ثورة الأمة وتضحياتها ليست للتجارة يا قادة حماس!
ثورة الأمة وتضحياتها ليست للتجارة يا قادة حماس!

الخبر: سي إن إن - زار وفد من حركة حماس العاصمة السورية، الأربعاء، والتقى بالرئيس بشار الأسد للمرة الأولى منذ أن اضطرت الحركة الفلسطينية المسلحة للرحيل قبل عشر سنوات لدعمها مقاتلين مناهضين للأسد. وقال خليل الحية العضو البارز في المكتب السياسي لحماس، إن اللقاء مع الأسد كان إيجابياً وتاريخياً. وقال الحية خلال مؤتمر صحفي عقب لقائه الأسد: "نعتبره لقاء تاريخياً وبداية جديدة للعمل السوري الفلسطيني المشترك". ووصف الحية الاجتماع الذي عقد في دمشق بأنه "رد طبيعي من قوى المقاومة الفلسطينية بأننا متحدون في مواجهة المشاريع الصهيونية والتنمر الأمريكي الذي يستهدف القضية الفلسطينية والمنطقة". وأضاف الحية "اتفقنا مع الرئيس على تجاوز الماضي".

0:00 0:00
Speed:
October 21, 2022

ثورة الأمة وتضحياتها ليست للتجارة يا قادة حماس!

ثورة الأمة وتضحياتها ليست للتجارة يا قادة حماس!

الخبر:

سي إن إن - زار وفد من حركة حماس العاصمة السورية، الأربعاء، والتقى بالرئيس بشار الأسد للمرة الأولى منذ أن اضطرت الحركة الفلسطينية المسلحة للرحيل قبل عشر سنوات لدعمها مقاتلين مناهضين للأسد.

وقال خليل الحية العضو البارز في المكتب السياسي لحماس، إن اللقاء مع الأسد كان إيجابياً وتاريخياً. وقال الحية خلال مؤتمر صحفي عقب لقائه الأسد: "نعتبره لقاء تاريخياً وبداية جديدة للعمل السوري الفلسطيني المشترك". ووصف الحية الاجتماع الذي عقد في دمشق بأنه "رد طبيعي من قوى المقاومة الفلسطينية بأننا متحدون في مواجهة المشاريع الصهيونية والتنمر الأمريكي الذي يستهدف القضية الفلسطينية والمنطقة". وأضاف الحية "اتفقنا مع الرئيس على تجاوز الماضي".

وقال الأسد خلال اللقاء إن سوريا لا تزال تدعم الفلسطينيين رغم الحرب في بلاده: "انطلاقاً من المبادئ والقناعة العميقة للشعب السوري بقضية المقاومة من جانب، وانطلاقاً من المصلحة من جانب آخر، لأنّ المصلحة تقتضي أن نكون مع المقاومة".

التعليق:

إن الأصل في الحركات الإسلامية أن يتجسد الإسلام فيها وأن تكون تحركاتها على أساسه. ويجب أن تنهض بأعباء أمتها وتحرص على مصلحتها، وتكون ناصحةً أمينةً لها، مبينةً لها الأخطار المحدقة بها، واعيةً ومتبصرةً بسياسة وألاعيب ومؤامرات دول الكفر، مرتكزةً على فهمٍ واضحٍ للإسلام وأحكامه الشرعية؛ فلا تنطلي عليها الحيل الماكرة من مؤتمرات وهدن وغيرها من الأعمال السياسية التي تؤدي إلى إجهاض نهضة الأمة، بل لديها فهم عميق للإسلام وأحكامه، فتسير سيراً سياسياً واعياً متخذةً من الإسلام البوصلة التي تحركها، وتجعل حمل الإسلام بالدعوة والجهاد هو الطريق لمخاطبة الشعوب والأمم؛ تلك هي القيادة السياسية المخلصة.

أمّا قادة حماس ومن هم على شاكلتهم من قادة الجماعات الإسلامية شكلاً فهم يسعون إلى خداع الناس بشعارات إسلامية زائفة، ولا أدل على ذلك مما حصل في دمشق بين قادة حماس وبشار أسد، ذلك المجرم الذي طغى في البلاد وأكثر فيها القتل والفساد، فقد أشار المدعي العام الأمريكي السابق لجرائم الحرب ستيفن راب، خلال برنامج "60 دقيقة" إلى أن مجموعة من الأدلة التي تم جمعها ضد رئيس النظام السوري أقوى حتى مما استخدمه الحلفاء لإدانة النازيين في نورمبيرغ، وأضاف أن "هناك الآلاف من صور الضحايا الذين تم تعذيبهم حتى الموت على يد أتباع الأسد بالإضافة إلى الأوراق التي تربط قتلهم بالديكتاتور السوري".

ولقي مئات الآلاف من المدنيين حتفهم منذ اندلاع ثورة الشام، منهم من قضى نحبه تحت التعذيب في السجون أو  بالغاز الكيماوي أو بالبراميل المتفجرة أو...

كما أكد راب، الذي حكم بقضايا جرائم حرب في سيراليون ورواندا "لدينا قتل، لدينا إبادة، لدينا تعذيب، لدينا اغتصاب، لدينا أشكال أخرى من العنف الجنسي لدينا احتجاز قاس لدينا تشويه".

هذا ما قاله المدعي العام الأمريكي السابق لجرائم الحرب ستيفن راب عن المجرم بشار أسد! ونحن نقول "عن أي مصلحة يتكلمون؟!

إن كلام الأصوليين عن المصلحة لا علاقة له بالمدرسة المنحرفة التي جعلت المصلحة دينا تأثرا بالتفكير الغربي النفعي. فلم يقل فقيه من الأولين أن الشرع خادم للمصالح التي يقررها البشر! ولم يقل عالم بأن المصلحة غاية والشريعة وسيلة كما زعم دعاة الضلال اليوم الذين جعلوا المصلحة دينا. ولم يقل أحد من الأولين أن الدليل يُرَدُّ حتى لو كان قطعيا إذا تعارض مع المصلحة المزعومة كما يفعل دعاة الدين الجديد المنحرف!

لقد أباحوا المحرمات القطعية بحجة المصلحة؛ كإباحتهم تخلي المرأة المسلمة عن خمارها من أجل التعليم وكأخذ الربا لشراء بيت وكالقتال في صفوف الصليبيين ضد المسلمين!

لقد نزعت حماس ثوبها الإسلامي يوم استبدلت بميثاقها وثيقة سنة 2016 فتجسد فيها أنها حركة وطنية تؤمن بالديمقراطية وتقبل بالتسوية الخيانية وتتخذ القانون الدولي مرجعا لها.

لا يمكن لحركة إسلامية أن تضع يدها في يد سفاح كبشار ﴿لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾. إن هذا الانحراف لا يأتي من فراغ، وإنما من عقول خربة ومن نفسيات مهزومة فقدت الثقة بربها وبأمتها وركنت إلى الظالمين. رحم الله الصادقين في الحركة أمثال الرنتيسي فقد تم التخلص منهم ليخلو الجو لمن هم أمثال هنية ومشعل والحية"[1] الذين يدلّسون على الناس ويلبسون ثوب الإسلام ثم يضعون أيديهم بيد المجرم الطاغية قاتل أطفال الشام، هؤلاء خانوا الله ورسوله والمؤمنين، فماذا يظنون؟! هل ستعود ثورة الشام مكلومة ومظلومة إلى بيتها وتخضع لإرادة المجرم وسيدته أمريكا؟ لا والله إنها ثورة انطلقت حيث وقفت خيل عقبة بن نافع ودارت حتى وصلت إلى عقر دار الإسلام، ولن تقف حتى يعود الإسلام إلى دياره وترفرف راية العقاب من جديد على قبة الصخرة والأقصى الجريح، فليحشدوا ما شاؤوا، وليمكروا ما أرادوا وإننا نعلم أنهم ﴿مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ﴾.

والحقيقة التي لا يمكن تجاهلها هي أن الشعب السوري المسلم ما قدم كل تلك التضحيات ليتم خداعه بهذه البساطة، وعنده من السياسيين الواعين الذين يبصّرونه الحق من حملة لواء الخلافة، فهذا زمانها وأفل زمن العملاء ورويبضات هذا العصر، وبإذن الله سيخيّب الله فأل شياطين الإنس والجن حاملي مشاريع الغرب الكافر ويفرقهم، فهذه ثورة لفظت كل ما هو ليس من جنسها وستلفظ كل خوان أثيم، وستفتح أبوابها فقط للمخلصين غير المداهنين، الصابرين الثابتين ليلقوا وعد ربهم: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رولا إبراهيم


[1]  من صفحة الأستاذ منذر عبد الله، بتصرف يسير.

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست