تخلى رئيس الوزراء عن منصبه، فهل سيكون هناك تغيير؟
تخلى رئيس الوزراء عن منصبه، فهل سيكون هناك تغيير؟

الخبر:   في الشهر الماضي، واجه رئيس الوزراء الثامن لماليزيا، تان سري محيي الدين ياسين، ضغوطاً متزايدة للتنحي بعد أن سحب سياسيون من المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة - أكبر حزب في الائتلاف الحاكم (التحالف الوطني) - الدعم. واعترف رئيس الوزراء لاحقاً بأنه لا يتمتع بأغلبية وحاول استمالة المعارضة من خلال الوعد بإصلاحات سياسية وانتخابية، ولكن فشلت المحاولة، وفي 16 آب/أغسطس 2021 تخلى محيي الدين عن منصبه، وتم تعيين نائب رئيس الوزراء آنذاك، داتوك سيري إسماعيل صبري يعقوب، رئيس الوزراء التاسع الجديد لماليزيا في 20 آب/أغسطس 2021. ولم يقم رئيس الوزراء بعد بتعيين أعضاء وزرائه.

0:00 0:00
Speed:
August 29, 2021

تخلى رئيس الوزراء عن منصبه، فهل سيكون هناك تغيير؟

تخلى رئيس الوزراء عن منصبه، فهل سيكون هناك تغيير؟

(مترجم)

الخبر:

في الشهر الماضي، واجه رئيس الوزراء الثامن لماليزيا، تان سري محيي الدين ياسين، ضغوطاً متزايدة للتنحي بعد أن سحب سياسيون من المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة - أكبر حزب في الائتلاف الحاكم (التحالف الوطني) - الدعم. واعترف رئيس الوزراء لاحقاً بأنه لا يتمتع بأغلبية وحاول استمالة المعارضة من خلال الوعد بإصلاحات سياسية وانتخابية، ولكن فشلت المحاولة، وفي 16 آب/أغسطس 2021 تخلى محيي الدين عن منصبه، وتم تعيين نائب رئيس الوزراء آنذاك، داتوك سيري إسماعيل صبري يعقوب، رئيس الوزراء التاسع الجديد لماليزيا في 20 آب/أغسطس 2021. ولم يقم رئيس الوزراء بعد بتعيين أعضاء وزرائه.

التعليق:

لا أحد ينكر رغبة الماليزيين في التغيير، وقد تجلى ذلك، خاصة خلال السنوات العشر الماضية. منذ الاستقلال، تناوبت ماليزيا على ستة رؤساء وزراء جاؤوا من المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة ومع ذلك، في الانتخابات العامة الأخيرة، انتهى الحكم الطويل لائتلاف المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة-الجبهة الوطنية، الذي كان غارقاً بالفساد وإساءة استخدام السلطة. وقرر الناس أنهم قد اكتفوا من المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة وقرروا رفض أكبر تحالف سياسي في البلاد.

إن هزيمة تحالف المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة-الجبهة الوطنية بعد 61 عاماً من حكم البلاد هي نتيجة موجة من الأشخاص الذين يرغبون في التغيير، وهذه الموجة كبيرة جداً لدرجة أنها نحتت تاريخها السياسي الخاص. تولى تحالف الأمل رئاسة الحكومة من الجبهة الوطنية الماليزية التي يهيمن عليها حزب الجبهة الوطنية مع تون دكتور مهاتير محمد بصفته رئيس الوزراء الماليزي السابع. وكان الدكتور مهاتير في الماضي، رابع رئيس وزراء لماليزيا لمدة 22 عاماً.. في ظل المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة أصبح مهاتير، الذي كان يطلق عليه "الفرعون"، أمل الماليزيين الذين يتطلعون إلى التغيير. التغيير المتوقع الذي يرغب فيه الناس يثبت أنه حلم آخر. عمل مهاتير في ظل حزب سياسي جديد تماماً، بيرساتو (حزب سكان ماليزيا الأصليين المتحدين)، ووعد بحكومة نظيفة، ولكن نظراً لكونه عضواً مخضرماً في المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة، فإن أسلوبه في الحكم جعل الماليزيين يشعرون بالإحباط والمرارة. على الرغم من أن حزب عدالة الشعب وحزب العمل الديمقراطي الليبراليين يشكلان أكثر من نصف ائتلاف تحالف الأمل، إلا أن بيرساتو تحول، بشكل محبط، إلى المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة الأخرى.

لم يشهد شعب ماليزيا بشكل عام سوى القليل من التغيير. بالنسبة للمفكر المستنير، ليس هذا أمرا غير متوقع. فكيف يمكن أن يكون هناك تغيير عندما يتغير القبطان فقط ولكن السفينة هي ذاتها تماماً؟! إن نظام الحكم رأسمالي بلا شك، وإطار التفكير علماني بلا شك، والأسلوب هو مزيج من الليبرالية - المنظمة الوطنية الماليزية المتحدة. بعد ذلك، ونتيجة للمؤامرة السياسية، انهارت حكومة تحالف الأمل بطريقة غير ديمقراطية على ما يبدو، ولكن في الواقع، يبررها النظام الديمقراطي. ظل بيرساتو هو الحزب الحاكم مع عودة المنظمة الوطنية للملايو المتحدين إلى السلطة، وتمكن الحزب الإسلامي الماليزي من وضع قدمه في بوتراجايا لأول مرة. بالنسبة للمسلمين، فإن صعود الحزب الإسلامي الماليزي يضع أملاً آخر في إحداث تغيير حقيقي. لقد ظل الحزب الإسلامي الماليزي يكافح منذ عقود لتطبيق الإسلام، والآن هم موجودون بالفعل في بوتراجايا. ومع ذلك، ومن جديد، يشعر المتفائلون بخيبة أمل، لأنه لم يتغير شيء، بل في الواقع أصبح الوضع أكثر سوءا! والآن، مع رئيس الوزراء الجديد، هل سيحدث تغيير حقيقي؟

للإجابة على هذا السؤال، من الضروري أن يفهم المرء ما الذي يشكل تغييراً حقيقياً.

يمكن أن يحدث التغيير الحقيقي فقط عندما يخضع أساس الدولة ونظامها ودستورها وقوانينها لتغيير جوهري. ما كان يحدث في ماليزيا، التغيير الذي يتوقعه المرشحون، ليس في الحقيقة أكثر من تغيير في واجهة الحكم. حيث يتغير القادة، وقد تتغير الأساليب، لكن النظام والدستور والقوانين تظل كما هي! أيا من كان في السلطة، حتى لو كان حزبا إسلاميا، فسيتمسك بالنظام والدستور والقوانين نفسها. وبالتالي، فإن السفينة المتضررة التي عفا عليها الزمن لن تحدث أي تغيير في رفاهية ركابها، بغض النظر عن مدى مهارة القبطان. حتى لو تغير القباطنة، لا يمكن أن يحدث أي تغيير حقيقي، في الواقع، ستستمر السفينة الغارقة بالفعل في الغرق، مما يعرض ركابها للخطر. ما نحتاجه هو سفينة جديدة صلبة وفعالة وكفؤة. لن يحدث قبطان جديد لسفينة ماليزيا تغييراً حقيقياً. قد يكون القبطان قادراً على توجيه السفينة القديمة بعيداً عن الأخطار مؤقتاً، ولكن دون تغيير حقيقي، سيكون مصيرها الغرق. ولا يمكن أن يحدث التغيير الحقيقي إلا عندما يحل الإسلام المبني على كتاب الله وسنة رسوله محل النظام والدستور والقوانين الحالية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست