طلاب جامعة دودوما (أودوم) على مفترق طرق
طلاب جامعة دودوما (أودوم) على مفترق طرق

  الخبر: ذكرت وسائل الإعلام في تنزانيا أنه تم طرد ما يقرب من 8000 طالب يتبعون دبلوماً خاصاً في تربية العلوم في جامعة دودوما (أودوم). وكان سبب الأزمة هو مطالبة المحاضرين بأجر إضافي لتدريس طلاب الدبلوم. وعارضت الحكومة هذه المطالب ووصفتها بغير الواقعية. واعترف وزير التربية والعلوم والتكنولوجيا والتدريب المهني الأستاذ جويس نداليتشاكو أنهم حاولوا بجدية حل هذه القضية ولكن من دون جدوى.

0:00 0:00
Speed:
June 18, 2016

طلاب جامعة دودوما (أودوم) على مفترق طرق

طلاب جامعة دودوما (أودوم) على مفترق طرق

(مترجم)

DADO

الخبر:

ذكرت وسائل الإعلام في تنزانيا أنه تم طرد ما يقرب من 8000 طالب يتبعون دبلوماً خاصاً في تربية العلوم في جامعة دودوما (أودوم). وكان سبب الأزمة هو مطالبة المحاضرين بأجر إضافي لتدريس طلاب الدبلوم. وعارضت الحكومة هذه المطالب ووصفتها بغير الواقعية. واعترف وزير التربية والعلوم والتكنولوجيا والتدريب المهني الأستاذ جويس نداليتشاكو أنهم حاولوا بجدية حل هذه القضية ولكن من دون جدوى.

التعليق:

في حالة من الصدمة، بعد فشل الحكومة في حل المشكلة، وبدلاً من حلها تقرر طرد الطلاب الأبرياء بطريقة غير إنسانية وقاسية عن طريق الطلب منهم مغادرة الحرم الجامعي في غضون 24 ساعة. وقيل إن بعض الطلاب أجبروا على النوم في محطات الحافلات، والبعض الآخر من الذين تقطعت بهم السبل مكثوا في الشوارع حيث لم يكن لديهم أي طعام أو أجرة ليتمكنوا من العودة إلى ديارهم في المناطق النائية.

هذه القضية أدت إلى ضجة داخل البرلمان، حيث سعى نواب المعارضة إلى تأجيل جميع الأنشطة لمناقشة هذه المسألة، ووصفوا القضية بأنها عاجلة وقضية مصلحة عامة. استبعد نائب رئيس البرلمان بدون أي تردد إمكانية مناقشة هذه القضية. وردًا على ذلك احتج نواب المعارضة على الحكم مما أدى إلى عقاب بعضهم وطردهم من الغرفة.

النزاعات التعليمية بما في ذلك الإضرابات في الجامعات لديها تاريخ طويل في تنزانيا وفي كل مكان في العالم. في عام 1966 كان هناك إضراب كبير في جامعة دار السلام (UDSM). زعيم الإضراب كان صمويل ستة، والذي خدم لاحقًا كوزير في عدة وزارات وأصبح رئيساً للبرلمان في جمهورية تنزانيا المتحدة.

تقريبا كل مرحلة من مراحل القيادة في تنزانيا واجهت إضرابات ونزاعات لا تنتهي في الجامعات، فعلى سبيل المثال لا الحصر من عام 1989 إلى 2011. المطالب الأساسية المنبثقة من الإضرابات سواء من المعلمين أو من الطلاب هي بسبب فشل الحكومة في الوفاء في مستحقاتهم وحرمانهم بعض الحقوق الأساسية.

الإضرابات والنزاعات في المؤسسات التعليمية الأخرى تحدث احتجاجًا على الظلم والقمع الذي ترتكبه الدولة. على سبيل المثال في عام 1970 ذهب ما يقدر ب 4 مليون طالب في الولايات المتحدة في إضراب احتجاجًا على الغزو الأمريكي لكمبوديا.

في ظل النظام الديمقراطي، هذا النوع من الخلافات لا مفر منه حيث إن الحكومات الديمقراطية لا تولي اهتمامًا يذكر لموظفي القطاع العام، وفي معظم الحالات تميل إلى التعامل معهم بطريقة قمعية وكأنهم عبيد وليسوا موظفين. ناهيك عن نظرية المنفعة من وجهة نظر الرأسماليين، التي تطوق جميع الأطراف سواء أكانوا المعلمين أو الطلاب أو الحكومات. وهذا يؤدي إلى جعل المنازعات نقاطاً ساخنة بطريقة متكررة. من ناحية أخرى يحصل السياسيون على مكافآت أفضل وعلى امتنان الغير. بينما يُترك المعلمون وغيرهم من الموظفين العموميين على الأجهزة الطرفية. وعلاوةً على ذلك، ترى الرأسمالية التعليم كسلعة وليس حقاً أساسياً لجميع الرعية.

جاء الإسلام لحل النزاعات في مجال التعليم منذ أكثر من ألف سنة. في وقت خلافة هارون الرشيد كان المهنيون الذين كانوا يعملون في جامعة بيت الحكمة يتقاضون رواتب جيدة ويعطون حظًا وافرًا من الرعاية مما جعلهم يعملون بفعالية وبأعلى مستوى قياسي. جلبت ثمار عملهم العديد من الابتكارات والتطورات الرئيسية في مجال العلوم والتكنولوجيا. ويمكننا القول بأنهم وضعوا الأساس للتكنولوجيا اليوم.

وبالإضافة إلى ذلك، جامعة القرويين في المغرب أفادت الكثير للعالم الإسلامي وكذلك الغرب. بنيت الجامعة في 859م من قبل امرأة تدعى فاطمة الفهري، تم تدريس مواد مختلفة مثل القرآن والفقه الإسلامي واللغة والطب والرياضيات والجغرافيا الخ. الإدارة السليمة إلى جانب الرعاية عالية المستوى للمعلمين التي بلغتها الجامعة جعلتها توفر أعلى مستويات التعليم الجيد لدرجة أن الطلاب من الأقاصي توزعوا إلى مجموعة واسعة من المجالات. الرجل الذي أصبح فيما بعد قائدا للكنيسة الكاثوليكية، البابا سيلفستر الثاني درس وتخرج هناك. وهو الذي وزع الأرقام العربية في أوروبا، بما في ذلك جعله الرقم "صفر" معروفًا بعد أن غفل عنه الناس في أوروبا!، أعلنت منظمة اليونسكو بأنها الأكاديمية الأولى التي منحت درجات.

عند إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة فإنه سيتم ترسيخ نموذج حجر الأساس للبشرية في معالجة قضية التعليم وأي قضية أخرى بعدالتها وقوانينها الفعالة من خالق كل المخلوقات.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان سعيد نجيرا

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست