ذهب مصر وثرواتها إلى أين؟
ذهب مصر وثرواتها إلى أين؟

الخبر:   ذكرت قناة العربية على موقعها الأربعاء 2023/11/29م، أن شركة سنتامين للتعدين رحبت بحكم أصدرته المحكمة الدستورية في مصر اليوم الأربعاء يقضي بدستورية قانون يحول دون طعن أطراف ثالثة على الاتفاقيات الموقعة بين الحكومة المصرية والمستثمرين، كانت اتفاقية امتياز منجم السكري، التي أقرها البرلمان بين الفرعونية لمناجم الذهب التابعة لسنتامين ووزارة البترول والثروة المعدنية والهيئة العامة للثروة المعدنية في 1994، ...

0:00 0:00
Speed:
December 06, 2023

ذهب مصر وثرواتها إلى أين؟

ذهب مصر وثرواتها إلى أين؟

الخبر:

ذكرت قناة العربية على موقعها الأربعاء 2023/11/29م، أن شركة سنتامين للتعدين رحبت بحكم أصدرته المحكمة الدستورية في مصر اليوم الأربعاء يقضي بدستورية قانون يحول دون طعن أطراف ثالثة على الاتفاقيات الموقعة بين الحكومة المصرية والمستثمرين، كانت اتفاقية امتياز منجم السكري، التي أقرها البرلمان بين الفرعونية لمناجم الذهب التابعة لسنتامين ووزارة البترول والثروة المعدنية والهيئة العامة للثروة المعدنية في 1994، تعرضت لطعن بالبطلان في 2011، وأجلت المحكمة الإدارية العليا النظر في الاستئناف لأجل غير مسمى لحين صدور قرار من المحكمة الدستورية العليا بشأن دستورية القانون رقم 32 لعام 2014 الذي يحظر على أي طرف ثالث الطعن على الاتفاقيات بين الحكومة والمستثمرين، وهو ما أيده الحكم الصادر الأربعاء ليسمح للشركة بطلب رفض الدعوى، وقالت الشركة المدرجة في بورصة لندن في بيان إن حكم المحكمة الدستورية الصادر اليوم يمنحها الحق في أن تطلب من المحكمة الإدارية العليا رفض دعوى الطعن باعتبار أن المشتكي غير ذي صفة لأنه ليس طرفا في اتفاقية الامتياز، وأضافت أن العمليات بمنجم السكري مستمرة ولم تتأثر بالدعوى.

التعليق:

منجم السكري ليس هو مصدر الذهب الوحيد في مصر ولا مصدر ثروتها الوحيد، وإن كان من أكبرها وأغناها، وهو ككل مصادر الثروة التي يفرط فيها النظام لصالح الشركات الرأسمالية العالمية ويصوغ من القوانين ما يقنن وجودها ويحصنها أمام أي محاولات لاستعادة ما تنهب من ثروة، الأمر الذي يجعل النظام الرأسمالي الحاكم هو العقبة والحائل الذي يمنع أهل مصر من استعادة ثرواتهم والانتفاع بها، وهو الذي يمكن الغرب منها ويحمي وجودهم ونهبهم لها.

هذا الحكم الصادر من الدستورية ليس في صالح مصر وأهلها بل هو في صالح الشركات الرأسمالية التي تسعى لإيجاد مسوغ قانوني يحميها من تغيرات الأنظمة حتى لو تغيرت بهبات ثورية من الشعوب، ولعلها دفعت النظام لذلك دفعا، فالشركات الرأسمالية لها اليد الطولى في المنطقة كلها وليس مصر وحدها وما تستحوذ عليه من ثروات يجعلها تقاتل وربما تبيد شعوبا كاملة من أجله، فنحن نتكلم عن كبرى شركات النفط والطاقة والتعدين والتكنولوجيا وصانعي السلاح والمعدات الثقيلة والسيارات، نتكلم عن الرأسماليين الحكام الفعليين للعالم الآن، نتكلم عن أباتشي الأمريكية التي تنتج أكثر من 260 ألف برميل من الزيت والمتكثفات، ونحو 1.5 مليار قدم مكعب غاز يوميا، نتكلم عن إيني الإيطالية التي تعمل في مصر لما يقارب الـ65 عاماً وتنتج نحو 35% من الغاز الطبيعي في مصر، ويبلغ الإنتاج اليومي في الحقول التابعة لها في مصر، نحو 34 ألف برميل من الزيت والمتكثفات، ويبلغ حجم استثمارات الشركة في حقل "ظهر" وحده نحو 14 مليار دولار؛ فمصر من أكبر الدول التي تستحوذ على نصيب الأسد في حجم استثمارات إيني الإيطالية من إجمالي 80 دولة تعمل فيها إيني، أما بريتش بتروليم فتعمل منذ أكثر من 50 عاماً، ويصل إجمالي استثماراتها في مصر إلى أكثر من 30 مليار دولار، كما أعلنت ضخ استثمارات جديدة في مصر بنحو ملياري دولار خلال 2019 في مجال الغاز والنفط، وتنتج بريتش بتروليم ما يقرب من 10% من إنتاج مصر من الزيت الخام والمتكثفات، وشركة شل الهولندية تعمل في مصر منذ عام 1911، ويصل معدل إنتاجها في مناطق الامتياز التابعة لها إلى نحو 55 ألف برميل بنسبة 6% من إجمالي إنتاج مصر من الزيت الخام... تلك أمثلة للشركات العاملة في مصر منذ عقود، وللناظر أن يتخيل حجم الثروة المنهوب يوميا ليدرك كيف سيقاتل الغرب وشركاته الناهبة للثروة حتى لا يحدث في بلادنا تغيير حقيقي، وضمان قوانين تحميهم حال حدوث التغيير، إلا أن التغيير الحقيقي لن يعترف بتلك القوانين ولا الاتفاقيات بل ستكون غايته إعادة الحقوق المنهوبة إلى أصحابها.

أما شركة سنتامين فبدأت منذ عام 2009، إنتاج المعدن الأصفر من السكري؛ ليصل إنتاجه لنحو 5 ملايين أوقية من الذهب، وفقاً لرصد لشركة سنتامين في تقريرها الفصلي عن الربع الأول من عام 2022، والذي اطلعت عليه وحدة أبحاث الطاقة، وأظهرت أحدث مراجعة لاحتياطيات السكري من الذهب والمعلنة أواخر عام 2021 تحقيقها نمواً هو الأعلى منذ 10 سنوات؛ لتصل احتياطيات المنجم لنحو 5.8 مليون أوقية من الذهب، وبناءً على المراجعة الحديثة للاحتياطي؛ من المتوقع أن يمتد عمر المنجم لـ12 عاماً أخرى، وفقاً لبيانات شركة سنتامين. (موقع وحدة أبحاث الطاقة). ثمن أوقية الذهب 2071.61 دولار، ما يعني ثروة هائلة ومن نقطة واحدة في مورد واحد ناهيك عن باقي الموارد، التي لو أحسن استغلالها لكفت البلاد والعباد ولكننا لا نعلم عنها شيئا ولا نرى منها شيئا، بل يخرج علينا النظام مدعيا أن بلادنا فقيرة بينما هي تُنهب جهارا نهارا برعاية الرأسمالية الحاكمة.

مناجم الذهب وباقي المعادن وحقول النفط والغاز وكل منابع الثروات الدائمية وشبه الدائمية هي من الملكية العامة ولا يجوز تخصيصها أو احتكارها من أفراد ولا شركات حقيقية أو اعتبارية لأنها ملك للناس جميعا، وقد بين الإسلام الأساس الشرعي الذي يجب أن تتعامل به الدولة مع منابع كل تلك الثروات نزولا على قوله ﷺ: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَاءِ وَالْكَلْإِ وَالنَّارِ»، فمنع الدولة من التصرف فيها بالبيع أو التأجير أو الهبة أو منح حق الامتياز، بل أوجب عليها أن تقوم هي بنفسها بإنتاج واستخراج الثروة منها وإعادة توزيعها على الناس قسمة عادلة تعطي لكل ذي حق حقه؛ فلا تفرق بين غني وفقير ولا مسلم أو غير مسلم، وحتى تقوم الدولة بذلك فعليها أولا أن تبرأ بنفسها وتتبرأ من الرأسمالية ومعاهداتها ومواثيقها واتفاقياتها وقوانينها، وثانيا أن تنعتق من التبعية المذلة للغرب بكل أشكالها وصورها، وثالثا أن تتبنى نظاما بديلا يضمن للناس حقوقهم. ولا يضمن هذا إلا الإسلام بنظامه وفي ظل دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، ولهذا فمصر في حاجة لمن يحملون الإسلام وقادرين على تطبيقه ورعاية شؤون الناس به حقا لتستعيد حقوقها وتتمكن من الانتفاع بثرواتها، فمصر من حقها أن تحكم بالإسلام من جديد في دولة الحق والعدل؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها واجعل جند مصر أنصارها، اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست