تجديد الخطاب الإسلامي اليوم يكون بوضع الإسلام موضع التطبيق  وليس الانخراط في نظام يحكم بغير الإسلام ويحارب أحكامه!
تجديد الخطاب الإسلامي اليوم يكون بوضع الإسلام موضع التطبيق  وليس الانخراط في نظام يحكم بغير الإسلام ويحارب أحكامه!

قالت جريدة الشروق، الخميس 2024/7/4م، إن وزير الأوقاف الجديد أسامة الأزهري، بدأ مهام عمله بديوان عام الوزارة، للوقوف على أولويات العمل خلال الفترة المقبلة، حيث اجتمع الأزهري مع قيادات الوزارة، لمناقشة عدد من الملفات، منها الأنشطة الدينية، وآليات تطوير الخطاب الديني، فضلا عن الخطة الدعوية، وتأهيل وتدريب الأئمة. وقال مصدر بوزارة الأوقاف، إن الأزهري أكد لقيادات الوزارة، على ضرورة استمرار الجهود ضمن خطة الأنشطة الدينية،

0:00 0:00
Speed:
July 09, 2024

تجديد الخطاب الإسلامي اليوم يكون بوضع الإسلام موضع التطبيق وليس الانخراط في نظام يحكم بغير الإسلام ويحارب أحكامه!

تجديد الخطاب الإسلامي اليوم يكون بوضع الإسلام موضع التطبيق

وليس الانخراط في نظام يحكم بغير الإسلام ويحارب أحكامه!

الخبر:

قالت جريدة الشروق، الخميس 2024/7/4م، إن وزير الأوقاف الجديد أسامة الأزهري، بدأ مهام عمله بديوان عام الوزارة، للوقوف على أولويات العمل خلال الفترة المقبلة، حيث اجتمع الأزهري مع قيادات الوزارة، لمناقشة عدد من الملفات، منها الأنشطة الدينية، وآليات تطوير الخطاب الديني، فضلا عن الخطة الدعوية، وتأهيل وتدريب الأئمة. وقال مصدر بوزارة الأوقاف، إن الأزهري أكد لقيادات الوزارة، على ضرورة استمرار الجهود ضمن خطة الأنشطة الدينية، والعمل على تجديد الخطاب الديني، فضلا عن المتابعة المستمرة مع المديريات بمختلف المحافظات، وتطوير العمل الدعوي وتطوير وتأهيل الأئمة والواعظات، وإعداد برامج دعوية خاصة بالشباب تراعي احتياجاتهم واهتماماتهم وتستجيب لتساؤلاتهم.

التعليق:

بعد أن عمل مستشاراً للرئيس المصري لسنوات كوفئ الأزهري بأن عُيّن وزيرا في الحكومة الجديدة ليكمل مسار سلفه في تنفيذ خطة تجديد الخطاب الديني ومحاولة ملء الفراغ الذي أوجدته الضربات المتتالية للحركات الإسلامية لجذب الشباب والتأثير في أفكارهم لتكون ضمن الإطار الذي تقبله الدولة ويقبلون بما تمليه عليهم ولا يرفضون سياساتها ولا يرون غضاضة في تحكيم الديمقراطية وقوانينها الرأسمالية النفعية ولا يغضبهم نهب ثروات البلاد أو التفريط فيها لصالح الغرب الكافر المستعمر.

هذا ما يريد الغرب بناءه في شباب الأمة وما انتهج في سبيله الرئيس المصري خطة تجديد الخطاب الديني وهي في حقيقتها ليست تجديدا للخطاب وإنما محاولات لسلخ الإسلام عن عقيدته السياسية وإيجاد فهم آخر للإسلام يرضى عن الغرب ويرضى الغرب عنه والله عز وجل يقول: ﴿وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾.

فالغرب لن يرضى عن أمة الإسلام إلا عندما تنسلخ عنه تماما، وهو ما يسعى إليه النظام ويجند في سبيل ذلك جنوده، فالنظام المصري ومن يومه الأول يطرح نفسه للغرب رأس حربة في صراعه مع الإسلام وشرعه وأحكامه، وهو مستمر في طنطنته حول تجديد الخطاب الديني، أو لِنَقُلْ احتكاره وتفسير مفاهيم الإسلام بما يرضي سادته في الغرب ويبتعد بالأمة عن مشروعها الحضاري القادر على إنهاضها وبناء مستقبلها وإحيائها حياة كريمة؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، مدعيا أنه بهذا يواجه من يحرفون الكلم عن مواضعه وينشرون الأفكار الهدامة، بينما هو ومن لف لفيفه من يحرفون الكلم ويفسرون الأمور حسب ما يرضي الغرب لا على أساس عقيدة الإسلام، ولا على أساس واقعها ولا من استقراء الأدلة الشرعية، وبإهمال العقل وبتفكير لا يصل حتى إلى السطحية بل ربما بدون تفكير، وبتسليم كامل لما يريده الغرب صاحب السيادة والقرار!

إن التجديد الحقيقي يكون بالعودة إلى أفكار الإسلام وأحكامه ومفاهيمه كما جاءت بيضاء نقية وإزالة ما علق بها من شوائب ليست من الإسلام وأحكامه، لا الانسلاخ منها واتباع أفكار وأحكام ومفاهيم ليست من الإسلام من أجل نيل رضا الغرب باتباع نهجه ونظامه في الحياة والتلبيس على الناس والزعم بأن ذلك تجديد.

إن تجديد الإسلام وخطابه لا يكون في ظل أنظمة أعلنت الحرب على الله ورسوله وشرعه مطبقة على الناس أنظمة الغرب ورأسماليته، وعاملة على ضمان بقاء أرض الإسلام خاضعة لسلطانه، تابعة لسيادته، ينهب ثرواتها وخيراتها كيفما شاء، بل التجديد يكون بتنقية الإسلام وعقيدته من أفكار الغرب ومفاهيمه، وهذا يحتاج لكتلة واعية مخلصة تقوم على فهم أفكار الإسلام بعد تنقيتها من أفكار الغرب ومفاهيمه فهما صحيحا كفهم أصحاب النبي ﷺ، ويحملونها كحملهم، فيعملون على استئناف الحياة الإسلامية من جديد في دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تحمل الإسلام للعالم بالدعوة والجهاد رسالة هدى ونور تخرج الناس من ظلمات الرأسمالية وجشعها وجورها إلى نور الإسلام وعدله الذي ليس فوقه عدل.

إن العلماء هم أعلم الناس بحلال الله وحرامه وما فرضه عليهم من وجوب تطبيق الإسلام وتحريم تطبيق غيره من الأنظمة الوضعية ومنها الديمقراطية، فواجبهم الآن هو نبذ هذه الديمقراطية وتحذير الناس منها وبيان شرها، ودعوتهم إلى أن يكون الإسلام هو منهج حياتهم وأساس تفكيرهم، وأن تكون أحكامه هي قوانينهم وعلاج كل مشكلاتهم في الحياة، هذا ما يجب أن يعمل عليه علماء مصر جميعا لكي يكونوا حقا مجددين لدين هذه الأمة ولتنبعث على أيديهم من جديد متمسكة بعقيدة الإسلام وما انبثق عنها من أحكام، ساعية لكي تكون هذه العقيدة هي أساس الدولة ودستورها وكيانها وكل ما فيها، وتكون الأحكام التي انبثقت عنها هي دستورها وكافة قوانينها، هذا هو التجديد وهذا ما يملأ الفراغ وما يجب أن تملأ به عقول أبناء الأمة، وما عداه سير في ركاب الغرب، وسعي في مؤامراته. نسأل الله أن يبرأ منه علماء الأزهر وعلماء الكنانة وأن يكونوا في طليعة العاملين للتجديد الحقيقي باستئناف الحياة الإسلامية من جديد في ظل دولة الإسلام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست