تمرد الشعب الأمريكي على مبدئهم وميلادٌ جديدٌ حان أوانه
تمرد الشعب الأمريكي على مبدئهم وميلادٌ جديدٌ حان أوانه

تظاهر آلاف الأمريكيين احتجاجًا على فوز (دونالد ترامب) المفاجئ برئاسة بلادهم في سبع مدن أمريكية، منددين بتصريحاته "العنصرية" أثناء حملته بشأن المهاجرين والمسلمين وجماعات أخرى، وسط أنباء عن إطلاق رصاص وسقوط عدة ضحايا في محيط احتجاجات شهدتها مدينة (سياتل)، وجاء في منشورات على مواقع التواصل الإلكتروني أن مسيرات مناهضة لترامب مقررة أيضًا في وقت لاحق بمدن أخرى في أنحاء البلاد.

0:00 0:00
Speed:
November 11, 2016

تمرد الشعب الأمريكي على مبدئهم وميلادٌ جديدٌ حان أوانه

تمرد الشعب الأمريكي على مبدئهم وميلادٌ جديدٌ حان أوانه

الخبر:

تظاهر آلاف الأمريكيين احتجاجًا على فوز (دونالد ترامب) المفاجئ برئاسة بلادهم في سبع مدن أمريكية، منددين بتصريحاته "العنصرية" أثناء حملته بشأن المهاجرين والمسلمين وجماعات أخرى، وسط أنباء عن إطلاق رصاص وسقوط عدة ضحايا في محيط احتجاجات شهدتها مدينة (سياتل)، وجاء في منشورات على مواقع التواصل الإلكتروني أن مسيرات مناهضة لترامب مقررة أيضًا في وقت لاحق بمدن أخرى في أنحاء البلاد.

التعليق:

تناقلت كثير من وسائل الإعلام خبر فوز مرشح الحزب الجمهوري في رئاسة الولايات المتحدة الأمريكية، والغريب كان إجماع هذه الوسائل على عدم فرضية نجاحه، واستبعاد ذلك من الاحتمالات. وعلى هذا فإن هناك ملاحظات يجب أن ننوه إليها في هذا التعليق؛ أولها: إن معظم أو جميع الوسائل الإعلامية الموجودة في الشرق أو الغرب لا تمت بصلة للجماهير الذين تعرض عليهم برامجها، فهي شركات استثمارية تمثل أصحاب رؤوس المال، لهذا لا تنطق إلا بما يُملى عليها من قبلهم، هذه حقيقتها لا تمثل الجمهور أو الشعب، وتبذل كل ما في وسعها لتوجيه الدفة أو الرأي العام للجهة التي يرغب بها الممول أيًّا كان.

ثانيها: إن الرأي العام عند الناس في الشارع لم يستطع أحد قياسه بمقياس صحيح، لذلك كانت ردة فعل الناس مغايرة للنتيجة التي توقعوها والتي أفرزتها الصناديق الانتخابية، وهذا كان مخالفاً لما كانت عليه نتائج الاستطلاع العام قبل الانتخابات من قبل المؤسسات الإعلامية وغيرها.

ثالثا: إن المجتمع في أمريكا على الرغم من انحطاطة الفكري العام أمسى يدرك الفساد والفاسدين، ويدرك أنه كان أمام خيارين وحيدين وُضعا أمامه على الطاولة، إما جمهوري صاحب فكر متعجرف وشهية غير محدودة للكسب والقضاء على الآخر، وإما مرشحة عن الحزب الديمقراطي صاحب السياسة الناعمة في تحقيق الأهداف ذاتها، فالكل يعلم أن كليهما وجهان لعملة واحدة قد انتهت صلاحيتها، ولم يعد الشعب الأمريكي يرغب في بقاء الحال على ما هو عليه، بل يريدون التغيير.

رابعا: هناك حالة تعم العالم كله ولا تقف عند حدود معينة، وهي التمرد والعصيان وطلب التغيير. وهذا ما قد وصل إلى الولايات المتحدة، وما هذه المظاهرات إلا نوع من التمرد على المبدأ والواقع الحالي، وتقليد للآخرين في أسلوب التعبير وهو الخروج إلى الشوارع والميادين.

من المستغرب أن هذه الجموع الكثيرة التي خرجت في شوارع ومدن كثيرة منادية (لا نريد هذا الرئيس)، ولم تنادِ بأنها تريد الرئيسة تلك وأنها تمثلهم، هذا الأمر إن دل على شيء إنما يدل على أن المجتمع في أمريكا منقسم وعنده ازدواجية في النظرة إلى الواقع والأحداث. فهناك من ينادي به كرئيس وآخرون ينادون بهيلاري كرئيسة ومجموعة أخرى لا يستهان بها تنادي بالتغيير الجذري على النظام من غير عرض البديل.

إن الانتخابات الأمريكية أبانت عن عدد لا يُستهان به من أصحاب الرئيس المتشدد المتزمت، الذين لا يريدون أن يبقى الحال على ما هو عليه، ولا توجد عندهم رؤية واضحة ولا يعرفون سوى التعامل مع المشاكل وليس حلها من جذورها، عدد يتغذون على الشعور بأنهم أفضل من الجميع يستحقون الحياة وغيرهم لا يستحقونها وعليهم تقديم الطاعة والقرابين لهم ليتقوا ضررهم. أما الجزء الآخر من الصورة فهم أيضًا لا يُستهان بعددهم، هم من مجموع المهاجرين الذين خرجوا في الشوارع منددين، هؤلاء يعون ما قد يحدث لهم، وهم لا يثقون بمن سيتولى الحكم، فقد تعلموا دروسًا من الحكام السابقين، فهم يتذكرون كيف كان الحال في فترة جورج بوش الابن وكيف تعامل مع الجيل الثاني من المهاجرين، ولا يزال أثر أفعال الحزب الجمهوري ورجالاته موجوداً، وما زاد الطين بلة هو سيطرة الحزب على مركز القرار من الرئاسة ومجلس الشيوخ ومجلس ممثلي الولايات، فيكون تمرد هؤلاء بداية تمردًا على النظام الذي سار عليه الشعب الأمريكي أكثر من 200 عام، أي هم يطالبون بالتغيير لكن بأسلوبهم الخاص.

في النهاية هناك حقائق نعلمها ويعلمها الجميع، ولم يبقَ من يجهلها في هذا الزمان، ومن ينكرها إما يكون متعاميًا عن الحقائق لا يرى إلا ما يريد، وإما منفصلًا عن الواقع لا يعي ما يحدث حوله، وهي: إن الحكام الأمريكيين سواء أكانوا من الجمهوريين أم الديمقراطيين فإنهم يتبنون المبدأ نفسه، لكن الفرق هو اختلاف أسلوب تطبيق المبدأ الجشع المتعجرف، وإن الحكام الموجودين في أمريكا متعاهدون على عدم التقصير في محاربة من ينادي بالتحرر من هيمنتهم وسطوتهم في الداخل والخارج، وإن وعي الشعوب سبق الحكام بكثير وتخطى حدودهم، وهذا غير محصور في شعب أو قارة أو أمة، بل في الأرض كلها، وإن الحكام قد أفلسوا من الإجراءات والحلول التي تبقيهم على قيد الحياة وتحقق لشعوبهم المتطلبات الأساسية والكمالية.

وعليه يكون الحال الذي وصل إليه العالم هو أفضل حال لحكم نظام ناصع يقلب الوضع كله ويحمي الإنسان القريب والبعيد، نظام يقنع عقول البشر ويشبع حاجاتهم بعدل وإنصاف ويؤمّن لهم حياة كريمة لا مهانة فيها ولا ذل، هو نظام رباني جاء من عند الله من أجل إسعاد البشر، إنه الإسلام ولا شك، فميلاد هذا النظام في دولة من جديد هو ما سوف تنادي به الشعوب في القريب العاجل، وهو ما سيتحقق قريبًا عندما يشاء الله عز وجل.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. ماهر صالح – أمريكا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست