ثورة مصر... من حلم العيش بأمان واطمئنان إلى كابوس القهر والاضطهاد والطغيان!!
ثورة مصر... من حلم العيش بأمان واطمئنان إلى كابوس القهر والاضطهاد والطغيان!!

 الخبر:   ذكرت الجزيرة نت بتاريخ 2016/2/12 أن نشطاء من مصر أطلقوا في ذكرى تنحي الرئيس المخلوع محمد حسني مبارك في 11 شباط/فبراير على مواقع التواصل بهذه المناسبة أكثر من وسم ليعبروا من خلالها عن أحداث السنوات الماضية وأحلامهم التي زرعوها خلال تلك الثورة.

0:00 0:00
Speed:
February 13, 2016

ثورة مصر... من حلم العيش بأمان واطمئنان إلى كابوس القهر والاضطهاد والطغيان!!

ثورة مصر... من حلم العيش بأمان واطمئنان

إلى كابوس القهر والاضطهاد والطغيان!!

الخبر:

ذكرت الجزيرة نت بتاريخ 2016/2/12 أن نشطاء من مصر أطلقوا في ذكرى تنحي الرئيس المخلوع محمد حسني مبارك في 11 شباط/فبراير على مواقع التواصل بهذه المناسبة أكثر من وسم ليعبروا من خلالها عن أحداث السنوات الماضية وأحلامهم التي زرعوها خلال تلك الثورة.

وعبر مغردون عما أسموه المحصلة النهائية لما آلت إليه الأحوال بقولهم: "سُرِقت الثورة"، مؤكدين في الوقت ذاته أن الرجوع إلى الميدان أمر حتمي، وتساءلوا عن حقوق الشهداء الذين سقطوا قبل وبعد تنحي مبارك.

كما وصف مغردون أيضا تنحي مبارك "بالخديعة"، فيما رأى آخرون في ذكرى تنحيه فرصة للتذكير بانتهاكات النظام الحالي لحقوق أهل مصر، وانتقاد السياسة التي يتبعها نظام الرئيس عبد الفتاح السيسي في قمع المعارضين والتنكيل بهم في السجون والمعتقلات.

وتحسر النشطاء على تدني سقف المطالب والشعارات التي رفعها الناشطون في ثورة يناير من "عيش وحرية وعدالة اجتماعية"، ليصبح جل اهتمام النشطاء وعامة الناس في عهد السيسي هو المطالبة بمياه شرب نظيفة".

التعليق:

مما لا شك فيه أن من أهم أسباب ثورات الشعوب على طواغيتها وحكام التبعية والذلة المتسلطة عليها هو تطرف طغمة الحكم مع شعوبها واضطهادها لهم والحط من شأنهم والتغاضي عن رعاية مصالحهم، حيث استمرأ حكام المسلمين وحكوماتهم مصادرة حريات شعوبهم وحقوقهم المعنوية والمادية، بل وحقوقهم الدينية، وعملوا على المزيد من إرهابهم واختطاف هويتهم وقيمهم وعزتهم وكرامتهم، وذلك توافقاً مع مصالح الغرب من جهة، وتحقيقاً للاستبداد السياسي الذي أدمنوا عليه من جهة أخرى، ظناً منهم أنهم سيحققون بما سبق دعماً لأوضاعهم، ومزيداً من الاستقرار لأحوالهم، ولكن ما حدث من انفجار للشارع المسلم أثبت أن تلك الحكومات الضالة المضلة كانت تعيش أوهاماً عن قبول الشعوب لسياسات القمع والاضطهاد.. وقد صدق القائل: (ما رأيت شيئاً يسوق الناس إلى الحرية بعنف مثل الطغيان)!

لكن مما فات الشعوب ولم تلتفت إليه وتُعِرْهُ أدنى اهتمام أن نظام الحكم في بلاد المسلمين ليس متمثلا في رأس النظام فقط، وإدارة البلاد ليست محصورة في شخص الرئيس فقط ، بل هناك مؤسسات وقوانين ودساتير ووزارات تمثل بمجموعها مفاصل الدولة والتي بيدها زمام الأمور، وذلك مما حرص المستعمر على إيجاده في بلادنا ليضمن استمرار تبعية المنطقة له وليضمن الإبقاء على مصالحه... فصاغ الدساتير والتشريعات لهذه البلاد لضبط سياساتها لتبقى مرتبطة بعجلته، ومن ثم أتى بوسط سياسي قد صنعته الدول المستعمرة على عينها، وسلمته مفاصل الدولة من وزارات ومؤسسات، بالإضافة للجيوش والأجهزة الأمنية التي تمثل القبضة الحديدية على الشعوب، فتتحكم بها عن طريق قادتها ممن دربتهم في أكاديمياتها العسكرية والأمنية، فبهذه اﻷعمال وغيرها الكثير ركز الكافر المستعمر نفوذه في هذه الدول فأحكم قبضته على مفاصل الدولة، فكانت الأنظمة المتطفلة على الأمة نتيجتها...

ولعدم وعي الشعوب وغياب المشروع السياسي فقد حصر التغيير في شخص الحاكم ظنا من الثائرين أن المشكلة في رأس السلطة فقط، وغاب عنهم أن الغرب يسعى جاهدا لإفشال ثوراتهم باحتوائها وتفريغها من أهدافها ومضمونها بأن تجعل التغيير محصورا في شخص الحاكم وبالكثير في أضيق دائرة حوله، مبقية بذلك على مفاصل الدولة ومؤسساتها لتبقى هي المتحكمة ويكون الحاكم القادم مجرد صورة، ودمية تتحكم به حسب مصالحها في منطقته، وهذا ما حصل في مصر، فقد تم الانقلاب على حكم الإخوان ممثلا بمحمد مرسي بانقلاب عسكري مشين ومخز سيظل وصمة عار في جبين نظام السيسي المجرم ومن عاونه على إجرامه، فقد افتتح سيرته السياسية بالقتل والإجرام والمجازر، ومن النماذج البشعة لإجرامه في فرض سطوته وسلطته ما حصل في فجر اليوم الثامن من تموز/يوليو 2013 وأثناء قيام المعتصمين بأداء صلاة الفجر حيث قامت قوات الداخلية والجيش بارتكاب مجزرة بشرية راح ضحيتها عشرات الشهداء.. ومجزرة النصب التذكاري في اليوم السابع والعشرين من تموز/يوليو 2013 حيث تعرضت مسيرة لرافضي الانقلاب لمجزرة بشعة على يد الجيش والبلطجية بقتل ما يقارب 200 شهيد وسقوط نحو 4 آلاف جريح، ومن منا لا يتذكر اليوم المشؤوم على الشعب المصري، اليوم الرابع عشر من آب/أغسطس 2013 والذي قامت فيه قوات الجيش مدعمة بالمجنزرات والدبابات باقتحام اعتصامي رابعة العدوية وميدان النهضة والذي حصدت فيه ما يقارب ثلاثة آلاف شهيد وعشرة آلاف مصاب في رابعة العدوية ومئات الشهداء والجرحى في النهضة.

هذه كانت إنجازات السيسي في بداية حكمه، وهذه كانت هديته التي قدمها للشعب المصري في بداية مشواره، وأما الانتهاكات والاضطهاد وسياسة تكميم الأفواه فحدث ولا حرج عن مئات الأطفال الذين يعانون في مراكزه الاستخبارية ومقاره الأمنية، والذين يتعرضون للتنكيل والتعذيب ليتراجعوا عن مواقفهم وعن مطالبهم التي أصبحت أضغاث أحلام، فكانت أحلامهم وردية وآمالهم خيالية ولكن الواقع صدمهم حيث أصبحت لقمة العيش والماء النظيف والأمان هي أبلغ مطالبهم وتطلعاتهم...

أيتها الشعوب المسلمة الثائرة.. إن حزب التحرير يدعوك بعد أن بان عوار الأنظمة أمامك، وأحبطت مساعيك وسُرقت ثورتك، أن تعي بأن الخلافة الواجب إقامتها شرعا ستكون هي الراعية والحامية لجميع المسلمين على اختلاف أعراقهم وجنسياتهم وألوانهم ومذاهبهم، وستملأ الأرض عدلاً وأمناً، وستكون راشدة وعلى منهاج النبوة تحسن تطبيق الإسلام... حكامها منتخبون يحبهم الناس ويحبون الناس ويرعونهم حق الرعاية، يحاربون الفقر والجوع والمرض، وليس فيها بوليس سري ولا مخابرات تتجسس على الناس، وأن ثروتها المهولة ستكون ملك رعاياها ليعيشوا عيشاً رغيداً لا حرمان فيه ولا حاجة، وأن ثرواتها لن تكون نهباً لأعدائها يستقوون بها علينا كما هو الحال اليوم... لهذا الخير ندعوكم فلتلبوا النداء، ولتخلعوا أنظمة العار والشنار من جذورها، ولتقيموا دولة الإسلام، دولة الرعاية والكفاية.. دولة السؤدد والعز والكرامة.. دولة الخلافة على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رائدة محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست