تحريض الجيوش وتوعية الناس على وجوب تحرير فلسطين هو واجبك يا شيخ الأزهر
تحريض الجيوش وتوعية الناس على وجوب تحرير فلسطين هو واجبك يا شيخ الأزهر

الخبر:   ذكرت اليوم السابع الجمعة 2021/5/14م، أن شيخ الأزهر، دعا قادة العالم لمساندة الشعب الفلسطيني، قائلاً في رسالة بـ15 لغة بينها اللغة العبرية: "أدعو شعوب العالم وقادته لمساندة الشعب الفلسطيني المسالم والمظلوم في قضيته المشروعة والعادلة من أجل استرداد حقه وأرضه ومقدساته"، وأضاف عبر صفحته الرسمية بموقع التواصل "فيسبوك": "أوقفوا القتل وادعموا صاحب الحق، وكفى الصمت والكيل بمكيالين إذا كنا نعمل حقّاً من أجل السلام.. أدعو الله أن يرحم شهداء فلسطين، وأن يتغمدهم بواسع رحمته ومغفرته".

0:00 0:00
Speed:
May 17, 2021

تحريض الجيوش وتوعية الناس على وجوب تحرير فلسطين هو واجبك يا شيخ الأزهر

تحريض الجيوش وتوعية الناس على وجوب تحرير فلسطين هو واجبك يا شيخ الأزهر

الخبر:

ذكرت اليوم السابع الجمعة 2021/5/14م، أن شيخ الأزهر، دعا قادة العالم لمساندة الشعب الفلسطيني، قائلاً في رسالة بـ15 لغة بينها اللغة العبرية: "أدعو شعوب العالم وقادته لمساندة الشعب الفلسطيني المسالم والمظلوم في قضيته المشروعة والعادلة من أجل استرداد حقه وأرضه ومقدساته"، وأضاف عبر صفحته الرسمية بموقع التواصل "فيسبوك": "أوقفوا القتل وادعموا صاحب الحق، وكفى الصمت والكيل بمكيالين إذا كنا نعمل حقّاً من أجل السلام.. أدعو الله أن يرحم شهداء فلسطين، وأن يتغمدهم بواسع رحمته ومغفرته".

التعليق:

هذه الانتفاضة ليست الأولى ولن تكون الأخيرة وسيظل هذا الشعب والأمة كلها تنتفض طالما بقي هذا الكيان المسخ خنجرا مسموما في خاصرة الأمة يقتل ويعربد، فمنذ أن وطئت أقدام يهود أرض فلسطين وهم يقتلون أهلها بدم بارد ويغتصبون أرضهم وبيوتهم وثروتهم في ظل تواطؤ حكام بلادنا الذين يكبلون جيوشهم وشعوبهم ليحولوا بينهم وبين نصرة أهل فلسطين، وفي ظل دعم ظاهر من قادة الغرب الكافر الذين يرون في الإسلام والمسلمين عدوهم الحقيقي الذي يريدون تدميره وفناءه، وما وجد يهود في أرض فلسطين إلا كحامية غربية وجزء من صراع الغرب مع أمة الإسلام.

الغرب الداعم الأول لكيان يهود وحامي عروش حكامنا حماة هذا الكيان لن يساند أهل فلسطين ولن ينصرهم ولن يتبنى قضاياهم مهما وجهت إليه النداءات ومهما أريقت من دماء ومهما هدمت بيوت أو انتهكت أعراض، ففي النهاية من تراق دماؤهم هم مسلمون أيتام على موائد اللئام.

ما يحدث في فلسطين لا يخفى على من تناديهم يا شيخ الأزهر إن لم يكونوا جزءا من دعمه وإن لم يكن بتدبيرهم ومكرهم لتمرير مخططاتهم ومؤامراتهم على الأمة، فمن تخاطبهم وتناديهم وتطلب دعمهم ومساندتهم لأهل فلسطين لا يعنيهم أهل فلسطين ولن يحركهم نداؤك، بينما لو وجهت نداءك وجهته الصحيحة فسيجد آذانا صاغية تسمع وتلبي النداء، فنداؤك كان ينبغي أن يوجه نحو تلك الجيوش الرابضة في ثكناتها والتي لا توجه سلاحها إلا لأهل مصر لإرهابهم وحماية نظام الخسة والعمالة من غضبتهم، هؤلاء من يجب أن يتوجه خطابك إليهم حقا دون غيرهم فهم أبناء الأمة وواجبهم حمايتها والذود عنها وتحرير مقدساتها.

يا شيخ الأزهر! إن فلسطين ليست قضية خاصة بأهل فلسطين وسكانها بل هي قضية لكل الأمة ووجوب تحريرها في عنق كل مسلم على وجه الأرض وخاصة دول الطوق وعلى رأسها مصر، ولا نصر لفلسطين في ظل أنظمة العمالة وحلولها السياسية على موائد التفاوض لفرض رؤية أمريكا أو أوروبا لحل قضية فلسطين، والحل الوحيد لقضية فلسطين يكمن في إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؛ الدولة التي تملك الحل الوحيد الجذري والحقيقي لقضية فلسطين بتحريك جيوش الأمة لتحرير كامل فلسطين من دنس يهود. وإننا نبشر بايدن وحكام بلادنا العملاء أن أوانها قد اقترب وحين إعلانها لن يبقى من حاميتكم كيان يهود في أرض فلسطين يهودي واحد فكلهم يعرفون أنه كيان من ورق لا جذور له مهما حاولوا تطبيعه مع شعوب ترفضه من أصله وتتمنى قتاله واقتلاعه وتعتبر هذا عقيدة راسخة وقضية مصيرية، ولا يحول بين الأمة وبين ذلك إلا هؤلاء الحكام العملاء.

أيها المخلصون في جيش الكنانة! إن أمانة الله في أعناقكم ثقيلة ولا طاعة عليكم لهؤلاء الحكام العملاء بل الواجب عليكم خلعهم وإقامة الدولة التي توحد بلادكم في دولة واحدة تجيش جيوشها وتحركها نحو الأرض المقدسة فتضرب بكم هذا الكيان المسخ وتقتلعه من جذوره وتحقق بكم وعد الآخرة وتحرر بكم مسرى رسول الله ﷺ، هذا واجبكم الذي ستسألون عنه أمام الله يوم تلقونه، فأروا الله منكم ما يحب ويرضى، فانصروا الله ينصركم ويثبت أقدامكم، وستذكرون ما نقول لكم ونفوض أمرنا إلى الله والله بصير بالعباد.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

#الأقصى_يستصرخ_الجيوش

#Aqsa_calls_armies

#OrdularAksaya

#AqsaCallsArmies

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست