ثورة مصر كانت ضد الرأسمالية ولم تكن لإصلاحها وتغيير أدواتها
ثورة مصر كانت ضد الرأسمالية ولم تكن لإصلاحها وتغيير أدواتها

الخبر: نقلت CNN بالعربية الثلاثاء 3/10/2023م، قول نائب الرئيس المصري السابق، محمد البرادعي، إن "تداول السلطة كان من أهم أهداف الثورة للانتقال من حكم الفرد إلى نظام ديمقراطي"، وأضاف عبر منصة إكس: "في دولة المؤسسات: جميع إيرادات ونفقات الدولة ومؤسساتها تتحكم فيها وتراقبها حصريا وبشفافية الحكومة والبرلمان وأجهزة الرقابة والمحاسبة، لا وجود لثقب أسود.. الحكم الرشيد".

0:00 0:00
Speed:
October 06, 2023

ثورة مصر كانت ضد الرأسمالية ولم تكن لإصلاحها وتغيير أدواتها

ثورة مصر كانت ضد الرأسمالية ولم تكن لإصلاحها وتغيير أدواتها

الخبر:

نقلت CNN بالعربية الثلاثاء 3/10/2023م، قول نائب الرئيس المصري السابق، محمد البرادعي، إن "تداول السلطة كان من أهم أهداف الثورة للانتقال من حكم الفرد إلى نظام ديمقراطي"، وأضاف عبر منصة إكس: "في دولة المؤسسات: جميع إيرادات ونفقات الدولة ومؤسساتها تتحكم فيها وتراقبها حصريا وبشفافية الحكومة والبرلمان وأجهزة الرقابة والمحاسبة، لا وجود لثقب أسود.. الحكم الرشيد".

التعليق:

يتعامى العلمانيون والمضبوعين بثقافة الغرب عن حقائق أثبتتها ثورة يناير، حيث بينت حقيقة أهل مصر وحبهم للإسلام وثقتهم فيه وفي كونه طوق نجاتهم الوحيد، فلا زال العلمانيون يصفون الثورة بأنها كانت من أجل الخبز وضد التوريث ومن أجل تداول السلطة، وتجاهلوا هتافات الناس في قلب ميدان التحرير "إسلامية إسلامية"، وتجاهلوا كيف فاز الإسلاميون في الانتخابات التي تلت الثورة، وكيف احتشد الناس دفاعا عن المادة الثانية التي تتحدث عن الشريعة رغم فراغ مضمونها، إلا أنها تثبت حقيقة ارتباط أهل مصر بالإسلام ورغبتهم في العيش حسب أحكامه؛ ولهذا كان انتخابهم للإسلاميين أهل المنابر الذين طالما ذكروهم بسيرة الصحابة وحكمهم وعدلهم، فالثورة في حقيقتها كانت ثورة ضد ظلم الرأسمالية وأدواتها.

هكذا يخرج العلمانيون علينا بين حين وآخر يكذبون كذبة جديدة وتصبح واقعا! وحديث البرادعي في هذا التوقيت خادع للناس خادم للنظام في ظل الانتخابات الرئاسية المبكرة التي ستبدأ في كانون الأول/ديسمبر المقبل، والتي يعلم البرادعي والنظام أن الناس لن تشارك فيها بسهولة، لهذا أوجدوا مرشحا صوريا يرتدي ثوب المعارض من الداخل ويتحدى رأس النظام الذي لا يقبل معارضة ولا حتى منافسة في العمالة، وقد رأينا ما فعله مع سامي عنان وأحمد شفيق وهما من رجالات أمريكا، ولهذا فكلام البرادعي عن كون الثورة كانت لتداول السلطة، والحديث عن محاسبة النظام الفاشل، يتناغم مع ما يصرح به طنطاوي المرشح لمنافسة السيسي، والذي يراد من وراء ترشحه إيجاد زخم لهذه العملية الانتخابية ليخرج الناس للمشاركة فيها لتحسين صورة النظام ليس إلا، وقد استُدرج كثير من معارضي الخارج، حتى الإسلاميون، بدعوتهم الناس لتوكيل طنطاوي وترشيحه ظنا منهم أنها ستكون عملية انتخابية نزيهة وأن أمام طنطاوي فرصة للفوز فيها، وتناسوا أن من أوهمهم بنزاهة هذه الانتخابات هم داعمو النظام في الغرب. وأنه حتى لو افترضنا جدلا أن طنطاوي فاز في هذه الانتخابات فالأمر ليس إلا تغييرا للوجوه التي تطبق الرأسمالية وتلتف مخادعة أهل مصر ليظل طوق التبعية والخضوع للغرب ونظامه وقوانينه يطوق أعناقهم لعقود قادمة، أي أننا سنبقى في الدائرة نفسها، وسيستمر نهب الغرب لثروات البلاد.

إن الحالة الثورية التي ولدت في مصر منذ ثورة يناير لم ولن تنتهي فلا زالت النار تحت الرماد لم تخبُ أبدا، وما عاناه أهل مصر خلال سنوات ما بعد الثورة أضعاف مضاعفة لما دفعهم للثورة على مبارك، وما يعدهم به العلمانيون الآن لن يرقى لأن يماثل حتى أيام مبارك ولا يملكون أن يعودوا بالناس وأوضاعهم لما كانت عليه أيام مبارك رغم ما فيها من سوء وظلم بيّن، فالرأسمالية التي تحكم والتي سيحكم بها من سيفوز حتى لو كان أحمد طنطاوي لم ولن تملك أي حلول، بل كل حلولها سم زعاف يتجرعه الناس جبرا وقهرا، وسيظل الحال ينحدر بهم من سيئ إلى أسوأ.

إن الحل الوحيد الآن في يد المخلصين في جيش الكنانة فهم وحدهم من يستطيع تغيير المعادلة وذلك بقطع حبالهم مع الغرب وعملائه ووصلها مع المخلصين من أبناء الأمة العاملين فيها لإقامة دولة الإسلام، فالرهان الآن عليهم، وواجبهم الآن ليس حماية نظام يرعى مصالح الغرب ويشتري صمتهم وحمايتهم بل وذممهم بمميزات ورواتب هي في حقيقتها رشوة وسحت، عافاهم الله منها، وما هي إلا نزر يسير من بعض حقوقهم التي ينهبها الغرب وعملاؤه، إن واجبهم هو الانحياز لأمتهم ودينهم والعمل لإيصاله للحكم من جديد كي يطبق كاملا في دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة رغبة في رضا الله عز وجل ورهبة وخشية واتقاء لناره، وطمعا في جنته، فاللهم هيئ من جند مصر أنصاراً يعيدون للأمة سلطانها ودولتها من جديد، اللهم آمين.

﴿وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست