تحويل ملكية حصص إش بنك التي في يد حزب الشعب الجمهوري إلى خزينة الدولة
تحويل ملكية حصص إش بنك التي في يد حزب الشعب الجمهوري إلى خزينة الدولة

 صرح رئيس الجمهورية التركية أردوغان بتاريخ 13 تشرين الأول 2018 في حفل افتتاح عام في قيصري، حيث قال: "يوجد لحزب الشعب الجمهوري حصص بنسبة 28% في إش بنك... لم يقم بذلك الغازي مصطفى كمال حتى يستخدمها حزب الشعب الجمهوري، بل قام بذلك حتى تعود لخزينة الدولة... نحن طرحنا هذا الموضوع في البرلمان، وقد أعلن حزب الحركة القومية دعمه لنا، إن شاء الله سنقوم بتمرير ذلك في البرلمان، وسنضمن تحويل ملكية هذه الحصص إلى خزينة دولة تركيا الجمهورية

0:00 0:00
Speed:
October 25, 2018

تحويل ملكية حصص إش بنك التي في يد حزب الشعب الجمهوري إلى خزينة الدولة

تحويل ملكية حصص إش بنك التي في يد حزب الشعب الجمهوري إلى خزينة الدولة

(مترجم)

الخبر:

صرح رئيس الجمهورية التركية أردوغان بتاريخ 13 تشرين الأول 2018 في حفل افتتاح عام في قيصري، حيث قال: "يوجد لحزب الشعب الجمهوري حصص بنسبة 28% في إش بنك... لم يقم بذلك الغازي مصطفى كمال حتى يستخدمها حزب الشعب الجمهوري، بل قام بذلك حتى تعود لخزينة الدولة... نحن طرحنا هذا الموضوع في البرلمان، وقد أعلن حزب الحركة القومية دعمه لنا، إن شاء الله سنقوم بتمرير ذلك في البرلمان، وسنضمن تحويل ملكية هذه الحصص إلى خزينة دولة تركيا الجمهورية، عندما سمع كيليشتار أوغلو ذلك غضب طبعا. وقال (نحن لا نستخدم تلك الحصص)، وهل كنت ستجرؤ على استخدامها فعلا؟ ما الذي يفعله عضو مجلس الإدارة غير رفع يده وإنزالها. ولكن ما يختفي وراء ذلك نحن نعلمه. وسوف نمرر ذلك في البرلمان في أقرب فرصة، بعد ذلك يقوم إش بنك بالدفع للخزينة". كذلك في 20 تشرين الأول 2018 لدى عودته من رحلة مولدوفا التي استمرت ليومين، قام بتصريحات مهمة بشأن الوضع على الساحة حيث قال: "هناك أمر آخر: فحصص شركة شيشة جام التركية... شريكة إش بنك. فإلى ماذا يتجه ذلك بشكل غير مباشر؟ يتجه نحوهم (حزب الشعب الجمهوري). يعني أن هناك حصة أيضا ينبغي أن تحصل عليها الخزينة من شركة شيشه جام". (الأخبار)

التعليق:

كما هو معلوم لدى العديد من الناس، أن هذه الأموال المذكورة كحصص لدى إش بنك، إنما هي مجمل الأموال التي تم تجميعها من مسلمي الهند في عهد الأزمة التي تعرضت لها دولة الخلافة العثمانية وتم إرسال الأموال إلى عاصمة الخلافة. حيث كانت هذه الأموال حصيلة مساعدات جميع ما يملكه الأغنياء والفقراء والنساء والأطفال جميعهم للخلافة. حيث استجابت النساء بالتبرع بالخواتم التي في أصابعهن وجميع قطع الزينة التي يملكنها كلها. حتى إنه تمت مشاهدة مشهد تضحية عظيم من امرأة مسلمة لا تملك غير طفلها، فحاولت بيعه في السوق لإرسال ثمنه مساعدة لدولة الخلافة.

تم ظهور أرقام مختلفة بشأن كمية الأموال التي تم تجميعها كمساعدة من مسلمي العالم. وبسبب فرق سعر الصرف بين الليرة العثمانية والإسترليني الإنجليزي والذهب، والأخطاء في الوثائق أصبحت هذه الأرقام المختلفة محط النظر. مساعد الأستاذ د. مصطفى كسكين أحد أساتذة جامعة ارجياس، بحث معلومات بهذا الشأن في كتابه باسم "مساعدات مسلمي الهند لتركيا في الكفاح القومي" عام 1991، كما تم أيضا تخصيص مجال للأموال المرسلة من أجل المساعدة من لجنة الخلافة في الهند ومن أماكن مختلفة مع وثائق إثباتها. بناء على ذلك فإن الأموال التي تم إرسالها من مسلمي الهند فقط ومن باقي المناطق كمساعدة لدولة الخلافة هي كالتالي:

المرسلة من مسلمي الهند: 781.571 ليرة + 122.000 إسترليني

مجموع المرسلة من باقي المناطق: 254.038 ليرة + 8.250 إسترليني

وخاصة الأموال المرسلة من قبل مسلمي الهند، قام مصطفى كمال بإدراجها تحت عنوان "المبلغ المرسل من لجنة الخلافة في الهند إلى أمري مباشرة". ووفقا لما بينه الكاتب في كتابه، فإن مجموع النفقات التي تمت من هذه الأموال كما ذكر في السجلات هو 434 ألف و799 ليرة. وحسب تعليق الكاتب، يبدو أنه تم استخدام 1 مليون ليرة من الأموال المتبقية كرأس مال في تأسيس إش بنك، ذلك في حال تم تعويض النفقات السابقة من مالية الدولة.

ومع ما يتعلق بخيانة عملاء الإنجليز داخل دولة الخلافة العثمانية من خسارة الليرة العثمانية قيمتها عبر الزمن (وفقا لنظام الأموال الذهبية الذي تم إصداره من جديد وفقا لقانون الصكوك الموحدة بتاريخ 8 نيسان 1916، فإن ليرة ذهبية واحدة (100 قرش) تساوي 7.216 غم من الذهب)، فإن الليرة الذهبية أصبحت تساوي 7 ليرات مع إعلان الجمهورية. كذلك عند التدقيق في قدرة تحصيل 1 مليون و500 ألف ليرة التي تم إرسالها من المسلمين من جميع أنحاء العالم، باعتبار ذلك الوقت نرى أنها أعلى بمئات الأضعاف عنها من زمننا هذا، وبذلك نشد الانتباه هنا ونرى كم هي هذه الأموال مهمة وقيمة.

حسب التقييمات التي قام بها الكاتب المعني، فعلى الأغلب أن جميع الأموال في إش بنك وليس حصة 28% التابعة لحزب الشعب الجمهوري فقط، بل هي جميعها الأموال المرسلة من مسلمي العالم والمغتصبة. للأسف فإنه لا توجد معلومات واضحة وقطعية أين وكيف تم إنفاق جزء كبير من هذه الأموال، إلى جانب ذلك فإن جزءاً مهماً من الأموال التي تم تسجيلها، استخدم في مجالات حرمها الله تعالى، تحارب الله ورسوله. فبهذا التصرف الذي يخدم خطط الإنجليز تم تحدي الله تعالى ورسوله e والمسلمين بشكل صريح جدا.

غير أنه يمكننا التعليق على تصريحات أردوغان بشأن تحويل ملكية الحصص التابعة لإش بنك إلى خزينة الدولة، كما يلي:

1-  يسعى أردوغان إلى استخدام هذه الحصص التي في يد حزب الشعب الجمهوري، في الانتخابات المحلية كأداة ترويجية للانتخابات. لأنه بسبب الظروف التي نعيشها حاليا تعتبر هذه أنسب وأفضل أداة ترويجية يمكن استخدامها في الانتخابات.

2-  كما هو معلوم فقد تعرض الاقتصاد في تركيا إلى أزمة كبيرة بسبب ارتفاع سعر الدولار بشكل كبير. حيث تسبب ذلك في ارتفاع أسعار البضائع والخدمات بنسبة 40-100%. كما أن التضخم الذي كان قد أعلن عنه اعتبارا من بداية السنة والذي يقدر بـ9%، أصبح في الوقت الراهن يقارب 25-30% وفقا للأرقام الرسمية. وأيضا فإن الفائدة الأساسية وما يرتبط بها من فائدة القروض التي تم تحديدها من قبل البنك المركزي قد ارتفعت لأكثر من 30%. لذلك فإن أردوغان يسعى لتحويل ملكية حصص إش بنك إلى الخزينة من أجل حل العديد من القضايا الاقتصادية مثل عجز الميزانية والديون الخارجية، وأيضا تحويل حصص شيشة جام إلى الخزينة أيضا لتخفيف حدة الأزمات المالية.

أما من وجهة نظر الإسلام فينبغي إلغاء جميع حصص إش بنك وليس فقط 28%. كذلك ليس الأمر مقتصراً على إش بنك فقط بل ينبغي إغلاق جميع البنوك التي تقدم الخدمات حاليا، وإيقاف جميع المعاملات الربوية في جميع أشكالها. لأن الله حرم الربا في جميع أشكاله. حيث إن السبب الرئيسي في الأزمات الاقتصادية التي نعيشها اليوم يترأسه النظام البنكي الربوي، وجميع البنوك، ونظام النقود الورقية والبورصة. وهذه جميعها من الأمور التي حرمتها الشريعة الإسلامية، والقضاء عليها جميعها فرض.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحربر

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست