ثلاثمائة مليون في ثلاثة أشهر
ثلاثمائة مليون في ثلاثة أشهر

الخبر:   بحسب وزارة المالية، بلغ الدين الحكومي لقرغيزستان 5 مليارات و598.9 مليون دولار اعتباراً من شباط/فبراير 2023. ومن هذا المبلغ، 4.5 مليار دولار ديون خارجية، و1.1 مليار دولار ديون محلية. فقد زاد الدين الحكومي بنحو 300 مليون دولار في ثلاثة أشهر فقط. لأنه في تشرين الثاني/نوفمبر 2022 كانت ديون الدولة 5.3 مليار دولار. وقد حصلت الدولة على هذه القروض من دول أخرى ومنظمات دولية وبنوك. ومع ذلك،  ...

0:00 0:00
Speed:
April 08, 2023

ثلاثمائة مليون في ثلاثة أشهر

ثلاثمائة مليون في ثلاثة أشهر

الخبر:

بحسب وزارة المالية، بلغ الدين الحكومي لقرغيزستان 5 مليارات و598.9 مليون دولار اعتباراً من شباط/فبراير 2023. ومن هذا المبلغ، 4.5 مليار دولار ديون خارجية، و1.1 مليار دولار ديون محلية.

فقد زاد الدين الحكومي بنحو 300 مليون دولار في ثلاثة أشهر فقط. لأنه في تشرين الثاني/نوفمبر 2022 كانت ديون الدولة 5.3 مليار دولار. وقد حصلت الدولة على هذه القروض من دول أخرى ومنظمات دولية وبنوك. ومع ذلك، فإن الأكبر منهم هم: بنك إكسيم الصيني، وبنك التنمية الآسيوي، وصندوق النقد الدولي، ومؤسسة التنمية الدولية، والوكالة اليابانية للتعاون الدولي. يمثل هؤلاء الدائنون الخمسة 85.4 في المائة من الدين الخارجي للدولة. تم الحصول على أكبر قرض من بنك إكسيم الصيني. لقد اقترضت قرغيزستان منه 1.81 مليار دولار.

التعليق:

مثل هذا الأمر، يخلق بالطبع وضعا خطيرا. لأنه كما يقولون "لكل قرش حساب"، من الواضح أن هذه الديون ستؤدي إلى عواقب وخيمة، خاصة في ظل الرأسمالية (الاستعمار الجديد). في الأزمنة السابقة، كان المستعمرون يحتلون البلدان مباشرة. منذ النصف الثاني من القرن العشرين تغير شكل الاستعمار، وأصبحت العديد من المستعمرات السابقة دولا "مستقلة". ومع ذلك، كان هذا استقلالا زائفا وهذه البلدان لا تزال تحت هيمنة الاستعمار ينهب ثرواتها ويحدد سياستها الخارجية. يستخدم المستعمر أساليب عديدة للحفاظ على نفوذه. والديون واحدة من هذه الأساليب. تهدف الدولة الاستعمارية من خلال إعطائها ديوناً تلو الأخرى إلى إبقاء البلاد في حالة يستحيل معها التخلص من الدين. علاوة على ذلك، لا يتم تقديم هذه القروض للصناعات الثقيلة، التي هي جوهر الاقتصاد وتمهد الطريق للتنمية. على سبيل المثال، فإن معظم القروض التي حصلنا عليها منذ الاستقلال تم إنفاقها على قطاع الطاقة وإنشاء الطرق وتغطية الميزانية. هذا الوضع لم يساعد من ناحية، على تنمية الاقتصاد، ومن ناحية أخرى زاد الربا على الديون وبلغ مبلغا هائلا. فنشأ وضع تكون فيه الدولة مشلولة إذا لم تقترض. لذلك، أينما ذهب قادة دولتنا، فهم منشغلون في طلب القروض أو تمديد فترة القرض. في الواقع، كان هذا هو هدف المستعمرين. لأن الدولة المقترضة ستكون مستعدة للوفاء بشروط مختلفة.

لذلك، تفرض الدولة الاستعمارية شروطا لسداد الديون. نتيجة لذلك، تبدأ الحكومة المثقلة بالديون في تنفيذ مصالح الدولة الاستعمارية في بلدها. قد تشمل شروط الدولة الاستعمارية مجموعة متنوعة من القطاعات مثل السياسة الخارجية أو المجالات القانونية أو الاقتصادية. المجال الرئيسي منها هو المجال الاقتصادي. بعبارة أخرى، تتطلب القوة الاستعمارية التجارة الحرة التي يقوم بها مستثمروها بأعمال تجارية داخل البلاد من أجل بيع منتجاتها. نتيجة لذلك، يستحوذ مستثمرو الدولة الاستعمارية على موارد البلاد السرية ويحملونها إلى بلدهم.

كما ذكرنا أعلاه، اقترضت بلادنا بأكبر قدر من بنك إكسيم الصيني. إن الناس يدركون مخاطر هذه الديون حتى الأطفال الصغار. ولا يُعرف ما هي الشروط التي فرضتها الصين على القروض، حيث لا يكشف المسؤولون عن الشروط. إذا تم الكشف عن الشروط، فسنكون مصدومين ومذعورين. إن الكلمات التالية لرئيس الوزراء الحالي عقيلبك جابروف تشير إلى تلك الشروط: "إذا لم نسدد الدين، فإن إدارة محطة للطاقة الحرارية وطريق "الشمال والجنوب" ومشاريع "داتكا - كمين" ستنتقل إليهم (الصين)".

إذا نظرنا إلى تاريخ إقراض الصين لبلدنا، يمكن أن نرى أن الديون المستلمة من الصين بدأت في الزيادة بشكل حاد منذ عام 2008. على سبيل المثال، أقرضت الصين بلادنا 9.1 مليون دولار في عام 2008، و47 مليون دولار في عام 2009، و151 مليون دولار في عام 2010. لقد زاد حجم الديون المستلمة من الصين كثيراً في عهد الرئيس السابق ألمازبيك أتامباييف. وبلغ حجم الديون حتى الآن 1.81 مليار دولار. في الوقت نفسه، بدأت شركات التعدين الصينية العمل في بلدنا منذ اللحظة التي بدأت فيها القروض الصينية في الزيادة بشكل حاد. وفقاً لمصادر المعلومات، فإن 70 بالمائة من تراخيص التعدين تنتمي إلى شركات قرغيزية-صينية مشتركة. والآن تعمل مائة وإحدى عشرة شركة في بلدنا، ستة وعشرون منها مؤسسات كبيرة ومتوسطة الحجم. كما ترون، فإن الصين هي أكبر دائن لبلدنا، وهي أكبر مستثمر أيضا. إن التبعية، أي الاحتلال الاقتصادي واضحة للعيان.

إذا استمر الدين في النمو، فإن العواقب ستكون مدمرة. فإن النظام الاستعماري للرأسمالية الذي يعمل الآن في جميع أنحاء العالم هو الذي قد أوجد الأساس لمثل هذا الوضع في الواقع وحفظ مصالح المستعمرين. يمهد هذا النظام الطريق أمام حفنة من الأثرياء لاستغلال سكان العالم ونهب موارده. ولذلك لن يتوقف الظلم أبداً حتى تتم الإطاحة به. لهذا يجب علينا أولاً وقبل كل شيء العودة إلى الإسلام بوصفه نظام حياة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هارون عبد الحق

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في قرغيزستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست