تماثيل يونانية في بلاد المسلمين (مترجم)
تماثيل يونانية في بلاد المسلمين (مترجم)

الخبر: على خلفية الطلب المستمر من جماعات إسلامية مختلفة بما فيها حفظة الإسلام لإزالة تمثال مُقام على أرض المحكمة العليا في دكا، بنغلادش، قالت رئيسة الوزراء الشيخة حسينة إنه يجب نقل تمثال سيدة العدل الموجود على أرض المحكمة ووضعه في مكان آخر داخل المحكمة وبعيدًا عن أعين المشاركين في صلوات الأعياد. وكانت حفظة الإسلام قد أعلنت في وقت سابق أنها ستنزل إلى الشوارع ضد الحكومة إذا لم تنصَعْ لطلبات إزالة التمثال لأنه قريب من المكان الذي تُقام فيه صلوات الأعياد - الفطر والأضحى - أكبر أعياد المسلمين. وكان قادة الأحزاب والجماعات الإسلامية، بما فيهم حفظة الإسلام، قد ناقشوا الأمر مع رئيسة الوزراء في شهر كانون أول/ديسمبر. وقالت رئيسة الوزراء في ذلك الاجتماع عن التمثال: "أنا شخصيًا لا أحب هذا التمثال، إنه تمثال يوناني، ولكن كيف وصل هذا التمثال إلى هنا؟ كما وتساءلت لماذا يرتدي التمثال هذا الثوب؟ كما قال أحد أعضاء الوزراء للصحفيين.

0:00 0:00
Speed:
April 24, 2017

تماثيل يونانية في بلاد المسلمين (مترجم)

تماثيل يونانية في بلاد المسلمين

(مترجم)

الخبر:

على خلفية الطلب المستمر من جماعات إسلامية مختلفة بما فيها حفظة الإسلام لإزالة تمثال مُقام على أرض المحكمة العليا في دكا، بنغلادش، قالت رئيسة الوزراء الشيخة حسينة إنه يجب نقل تمثال سيدة العدل الموجود على أرض المحكمة ووضعه في مكان آخر داخل المحكمة وبعيدًا عن أعين المشاركين في صلوات الأعياد. وكانت حفظة الإسلام قد أعلنت في وقت سابق أنها ستنزل إلى الشوارع ضد الحكومة إذا لم تنصَعْ لطلبات إزالة التمثال لأنه قريب من المكان الذي تُقام فيه صلوات الأعياد - الفطر والأضحى - أكبر أعياد المسلمين. وكان قادة الأحزاب والجماعات الإسلامية، بما فيهم حفظة الإسلام، قد ناقشوا الأمر مع رئيسة الوزراء في شهر كانون أول/ديسمبر. وقالت رئيسة الوزراء في ذلك الاجتماع عن التمثال: "أنا شخصيًا لا أحب هذا التمثال، إنه تمثال يوناني، ولكن كيف وصل هذا التمثال إلى هنا؟ كما وتساءلت لماذا يرتدي التمثال هذا الثوب؟ كما قال أحد أعضاء الوزراء للصحفيين.

التعليق:

تحت حكم نظام الشيخة حسينة العلماني، أخذت مظاهر علمنة جميع قطاعات بنغلادش زخمًا جديدًا. الحكومة وأعضاؤها العلمانيون واليساريون بالإضافة إلى جماعة المثقفين في البلاد يعملون بدون كلل أو ملل لفصل الأغلبية المسلمة في بنغلادش عن كل شكل أو نوع من الدين الإسلامي وثقافته وتاريخه والترويج للأفكار والقيم العلمانية من خلال تحكّمهم في الإعلام. ويعتبر إقامة "صنم" يوناني أمام مكان مهم مثل المحكمة العليا مثالاً واحدًا من الأمثلة التي لا تُحصى على ذلك.

إنّ طلب إزالة التمثال من الجماعات الإسلامية هو أمر حسن لأنه حرام في الإسلام، وأيضًا بحسب مبادئ الإسلام لا يمكن لصنم يوناني يُدعى "ثيمس" أن يصبح إلهاً للعدل والمساواة للمسلمين. وأيضًا حسب ما قال زعيم حفظة الإسلام مولانا شافي، إنه ليس سوى "اعتداء فكري" في بنغلادش تحت مُسمّى العلمانية. ومن هنا يبرز موضوع مهم وهو: أليس طبيعيًا ومتوقّعًا لنظام علماني يؤمن بشدة بالقيم العلمانية أن يسعى لعلمنة البلاد ويمسح أيّ أثر للإسلام من المجتمع الذي يعتقد أنه يشكل خطرًا وتهديدًا على الفكر العلماني؟ أليس طبيعيًا أن يفرض نظام حسينة العلماني قيمًا علمانية على المسلمين في البلاد من أجل حماية فكرهم الخاطئ الذي استوردوه من أسيادهم الغربيين؟

إن عمل الحكومة في الآونة الأخيرة على زيادة علمنة قطاع التعليم في البلاد وإزالة جميع النصوص المتعلقة بالإسلام والتاريخ الإسلامي من كتب الأطفال الدراسية وإضافة نصوص جديدة تتعلّق بالدين الهندوسي وثقافته والترويج لاحتفالات رأس السنة البنغالية في طول البلاد وعرضها والذي ينبع من الهندوسية وإصدار الأوامر لجميع المؤسسات التعليمية بالاحتفال بهذه المناسبة بالإضافة إلى تنظيم مانجال شوفها جاترا من كل معلم في يوم رأس السنة (وهو مشابه لمسابقة رفع صور الأصنام)، وإغلاق عدد من المدارس الإسلامية المتوسطة في البلاد وإغلاق برامج تعليم اللغة العربية في العديد من المدارس، جميع ذلك قد أظهر لنا بوضوح عمل الحكومة البائس لعلمنة البلاد.

في الواقع، إن كلام حسينة خلال اللقاء مع الجماعات الإسلامية بأنها لا تحب فكرة وضع الصنم اليوناني يُظهر أنها لعبت على الوتر الحسّاس وتجنّبت إثارة مشاعر الشعب الإسلامية في البلاد.

ولكنها من خلال أفعالها المتعددة قد أثبتت أنها لا تحب فكرة عبادة الأصنام فقط، ولكن أيضًا مستعدة لقبول سلطان المشركين على المسلمين في بنغلادش. في زيارتها الأخيرة للهند، وقّعت حسينة على معاهدة تعاون عسكري مع دولة كافرة محاربة في تعارض واضح مع أحكام الشريعة، وخطر جليّ وتهديد على سيادة البلاد. بالإضافة لهذا، فإن حكومتها، ومن خلال أعمال إرهابية مُنظّمة في أماكن متعددة في البلاد، قد نشرت الخوف والكراهية للإسلام بين صفوف الناس في بنغلادش لمنع إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوّة في البلاد، إن حكومة حسينة العميلة وإرضاءً للأسياد المستعمرين قد أعلنت الحرب على الإسلام وعلى المخلصين من أبناء الأمة.

من هنا، فإن الحزب السياسي الإسلامي المخلص الذي يريد حقيقة أن يرى نصر الإسلام ويريد أن يوقف جميع أنواع الهجمات الفكرية ضد الإسلام والمسلمين في البلاد تحت شعار العلمانية، عليه ألاّ ينخدع بالوعود الكاذبة من الحكام، لأن هؤلاء الحكام هم لاعبون أساسيون يعملون في خدمة الأسياد الغربيين للترويج للعلمانية في صفوف المسلمين وبلادهم. لذا على جميع الأحزاب الإسلامية والعلماء المرموقين في البلاد أن يرفضوا هؤلاء الحكام الدمى والنظام العلماني الوضعي الغربي، وعليهم أن يستجيبوا لأمر الله سبحانه ورسوله rبإقامة الدين من خلال إقامة دولة الخلافة الراشدة في هذه البلاد والتي سوف تقضي على جميع المؤامرات التي تستهدف الإسلام والمسلمين في بنغلادش وتمسح أيضًا كل مظاهر العلمانية من كل جنبات العالم الإسلامي إن شاء الله. يقول الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [الأنفال: 24]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست