تملُّك المعادن من طرف الخواص حرام، وبيعُها للكفار أشدُّ حرمة!
تملُّك المعادن من طرف الخواص حرام، وبيعُها للكفار أشدُّ حرمة!

الخبر:   نشرت مواقع عدة على الإنترنت بتاريخ 2024/10/18، خبراً عن بيع شركة مناجم المغربية (التابعة للهولدينغ الملكي) إحدى شركاتها وتدعى أومرجان إلى شركة بريطانية تدعى MetalNRG المدرجة في بورصة لندن، بمبلغ 32 مليون دولار (شركة MetalNRG، مدعومة مالياً من شركة Orion، وهي شركة إدارة أصول مقرها نيويورك)، ومن شأن هذه الصفقة، التي تُعد جزءاً من استراتيجية إعادة التركيز على المشروعات الضخمة، أن تمكّن شركة مناجم من تعزيز مكانتها في سوق التعدين. ...

0:00 0:00
Speed:
October 27, 2024

تملُّك المعادن من طرف الخواص حرام، وبيعُها للكفار أشدُّ حرمة!

تملُّك المعادن من طرف الخواص حرام، وبيعُها للكفار أشدُّ حرمة!

الخبر:

نشرت مواقع عدة على الإنترنت بتاريخ 2024/10/18، خبراً عن بيع شركة مناجم المغربية (التابعة للهولدينغ الملكي) إحدى شركاتها وتدعى أومرجان إلى شركة بريطانية تدعى MetalNRG المدرجة في بورصة لندن، بمبلغ 32 مليون دولار (شركة MetalNRG، مدعومة مالياً من شركة Orion، وهي شركة إدارة أصول مقرها نيويورك)، ومن شأن هذه الصفقة، التي تُعد جزءاً من استراتيجية إعادة التركيز على المشروعات الضخمة، أن تمكّن شركة مناجم من تعزيز مكانتها في سوق التعدين.

تنشط الشركة المغربية في إنتاج مركزات النحاس منذ عام 2014، وقد سجلت إنتاج 3 آلاف طن من معدن النحاس في عام 2023. وتمثل هذه الصفقة خطوة رئيسية في استراتيجية شركة مناجم وهي تتطلع إلى المستقبل بطموح لتعزيز مكانتها في سوق التعدين. ومن خلال التخلص من الأصول الصغرى، تأمل المجموعة في تركيز مواردها وخبراتها على المشاريع الكبيرة، مع الحفاظ على معايير عالية في إدارة عملياتها.

التعليق:

لقد قررت أحكام الفقه الإسلامي أن المعادن ذات الكميات الكبيرة هي من الملكية العامة ولا يجوز تملُّكها من الأفراد، جاء في الموسوعة الفقهية الكويتية:

"ذَهَبَ الحَنَفِيَّةُ وَالشَّافِعِيَّةُ وَالحَنَابِلَةُ إِلَى أَنَّ مَعَادِنَ النِّفْطِ وَالقِيرِ وَالمِلحِ وَالمَاءِ وَغَيْرِهَا مِنَ المَعَادِنِ الظَّاهِرَةِ لاَ تُمْلَكُ بِالإِحْيَاءِ، وَلاَ يَجُوزُ إِقْطَاعُهَا لأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَقَدْ وَرَدَ أَنَّ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ وَفَدَ إِلَى رَسُول اللَّهِ فَاسْتَقْطَعَهُ المِلحَ فَقَطَعَ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَال رَجُلٌ مِنَ المَجْلِس: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ؟ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ المَاءَ العَذْبَ (وفي رواية الماء العد، أي الكثير غير المنقطع)، قَال: فَانْتَزَعَهُ مِنْهُ. وذَهَبَ المَالِكِيَّةُ إِلَى أَنَّ المَعَادِنَ، سَوَاءٌ أَكَانَتْ جَامِدَةً أَمْ سَائِلَةً، وَسَوَاءٌ أَكَانَتْ ظَاهِرَةً أَمْ فِي بَاطِنِ الأَرضِ، وَسَوَاءٌ أَكَانَتْ فِي أَرْضٍ مَمْلُوكَةٍ مِلكاً خَاصاً أَمْ غَيْرَ مَمْلُوكَةٍ فَهِيَ مِلكٌ لِلدَّوْلَةِ تَتَصَرَّفُ فِيهَا بِمَا يُحَقِّقُ المَصْلَحَةَ العَامَّةَ بِتَأْجِيرِهَا لِمُدَّةِ مَعْلُومَةٍ، أَوْ إِقْطَاعِهَا لاَ عَلَى وَجْهِ التَّمْلِيكِ، إلا أنهم اشترطوا كما قَال البَاجي: وَإِذَا أَقْطَعَهُ فَإِنَّمَا يَقْطَعُهُ انْتِفَاعاً لاَ تَمْلِيكاً، وَلاَ يَجُوزُ لِمَنْ أَقْطَعَهُ لَهُ الإِمَامُ أَنْ يَبِيعَهُ، وَلاَ يُورَثُ عَمَّنْ أَقْطَعَهُ لَهُ؛ لأَنَّ مَا لاَ يُمْلَكُ لاَ يُورَثُ. وَقَال الحنفية: لَيْسَ لِلإِمَامِ أَنْ يَقْطَعَ مَا لاَ غِنَى لِلمُسْلِمِينَ عَنْهُ مِنَ المَعَادِنِ الظَّاهِرَةِ وَهِيَ مَا كَانَ جَوْهَرُهَا الَّذِي أَوْدَعَهُ اللَّهُ فِي جَوَاهِرِ الأَرْضِ بَارِزاً كَمَعَادِنِ المِلحِ وَالكُحْل وَالقَارِ وَالنِّفْطِ، فَلَوْ أَقْطَعَ هَذِهِ المَعَادِنَ الظَّاهِرَةَ لَمْ يَكُنْ لإِقْطَاعِهَا حُكْمٌ، بَل المُقْطَعُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ، فَلَوْ مَنَعَهُمُ المُقْطَعُ كَانَ بِمَنْعِهِ مُتَعَدِّياً، وَكُفَّ عَنِ المَنْعِ وَصُرِفَ عَنْ مُدَاوَمَةِ العَمَل لِئَلَّا يَشْتَبِهَ إِقْطَاعُهُ بِالصِّحَّةِ أَوْ يَصِيرَ مِنْهُ فِي حُكْمِ الأَمْلاَكِ المُسْتَقِرَّةِ".

ومن استعراض آراء الفقهاء يظهر أن جوهر الاختلاف مردُّه بالأساس إلى كمية المعدن، فإن كان بكمياتٍ قليلة، جاز أن يتملُّكه الأفراد، أما إن كان بكمياتٍ كبيرة، فلا خلاف أنه يصبح حينها ملكاً لجماعة المسلمين، ولا يجوز أن يتملُّكه الأفراد، حتى وإن جاز إقطاعه للأفراد كما يرى المالكية (والأرجح أنهم يقصدون الكميات القليلة، لأنهم لم يعهدوا هذه المناجم الحالية ذات الكميات المرتفعة)، فإنه إقطاعٌ مؤقت ودون تملُّك.

إن الدولة المغربية عندنا لم تكتف بتمليك شركة مناجم منذ عقود معظم معادن البلاد من ذهب وفضة ونحاس وكوبالت وقصدير وفليورين وزنك و... بل أباحت لها التصرف بهذه المناجم حتى أصبحت تبيعها للكافر المستعمر علناً ودون مواربة!

إن هذه المعادن هي ملكٌ للمسلمين، وتملُّكها من الأفراد حرام، بل يجب أن يكون عائدها لبيت مال المسلمين، وإنه وإن جاز استئجار الخواص لاستخراج هذه المعادن، فإنه مجرد استئجار على ألا يكون لأولئك الخواص في تلك المعادن نصيب، بل يكون عائدها لبيت المال فقط.

إن تملُّك هذه الثروات العظيمة من الأفراد هو تفريطٌ في الملكية العامة كما قررها الإسلام، وهو أحد أسباب الفقر الذي تعاني منه البلاد، ففي الوقت الذي تستخرج القناطير المقنطرة من الذهب والفضة والمعادن الأخرى من باطن الأرض، تعيش القرى الملاصقة لهذه المناجم الفقر والعوز ولا ينالها من تلك الثروات إلا تصدُّع حيطان بيوتها من التفجيرات التي يلجأ إليها للوصول إلى تلك المعادن، بينما لا تضخ شركة مناجم في ميزانية الدولة إلا كما تضخ أي شركة أخرى كضريبة الدخل وضريبة القيمة المضافة (إذا افترضنا أنها لا تتهرب ضريبياً، ومن ذا الذي يستطيع محاسبتها؟!)، وباستعراض ميزانية الدولة لسنة 2024 لا تكاد تجد فيها ما ينمُّ عن أن منح رخص استخراج المعادن يعود بشيء على الدولة. أي أن الدولة لا تكتفي بمنح شركة مناجم حق استغلال الثروات الباطنية، وهو مما لا يجوز شرعاً، بل إنها لا تأخذ منها شيئاً مقابل ذلك، وهو مما لا يجوز عقلاً، والآن ها هي تبيعه وكأنها تملكه ملكية فردية!

هذا أحد أسباب الضنك الذي تعيشه الأمة؛ يُفرِّط حكامها في ثرواتها ويسيئون التصرف فيما بين أيديهم، ثم يدَّعون وجود عجز في الميزانية فيلجؤون إلى المزيد من الضرائب ومزيد من الاقتراض الخارجي، ثم يسيئون التصرف مرة ثانية فيما جنوه من جيوب الناس، فينتجون عجزاً، وهكذا سنةً بعد سنةٍ، يُغرقون الدولة في الديون (جاوزت ديون المغرب في هذه السنة، 130 مليار دولار)، حتى لا يكون منها مخرجٌ إلا مزيد من بيع ممتلكات الدولة ومزيد من الارتماء في حضن الأجنبي لكيلا يمنع عنهم تدفق القروض!

إن الخلاص هو في أحكام الإسلام، وفي أحكام الإسلام وحدها، فهي وحدها التي نظّمت أحكام الملكية تنظيماً محكماً، ومنعت تغوُّل الخواص، وكفلت لكل فردٍ ما يشبع حاجاته الأساسية ويؤهله لإشباع حاجاته الكمالية، وكل من يطلب الخلاص فيما سوى أحكام الإسلام واهمٌ، ولاهثٌ وراء السراب، وها هو مثال الرأسمالية المتوحشة ماثلٌ أمام أعينكم، فاحزموا أمركم أيها العقلاء، وارفعوا أصواتكم بالمطالبة بتطبيق شرع ربكم، عسى الله أن يكتب الخير على أيديكم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست