تحويل وصف الوسطية من وصف للأمة إلى وصف للإسلام هو تضليل، وتمييع للدين
تحويل وصف الوسطية من وصف للأمة إلى وصف للإسلام هو تضليل، وتمييع للدين

الخبر:   أكد الأمين العام للحركة الإسلامية السودانية، الشيخ/ الزبير أحمد الحسن، في الملتقى التشاوري حول الرؤية المستقبلية للحركة، أن الحركة تسعى لإقامة الإسلام السني، الوسطي، المعتدل، المتسامح، مبيناً أنه بالتوبة، والأوبة، والعودة لله سبحانه وتعالى، وتصويب الأخطاء، نكون أقرب إلى الله سبحانه وتعالى، وتتفتح علينا بركات الأرض والسماء، ويعبر السودان الظروف الاقتصادية الحالية. (سونا 2018/2/8م).

0:00 0:00
Speed:
February 13, 2018

تحويل وصف الوسطية من وصف للأمة إلى وصف للإسلام هو تضليل، وتمييع للدين

تحويل وصف الوسطية من وصف للأمة إلى وصف للإسلام

هو تضليل، وتمييع للدين

الخبر:

أكد الأمين العام للحركة الإسلامية السودانية، الشيخ/ الزبير أحمد الحسن، في الملتقى التشاوري حول الرؤية المستقبلية للحركة، أن الحركة تسعى لإقامة الإسلام السني، الوسطي، المعتدل، المتسامح، مبيناً أنه بالتوبة، والأوبة، والعودة لله سبحانه وتعالى، وتصويب الأخطاء، نكون أقرب إلى الله سبحانه وتعالى، وتتفتح علينا بركات الأرض والسماء، ويعبر السودان الظروف الاقتصادية الحالية. (سونا 2018/2/8م).

التعليق:

إن مصطلح الوسطية لم يظهر عند المسلمين إلا في العصر الحديث، وبسوء فهم، وتأويل، يقولون إن الإسلام دين الوسطية، التي تعني الاعتدال، وعدم التطرف، ولكن عند التعمق، يتضح أنه مصطلح دخيل، مستعار في لفظه وفي معناه!

لأن الإسلام لم يكن أبداً توفيقاً بين غلو وتطرف، أو بين إفراط وتفريط، أي بين باطل وباطل، بل هو الحق الذي لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من الرحمن الرحيم، بل إن الجاهليين رفضوا أن يكونوا وسطاً بين البينين، إذ قال شاعرهم: (وإنا لقوم لا توسط بيننا ... لنا الصدر دون العالمين أو القبر).

أما وصف الأمة بالخيرية، فيعني جعل الله تعالى أمة الإسلام أمة وسطاً، والوسط في اللغة هنا ليس الأمر ما بين الأمرين، أو التوفيق ما بين الطرفين، وإنما هو الصدر يقال: "كان محمد وسطاً في قومه"، أي أخيرهم، وأفضلهم نسباً وخلقاً.

أما الآية الكريمة: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً﴾. فهي وصف لأمة محمد rبأنها الأمة التي تشهد على الناس، ويجب أن تكون خير الأمم حتى يمكنها ذلك. ولا يمكنها أن تشهد على الأمم وهي توفق بين باطل وباطل، بل إن شهادتها على الناس، كما هو مبين من الآية، نابع من ارتباطها بالوحي، أي بكتاب الله وسنة الرسول r، ولا تكون كذلك حتى تأمر بالمعروف، وتنهى عن المنكر، وتؤمن بالله، فتكون شاهدة بذلك على الأمم، كما يشهد رسول الله r على أمتنا بتبليغه الرسالة لها، وإقامته للدين.

والخيرية عرفها الله تعالى في محكم التنزيل: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ﴾. إن الأمة الإسلامية أمة عدل، والعدل من شروط الشاهد في الإسلام. والأمة الإسلامية ستكون شاهدة على الأمم الأخرى على أنها بلّغتها الإسلام. فالآية وإن جاءت بصيغة الإخبار فهي طلب من الله تعالى للأمة الإسلامية أن تبلغ الإسلام لغيرها من الأمم، وهذا مقتضى الشهادة ومقتضى شهادتها أنها خير الأمم وأشرفها وأعلاها، ولا يستشعر هنا أي نوع من الوسطية والاعتدال الذي يدعيه المدعون ويروج له المروجون!

والحقيقة، أن مصطلح الوسطية الشائع في زماننا هذا، هو كلمة حق أريد بها باطل، وهو جحر الضب الذي دخله الغربيون الرأسماليون، عندما أقصوا الدين عن الحياة فبنوا عقيدة مبدئهم على هذا الحل الوسط، وهو الحل الذي نشأ نتيجة الصراع الدموي بين الكنيسة والملوك التابعين لها من جهة، وبين المفكرين والفلاسفة الغربيين من جهة أخرى، فالفريق الأول يرى أن الدين النصراني دين صالح لمعالجة جميع شؤون الحياة، والفريق الثاني يرى أن هذا الدين غير صالح لذلك، فهو سبب الظلم والتأخر، فأنكروه وأنكروا صلاحيته، واستعاضوا عنه بالعقل؛ الذي هو، حسب رأيهم، قادر على وضع نظام صالح لتنظيم شؤون الحياة.

وبعد صراع مرير بين الفريقين اتفقوا على حل وسط وهو الاعتراف بالدين على أنه ينظم العلاقة بين الإنسان وخالقه فقط، ولا دخل له في الحياة مطلقا، واتخذوا فكرة فصل الدين عن الحياة عقيدة لمبدئهم، انبثق عنها النظام الرأسمالي، الذي نهضوا على أساسه مادياً، ثم حملوه إلى غيرهم من الناس بطريقة الاستعمار.

وبدل أن ينتقد العلماء والمفكرون، فكرة الوسطية، أو الحل الوسط، ويظهروا عوارها ويبينوا خطأها وزيفها، وأنها تناقض الإسلام جملة وتفصيلا، أخذوا بها وصاروا يدعون أنها موجودة في الإسلام، بل إن الإسلام حسب زعمهم قائم عليها، فهو بين الروحية والمادية، وبين الواقعية والمثالية، وبين الإفراط والتفريط، بل منهم من قالوا: (إن وسطية الأمة الإسلامية إنما هي مستمدة من وسطية منهجها ونظامها، فليس فيها غلو اليهود، ولا تساهل النصارى...) وهكذا أصبحوا يؤولون ويلوون أعناق النصوص لتوافق ما ذهبوا إليه!

إن فكرة الوسطية أو الحل الوسط، أرادوا أن يلصقوها بالإسلام، باسم الاعتدال، والتسامح، وعدم التطرف وذلك لإفراغ الإسلام من محتواه، وجعله دينا كهنوتياً، ويا لفرحة أعداء الإسلام بذلك، الذين لم يستطيعوا تركيع الأمة بالجيوش الجرارة، ولكنهم أوجدوا أفكاراً خطرة لضرب الإسلام، كفكرة الوسطية والاعتدال، وقد أعانهم عليها أولياؤهم من بني جلدتنا يعملون في الإسلام هدماً لم تستطع القوة المادية أن تفعله.

تبين لنا من كل ما سبق أنه لا وسطية، ولا حل وسطاً في الإسلام، وإنه إما إسلام، وإما كفر، لأن النور والظلام لا يلتقيان. وعليه فإنه يجب أن نرفض بكل عزم وإصرار، وبكل ما أوتينا من قوة، فكرة التطرف والاعتدال والوسطية، وكل الأفكار الغربية التي لها مساس بعقيدتنا وديننا، ويجب علينا أيضا أن نرفض بشدة تدخل الغرب في أمور ديننا، بالعمل الجاد لإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، التي ستطبق شرع الله علينا فنكون خير أمة أخرجت للناس؛ نأمر أنفسنا، وكل العالم بالمعروف، وننهى أنفسنا والعالم عن المنكر.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار – أم أواب

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست