تكالب دول الكفر على المسلمين لن يحول دون ظهور الإسلام
November 25, 2015

تكالب دول الكفر على المسلمين لن يحول دون ظهور الإسلام

الخبر:

أوردت وكالات الأنباء خبر رسوّ البارجة الأمريكية آرلنجتون في ميناء العقبة في الأردن يوم الخميس 19/11/2015.

التعليق:

تأتي زيارة البارجة الأمريكية آرلنجتون للأردن بعد تزايد الحديث عن ضرورة استعمال قوات برية في الحرب ضد تنظيم الدولة وذلك في أقل من أسبوع من أحداث باريس. وقالت السفيرة الأمريكية "ليس لدى الولايات المتحدة الأمريكية شريك عربي أقوى من الأردن وأن الشراكة بين الأردن والولايات المتحدة متينة، والأردن واحد من أكثر حلفائنا قدرة وصمودا، وأود أن أؤكد مجددا التزام الولايات المتحدة باستقرار الأردن وتنميته وازدهاره".

وكان ديفيد أوين وزير الخارجية البريطانية الأسبق قد نوه في مقال له في أيلول إلى ضرورة تفويض الأردن إلى تحقيق الاستقرار في الصراع داخل وحول دمشق والدفاع عن هذه المدينة كعاصمة متعددة الأديان. ويضيف أوين "أنه لا أحد يمكن أن يقوم بهذا التفويض سوى بلد واحد في المنطقة فقط وهو الأردن بما تتمتع به من قدرة عسكرية وإدارية ذات مصداقية يمكن أن تكون معتمدة ومدعومة من قبل دول المنطقة. وتكون بدعم وتفويض كامل من السلطة الدولية ممثلة في مجلس الأمن الدولي لذلك سيكون لديه فرصة مناسبة للنجاح”' وكان هولاند رئيس فرنسا قد أكد أن الانتصار على تنظيم الدولة يقتضي حربا برية إلا أن باريس لن ترسل قوات برية. ما يعني أن الدول الغربية مجمعة على أن أي عمل عسكري على الأرض ضد تنظيم الدولة لا بد أن يأتي من قوات عربية بالدرجة الأولى كالعراق والأكراد وبعض الفصائل السورية والتي يتواجد جزء منها على الأراضي الأردنية وجزء آخر على الأراضي التركية.

من هنا فإن زيارة البارجة الأمريكية للأردن جاءت لتؤكد على دور أساسي يلعبه الأردن في الأيام والأسابيع القادمة في إنهاء الأزمة السورية على النهج الذي تريده أمريكا والمتمثل بالقضاء على الثورة في سوريا من جهة ونقل السلطة في سوريا إلى جهة ترضى عنها أمريكا والحفاظ على علمانية سوريا. ولا شك أن أي دور يلعبه الأردن في هذا الصدد سيجعل أمن الأردن وحدوده عرضة لعدم الاستقرار، سواء أكان هذا الدور متمثلا بتوفير قاعدة لانطلاق قوات برية جرى تدريبها على الأراضي الأردنية من المنشقين عن الجيش السوري، أو قوات من الجيش الأردني، أو انطلاق طائرات حربية من المطارات الأردنية، أو الاضطلاع بدور تصنيف الجماعات المقاتلة في سوريا إلى إرهابية أو غير إرهابية. أم كان هذا الدور هو ما صرح به ديفيد أوين من عمل منظم للسيطرة على دمشق بعيد سقوط أو اسقاط بشار.

كل ذلك يعني أن الأردن سيتعرض إلى ضغوطات شديدة قد تؤدي إلى زعزعة استقراره وتعرضه لهجمات شديدة، وهو الأمر الذي يستدعي وجود دعم عسكري وتطمين دولي للأردن ودعم استقراره، وهو ما أكده ديفيد أوين في تصريحه الذي أكد فيه على ضرورة إعطاء الأردن تفويضاً ودعماً من قبل السلطة الدولية والتي تعني حقيقة أمريكا وأوروبا. وهو كذلك ما تعنيه زيارة البارجة الأمريكية للأردن وتصريح السفيرة الأمريكية بقولها "وأود أن أؤكد مجددا التزام الولايات المتحدة باستقرار الأردن". كل ذلك يدلل على أن الأردن منوط به أعمال تقتضي وجود دعم دولي وحماية من قبل أرباب الحرب في سوريا والعراق.

ومما لا شك فيه أن للأردن دورا رئيسا وبارزا لا بد أن يلعبه ويقوم به. ولكن هذا الدور ليس هو الدور الذي تفرضه أمريكا أو يقترحه ديفيد أوين أو تحدده له أوروبا وبريطانيا. بل هو الدور الذي يفرضه الإسلام عقيدة أهل الأردن ودين المسلمين فيها. وهو عين ما جاء في قوله تعالى ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا﴾. فالله تعالى يفرض على الأردن وتركيا وغيرها من بلاد المسلمين أن تحرك جيوشها لإنقاذ المستضعفين من الرجال والنساء والولدان في سوريا. ورسول الله r يقول «المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله» ويقول: «المسلمون كالجسد اذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد»، فما بالك إذا اشتكى ملايين المسلمين في الشام من القتل والتشريد والجوع والقهر. فكل ذلك يفرض على الأردن وغيرها من بلدان المسلمين ليس دورا تريده أمريكا، بل واجبا شرعيا يحتمه الإيمان بالله ورسوله. ثم إن هذا الدور يجب أن يكون ذاتيا، ولا يجوز أن يكون من قبل أمريكا وبريطانيا ولا بحمايتها. فحماية أمريكا ببوارجها أو بريطانيا بتعهداتها من شأنها أن تجعل الأردن وشعبه تحت الحماية الأجنبية وهي عودة للاستعمار الذي طالما تغنى الشعب بالاستقلال عنه والخروج من حماية الكافر المستعمر. فها نحن نعيد البلد وشعبه إلى الحماية والسيطرة والاستعمار بشكل مباشر. والله تعالى حرم على المسلمين أن يجعلوا للكافر سبيلا وسلطانا عليهم، وأي سلطان وسبيل أكبر من تحويل البلد إلى أداة طيعة لتحقيق أهداف وغايات الكافر المستعمر بغض النظر عن المسميات!

وأخيرا لا بد من التأكيد أن مشكلة سوريا وأزمتها ابتداء ليست مشكلة إرهاب كما تصورها أمريكا، بل هي مشكلة نظام جائر وطاغوت مستكبر وقهر مستمر للشعب بكافة فصائله من قبل حكام ظلمة عملاء أعلنوا عداءهم للأمة وشنوا على الأمة حرب إبادة. فالإرهاب في سوريا هو إرهاب الدولة أولا وآخرا، وما الثورات التي تحركت ضد هذا النظام إلا رد فعل بسيط وغيض من فيض إذا ما قورن بالقهر الذي مارسه هذا الحكم الجائر على شعبه. لذا فإن قبول الأردن أن يكون أداة للحرب على ما سمته أمريكا إرهابا لا ينسجم مع حقيقة المعركة والواقع السياسي في سوريا، بل هو انسياق لتنفيذ مخططات أمريكا في المنطقة.

وكان ينبغي على الأردن حكومة وشعبا وجيشا أن يكونوا رواد عز وكرامة في سبيل إعلاء كلمة الله ليس في سوريا فحسب بل ومن قبلها في الأردن ومن بعدها في سائر بلاد المسلمين. ﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد ملكاوي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست