ثلاث سنوات بعد اتفاقيّة طالبان وأمريكا
ثلاث سنوات بعد اتفاقيّة طالبان وأمريكا

الخبر:   قال جون كيربي، منسّق الاتصالات الاستراتيجية في مجلس الأمن القومي الأمريكي، لإذاعة صوت أمريكا: "نحن نعمل على ضمان أن تفي طالبان بتعهداتها. لم نعترف بهم حتى الآن كحكومة شرعية وليس لدينا أي خطط فورية للقيام بذلك". مرّت ثلاث سنوات على توقيع اتفاق طالبان وأمريكا في الدوحة في 29 شباط/فبراير عام 2020 بعد سلسلة من المفاوضات المطولة. ...

0:00 0:00
Speed:
March 07, 2023

ثلاث سنوات بعد اتفاقيّة طالبان وأمريكا

ثلاث سنوات بعد اتفاقيّة طالبان وأمريكا

(مترجم)

الخبر:

قال جون كيربي، منسّق الاتصالات الاستراتيجية في مجلس الأمن القومي الأمريكي، لإذاعة صوت أمريكا: "نحن نعمل على ضمان أن تفي طالبان بتعهداتها. لم نعترف بهم حتى الآن كحكومة شرعية وليس لدينا أي خطط فورية للقيام بذلك". مرّت ثلاث سنوات على توقيع اتفاق طالبان وأمريكا في الدوحة في 29 شباط/فبراير عام 2020 بعد سلسلة من المفاوضات المطولة. لا يزال الطرفان بعد ثلاث سنوات، يحمّل كل منهما الآخر المسؤولية عن انتهاك الاتفاقية. وتتهم أمريكا الإمارة الإسلامية بانتهاك الصفقة من خلال توفير المأوى والدعم لـ(الإرهابيين) في البلاد. ومع ذلك، تؤكد الإمارة الإسلامية أن أمريكا قد انتهكت الاتفاقية في مناسبات عديدة وما زالت تفعل ذلك.

التعليق:

ينص الجزء الثاني من المادتين 1 و2 من اتفاقية الدوحة على أن الإمارة الإسلامية لن تسمح لأعضائها والجماعات الأخرى باستخدام أراضي أفغانستان ضد أمريكا وحلفائها، وسوف تنقل رسالة واضحة عنها. فقد ورد في البند الأول ما يلي: "لن تسمح الإمارة الإسلامية التي لا تعترف بها الولايات المتحدة كدولة والمعروفة باسم طالبان لأي من أعضائها أو أفراد أو مجموعات أخرى، بما في ذلك تنظيم القاعدة، باستخدام أرض أفغانستان لتهديد أمن الولايات المتحدة وحلفائها". تجادل أمريكا بأن الإمارة الإسلامية لم تلتزم بهذا البند، لكن الحقيقة هي أنه لم يتم تشكيل أي تهديد لأمنها وأمن حلفائها من أراضي أفغانستان حتى الآن.

ومع ذلك، فإن الالتزامات التي تعهدت بها أمريكا في اتفاقية الدوحة، إما أنها لم تفِ بها بالكامل أو نفذتها مع تأخيرات كبيرة، حيث إنها:

  1. وافقت على سحب قواتها من أفغانستان خلال 14 شهراً، لكنها لم تفعل ذلك، وأجّلته لأكثر من خمسة أشهر.
  2. وافقت على إطلاق سراح 5000 أسير من طالبان خلال 10 أيام من توقيع الاتفاقية، لكن الأمر استغرق ستة أشهر.
  3. تعهدت بإزالة أسماء قادة وأعضاء طالبان من قائمة العقوبات والمكافآت بحلول 27 آب/أغسطس 2020، لكن هذا لم يتحقق بعد، حتى إن مكتب التحقيقات الفيدرالي ضاعف الجائزة لأي شخص لديه معلومات عن مكان وجود وزير الداخلية بالوكالة في الإمارة الإسلامية الحالية، من 5 ملايين دولار إلى 10 ملايين دولار.
  4. وافقت على إزالة أسماء مسؤولي طالبان من القائمة السوداء للأمم المتحدة بحلول 29 أيار/مايو 2020؛ ومع ذلك، فإن بعض الأسماء لم تتم إزالتها وبعضها تمت إزالته مؤقتاً ولكن ليس بشكل دائم. النقطة المهمة هي أن هذا يستخدم الآن كوسيلة لسياسة العصا ضد الإمارة الإسلامية.
  5. تعهدت باحترام وحدة أراضي أفغانستان وخصوصية أجوائها، لكنها ما زالت تشغل طائرات بدون طيار فوق الأجواء الأفغانية ونفذت هجمات مختلفة، أدت إحداها إلى استشهاد زعيم القاعدة الدكتور أيمن الظواهري رحمه الله.

بالإضافة إلى ذلك، قدمت أمريكا العديد من الالتزامات الأخرى التي لم يتم الوفاء بها. يظهر انتهاكها لاتفاقية الدوحة أنها لا تحترم ولا ترى أنه من الضروري متابعة التزاماتها واتفاقها. هذا بمثابة تذكير قوي للمسلمين والحركات الإسلامية بعدم الإيمان بوعود واتفاقيات والتزامات الكفار، ولا سيما أمريكا. وفقاً للشريعة، المسلمون ملزمون بالالتزام بالمعاهدات والمواثيق والاتفاقيات والوعود؛ ولكن في المقابل، يعتبر الغرب والأمريكيون الاتفاقات وسيلة للتخلص من المشاكل من أجل اكتساب الفرصة لإضعاف وهزيمة الطرف الآخر. أمريكا لم تلتزم بهذه الاتفاقية لأن انتهاك الاتفاقيات متأصل في الثقافة الغربية. وتجدر الإشارة إلى أن أمريكا تعتبر من أكبر منتهكي المعاهدات والمواثيق على المستوى الدولي.

لذلك، يجب على طالبان عدم الخضوع لضغوط أمريكا والغرب والأمم المتحدة، ويجب ألا تلتزم باتفاق معهم لأنهم انتهكوا التزاماتهم بالفعل.

بدلاً من ذلك، يجب عليها التركيز والاعتماد على الأمة الإسلامية وقدراتها السياسية والعسكرية والاقتصادية؛ ذلك لأن الأمة الإسلامية لديها القدرة على توسيع الإمارة الإسلامية إلى خلافة واسعة على منهاج النبوة (الخلافة الراشدة) من خلال توحيد آسيا الوسطى إلى جانب جنوب آسيا تحت مظلة أفغانستان يليها تطبيق الشريعة الإسلامية داخليا. إلى جانب سياستها الخارجية الإسلامية، ستوحد البلاد الإسلامية، ثم تنقل الإسلام إلى كل ركن من أركان العالم من خلال الدعوة والجهاد. نتيجة لذلك، لن يفكر الكفار بعدها في هزيمة هذه الخلافة الحقة لأن قواتهم المجهزة جيداً قد هُزمت بقسوة من قبل مقاتلي الأمة (الجهاديين)، ما جعل من الصعب عليهم الوقوف مرة أخرى ضد جيش الدولة الإسلامية الذي لا يقهر. ﴿وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست