد على "ضرورة عدم المماطلة"، والإسراع في إجراء إصلاحات ضرورية لحصول لبنان على دعم مالي خارجي. وبدا لودريان حاسما في تصريحاته. وأضاف أن "الجميع يعرف المسار الذي يجب اتخاذه، وهناك وسائل للإنعاش. وفرنسا جاهزة لمرافقتهم بشرط أن تتخذ السلطات السياسية القرارات" للسير في طريق الإصلاحات. وأكد "هذه طلبات فرنسا، وأعتقد أنها سُمِعت". ولم يُخفِ الوزير الفرنسي خيبة أمله قائلاً "أكثر ما يذهلنا هو عدم استجابة سلطات هذا البلد للأزمة الراهنة"، مشدداً على الحاجة "لأفعال ملموسة طال انتظارها". وكان المجتمع الدولي وعلى رأسه فرنسا، قد اشترط على لبنان تنفيذ إصلاحات جدية لتقديم أي مساعدة له. ويطمح لبنان إلى الحصول على دعم خارجي يفوق 20 مليار دولار، بينها 11 مليار أقرها مؤتمر سيدر الذي انعقد في 2018 مشترطاً إصلاحات.

التعليق:

أول ما يلفت النظر في هذه التصريحات لهجة الأمر والحسم والتهديد، ثم وضوح دلالاتها. أما اللهجة: فـ"البلد على حافة الهاوية"، "يحتاج لإنعاش"، "يجب أن يقوم بالإصلاحات المحددة"، "لن ينال أي مساعدة ما لم يفعل ذلك"، و"أن هذه طلبات المجتمع الدولي وليست طلبات فرنسا وحدها". وهذه الأقوال واضحة الدلالة أولاً على أنكم - يا حكومة لبنان - بيدكم أن تقوموا بالإصلاحات، فإما أن تقوموا بها وإما الهاوية. ومما تدل عليه هذه التصريحات أيضاً أن هناك قناعة فرنسية ودولية بأن لبنان بسلطته الرسمية يمتنع عن القيام بهذه الإصلاحات، أي عن الامتثال للطلبات أو الأوامر الدولية، مع أنه بحاجة لمليارات الدولارات، والمجتمع الدولي مستعد للمساعدة والإنعاش، وفرنسا جاهزة، والوزير الفرنسي مذهول من عدم قيام لبنان بخطوات عملية لإنقاذ نفسه من الهاوية. وهذا يعني أن هناك أعمالاً، يسمونها إصلاحات، يجب على لبنان أن يقوم بها كي يتلقى المساعدات التي يحتاجها والتي هو يسعى للحصول عليها. والدلالة هنا هي أن لبنان يتعنت أو لا يستطيع تنفيذ الأعمال التي يفرضها عليه المجتمع وصندوق النقد الدوليان. وإذا ربطنا هذه الدلالات لتصريحات وزير الخارجية الفرنسي، بتصريحات البطرك بطرس الراعي الصريحة وغير الدبلوماسية ضد حزب إيران في لبنان، وكذلك بتصريحات كثيرة وفاقعة لوزير الخارجية الأمريكي بومبيو ضد إيران وحزبها، وكذلك بزيارة الجنرال الأمريكي كينيث ماكينزي إلى لبنان قبل زيارة الوزير الفرنسي بحوالي أسبوعين، والإشكالات التي كانت من تداعياتها ضد حزب إيران، ولقاءاته بكل رموز السلطة اللبنانية الرسمية وبقيادة الجيش، وتصريحاته السلبية بعد ذلك بشأن مصداقية لبنان وتصديقه الأقوال بالأفعال، نستنتج أن هذه التهديدات للبنان جادة، وأن لبنان بالفعل يماطل، وأن سبب هذه المماطلة هو حزب إيران اللبناني ونفوذه السياسي والشعبي الطائفي، وغَلَبَته على السلطات الثلاث في لبنان، إضافةً إلى قوته العسكرية. ويتأكد هذا الوصف لما يجري في لبنان ولموقف أمريكا، من أن هذه التصريحات الفرنسية ما كانت لتكون بهذه القوة والحسم لولا إدراك فرنسا أن هذا هو موقف أمريكا أيضاً.

وهل هذا يعني أن هناك إجراءات أمريكية ودولية قد تُتخذ ضد لبنان؟ الجواب هو أن الإجراءات في المنظور القريب تقتصر على الضغوط السياسية والاقتصادية، ويمكن أن تزداد بما يفاقم من سوء أوضاع الناس المعيشية، ومن زيادة هبوط قيمة العملة اللبنانية. وحل هذه المشكلة مستعصٍ الآن، وغير منظور، لأنه غير مقرر أو معروف لأي جهة أصلاً، أي أن الاحتمالات فيه مفتوحة. والعملية ترجع كلها إلى أن أمريكا قد قررت منذ مجيء ترامب للرئاسة تحجيم نفوذ إيران الذي تعاظم في المنطقة، وبخاصة في العراق ولبنان وسوريا. وهذا ما شكل انعطافةً كبيرة تجاه إيران التي انزعجت من ذلك كثيراً، وهي تماطل في هذا الأمر وتتعنت، وترى الأمر ضرراً كبيراً عليها. وتنطبق تداعيات هذا الأمر على حزبها في لبنان. وهي تراهن - والله أعلم - على تغير موقف أمريكا منها بعد الانتخابات الأمريكية القادمة، وبخاصة أن أزمات أمريكا تزداد داخلياً وخارجيا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست