ثوابت أهل مصر وجيشها تجاه فلسطين تنبع من عقيدتها، وحكامها لا يمثلونهم
ثوابت أهل مصر وجيشها تجاه فلسطين تنبع من عقيدتها، وحكامها لا يمثلونهم

الخبر: أورد موقع نبض السودان في 25 نيسان/أبريل 2024 تقريرا تحت عنوان: "السيسي يحدد "ثوابت مصر" تجاه القضية الفلسطينية"، ومما جاء فيه: ...

0:00 0:00
Speed:
May 05, 2024

ثوابت أهل مصر وجيشها تجاه فلسطين تنبع من عقيدتها، وحكامها لا يمثلونهم

ثوابت أهل مصر وجيشها تجاه فلسطين تنبع من عقيدتها، وحكامها لا يمثلونهم

الخبر:

أورد موقع نبض السودان في 25 نيسان/أبريل 2024 تقريرا تحت عنوان: "السيسي يحدد "ثوابت مصر" تجاه القضية الفلسطينية"، ومما جاء فيه:

أكد الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي، على "موقف بلاده الواضح منذ اللحظة الأولى"، في حرب (إسرائيل) المستمرة منذ أشهر على قطاع غزة. وشدد السيسي في كلمة بمناسبة الاحتفال بالذكرى 42 لتحرير سيناء، على موقف مصر "الرافض تماما لأي تهجير للفلسطينيين من أراضيهم إلى سيناء أو إلى أي مكان آخر، حفاظا على القضية الفلسطينية من التصفية وحماية لأمن مصر القومي". كما أكد على "موقفنا الثابت بالإصرار والعمل المكثف لوقف إطلاق النار، وإنفاذ المساعدات الإنسانية" إلى قطاع غزة.

وأشار الرئيس المصري إلى ضرورة "دفع جهود إقامة الدولة الفلسطينية المستقلة ذات السيادة، ليحصل الفلسطينيون على حقوقهم المشروعة". واعتبر أن "كل هذه تشكل الثوابت الراسخة التي تحرص مصر على العمل في إطارها، بهدف أسمى وهو إرساء السلام والأمن والاستقرار والتنمية في المنطقة لصالح جميع شعوبها".

وفي وقت سابق من الأربعاء، حذر السيسي من أي عمليات عسكرية (إسرائيلية) في رفح الفلسطينية، وسط تقارير عن قرب اجتياح بري (إسرائيلي) للمدينة.

التعليق:

لقد أصبح من المسلمات عند المسلمين أن هؤلاء الحكام لا يمثلونهم، فالأمة بريئة منهم، ومن أفعالهم التي هي إملاءات من أسيادهم الذين يدينون لهم بالولاء والطاعة، ويقدمون القرابين لنيل رضاهم بالسير في ألاعيبهم ومخططاتهم الإجرامية.

وسؤالنا هو، عن أي وقف إطلاق نار تتحدثون، وقد حصدت هذه الحرب الأرواح حصدا؟! فقد أعلنت وزارة الصحة في قطاع غزة على موقعها بتاريخ 4 أيار/مايو عن ارتفاع عدد ضحايا عدوان كيان يهود على غزة إلى 34654 شهيدا و77908 مصابا، منذ السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023م. وقبلها عشرات الآلاف من الشهداء والجرحى، وكالعادة كان موقفكم مخزياً للغاية تجاه كل ذلك.

وعن أية مساعدات تتحدثون ويهود يستغلون التجمعات التي توزع فيها الإغاثة والمساعدات فيتقصدونها بأعتى الأسلحة وأفتكها؟!

أما عن الثوابت عند أهل مصر، فهي واضحة، وبينة لا شبهة فيها، ثوابت راسخة، ونابعة من عقيدتهم التي يعتقدونها، وليس عند أهل مصر الكنانة فقط بل عند كل مسلمي الكرة الأرضية، وأحكام هذه العقيدة تخالف جملة وتفصيلا ثوابت حكام مصر بل حكام بلاد المسلمين، فأهل مصر لا يريدون دويلة هزيلة تأتمر بأمر أمريكا وكيان يهود المسخ، ولن يهدأ لهم بال ولن يغمض لهم جفن إلا بزوال ذلك السرطان من جسد الأمة، ومحوها من خريطة العالم، وأن يعود المسجد الأقصى وتعود القدس إلى حضن الأمة الإسلامية. وأهل مصر وجيشها يتوقون ويتحرقون شوقا لذلك، كيف لا وهم خير أجناد الأرض كما وصفهم رسول الله ﷺ.

أما ثوابتكم أنتم أيها الحكام فليست سوى الخيانة والارتزاق والعمالة. والدليل أن ما تدعون إليه، أنتم وأشباهكم من الحكام، من إقامة دويلة هزيلة لأهل فلسطين، ما هو إلا مشروع الكافر الأمريكي المستعمر الذي يسعي لذلك وما هو بفاعله، حتى يصرف الأمة عن قضيتها وهي طرد وكنس هؤلاء الأنجاس من كامل أرض فلسطين، وأن لا تقوم لهم قائمة في كل بلاد المسلمين.

أكد الرئيس الأمريكي جو بايدن وكبار مسؤولي الأمن القومي مراراً وتكراراً وبشكل علني اعتقادَهم بأن ذلك (حل الدولتين) يمثل السبيل الوحيد لخلق سلام دائم بين (الإسرائيليين) والفلسطينيين والدول العربية. الولايات المتحدة ليست وحدها: فقد تردد صدى الدعوة من قبل القادة في جميع أنحاء العالم العربي، ودول الاتحاد الأوروبي، والقوى المتوسطة مثل أستراليا وكندا، وروسيا التي هي في صراع عسكري مع الغرب، وحتى الصين المنافس الرئيسي لواشنطن. (الجزيرة، 2024/03/03م)

كما أكد وزير الدفاع الأمريكي لويد أوستن خلال كلمته في منتدى نظمته مؤسسة رونالد ريغان الرئاسية في كاليفورنيا على أن دعم الولايات المتحدة لـ(إسرائيل) "ليس خاضعا للتفاوض ولن يكون كذلك أبدا". واعتبر في الوقت ذاته أن حل الدولتين هو الطريقة الوحيدة الممكنة للخروج من النزاع الفلسطيني (الإسرائيلي)، ولفت أوستن إلى أنه على (الإسرائيليين) والفلسطينيين إيجاد طريقة لتشارك الأرض التي يعتبرونها وطنهم. (آر تي، 2023/12/02م)

فهذه الثوابت تستمدونها من أولياء نعمتكم وأسيادكم أيها الحكام، بينما تستمد هذه الأمة الإسلامية الكريمة، ولا سيما أهل مصر، ثوابتها من كتاب الله وسنة رسوله ﷺ.

فدولة الخلافة وحدها هي من تجعل هذه الثوابت واقعا معاشا بعد اقتلاع هذا الكيان المسخ من الوجود من غير رجعة، وليس هناك دولة من هذه الدويلات الكرتونية تتجرأ أن تحارب هذا الكيان المسخ. ولن يشفي غليل هذه الأمة غير دولة مبدئية تعامل إخوان القردة والخنازير المغتصب معاملة تنسيهم وساوس الشيطان.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الخالق عبدون علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست