تكريس فصل الدين عن السياسة في مصر، في ظل جائحة كورونا، لصالح "الدين"!
تكريس فصل الدين عن السياسة في مصر، في ظل جائحة كورونا، لصالح "الدين"!

الخبر:   قرر الدكتور محمد مختار جمعة وزير الأوقاف، تفويض مديري المديريات بغلق أي مسجد لا يلتزم رواده بالإجراءات الوقائية واتخاذ اللازم تجاه أي مسئول أو أي من العاملين بالمساجد يقصّر في أداء واجبه تجاه الالتزام بهذه الإجراءات. ويأتي ذلك القرار من وزير الأوقاف في ظل تصاعد انتشار فيروس كورونا المستجد وتحوره عالمياً، …

0:00 0:00
Speed:
December 26, 2020

تكريس فصل الدين عن السياسة في مصر، في ظل جائحة كورونا، لصالح "الدين"!

تكريس فصل الدين عن السياسة في مصر، في ظل جائحة كورونا، لصالح "الدين"!

الخبر:

قرر الدكتور محمد مختار جمعة وزير الأوقاف، تفويض مديري المديريات بغلق أي مسجد لا يلتزم رواده بالإجراءات الوقائية واتخاذ اللازم تجاه أي مسئول أو أي من العاملين بالمساجد يقصّر في أداء واجبه تجاه الالتزام بهذه الإجراءات.

ويأتي ذلك القرار من وزير الأوقاف في ظل تصاعد انتشار فيروس كورونا المستجد وتحوره عالمياً، …

وفي سياق متصل، أكدت وزارة الأوقاف أن من يتجاوز قد يكون سبباً في غلق المسجد الذي يتجاوز في شأنه كلية، حيث ستكون الوزارة مضطرة رغماً عنها إلى غلق أي مسجد يحدث فيه تجاوز للتعليمات، سواء في صلاة الجمعة أو في غيرها مع اتخاذ الإجراءات القانونية تجاه من يثبت تجاوزه… وفي حالة عدم التزام المصلين بالضوابط يتم غلق المسجد فوراً، وعدم فتحه لحين زوال فيروس كورونا… (موقع أخبار مصر، 2020/12/23م)

التعليق:

اهتمام غير مسبوق في مصر بأمر الدين والدين فقط وخاصة الإسلام ومساجده وعمّارها، اهتمام صارم وإجراءات عملية، وثورة في مفهوم رعاية الشؤون قل نظيره في مصر لغير المساجد! ما ربما سيُخرج العلمانيين في مصر عن صمت القبور الذي دخلوا فيه قسرا في عهد السيسي! لماذا هذا الاهتمام المفرط بالدين؟ لماذا لا تحظى بقية القطاعات بما يحظى به الدين من اهتمام ورعاية من الدولة؟ لماذا لا تطبق تلك الإجراءات الصارمة إلا على المساجد؟ أليس هذا انحيازا للدين على حساب كل ما سواه؟ وكيف تسكت الدولة عن كل التكدسات في المواصلات والمصالح والأسواق والمهرجانات… ولا تسكت بل وتوفر كل الظروف "الصحية" في المساجد؟!

إذا عرف السبب بطل العجب، فتكفي نظرة على أهم تنبيهات وزارة الأوقاف للمديريات، وخاصة البند الرابع والخامس منها لمعرفة السبب: (4- الالتزام بموضوع خطبة الجمعة وبالوقت المحدد بعشر دقائق. 5- عدم تجاوزه ذلك بأي حال مشددة بأنها ستتخذ إجراءات حاسمة جداً تجاه من يتجاوز الوقت المقرر أو يخالف الموضوع المحدد.). فالجموع في ثورة يناير لم تخرج من المسارح ولا قاعات السينما ولا الخمارات، بل لقد خرجت من المساجد وتواعدت ونظمت مليونياتها في أيام الجمعة.

فما يقض مضجع النظام المصري ليس هو كوفيد-19 أو 21 بعد التحور الجديد، بل هو أكبر مستفيد من الجائحة، حيث مكنته من إحكام قبضته على المساجد وعلى روادها. إن ما يقض مضجعه فعلا هو "نفير 21" النسخة المطورة من "نفير 11" الذي تشهد مصر ذكراه العاشرة في الأيام القادمة (ذكرى 25 يناير).

نسخة "نفير 11" لم يستهدف صميم جسد النظام في مصر ولم يسبب إلا بعض الجفاف على السطح تسبب في تصلب الجلد الخارجي (مبارك وبعض حاشيته) ومن ثم تقشر الجلد المتصلب وسقط ونشأ جلد جديد محصن ضد "نفير 11".

وبخلاف عالم الفيروسات وتحوراتها الطبيعية التي تمنحها قوة أو ضعفا، فإن عالم الثورات والأعمال السياسية الساعية إلى التغيير، فتحويراتها لا بد أن تكون في اتجاه واحد لا غير وهو الرشد والدقة والوضوح والمبدئية، حيث لا مساومة ولا مداهنة، وطرح البديل المتكامل المنبثق من عقيدة الأمة الراسخة.

يدلنا رعب النظام من المساجد ومحاربته الصريحة للإسلام في كل المنابر، أن البديل الوحيد لعفنه الرأسمالي هو الإسلام في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

إنتاج "نفير21" يجب أن نشترك جميعنا في جعله فتاكا بالأسس الفكرية الرأسمالية للنظام في مصر وفتاكا بكل أجهزته ومؤسساته وقاطعا لكل عروقه الممتدة إلى داعميه من أعداء الأمة الإسلامية، ويجب أن يحمل بديلا واضحا نقيا من الإسلام يبنى عليه الجسد الجديد اليافع الذي سيحل مكان النظام القديم المتعفن. هذا البديل هو ما يقدمه حزب التحرير ويصل ليله بنهاره لإيجاد رأي عام منبثق عن وعي عام بأنه البديل الوحيد القادر على أن يعيد الأمة لمكانتها التي ارتضاها الله لها؛ خير أمة أخرجت للناس.

﴿أَفَمَن يَمْشِي مُكِبّاً عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّن يَمْشِي سَوِيّاً عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

جمال علي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست