تمرد مسلح أو حيلة من الطاغية إمام علي رحمانوف لحظر حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان!؟
تمرد مسلح أو حيلة من الطاغية إمام علي رحمانوف لحظر حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان!؟

في 4 أيلول/سبتمبر، ذكرت وكالة أنباء "أفستا" عن مصدر في وزارة الداخلية في طاجيكستان: "نتيجة للهجوم الذي شنه مسلحون في دوشانبي ومدينة وحدات، لقي 8 من ضباط الشرطة مصرعهم بينهم 4 مقاتلين من فرقة مكافحة الشغب.

0:00 0:00
Speed:
September 24, 2015

تمرد مسلح أو حيلة من الطاغية إمام علي رحمانوف لحظر حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان!؟


تمرد مسلح أو حيلة من الطاغية إمام علي رحمانوف لحظر حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان!؟

(مترجم)

الخبر:

في 4 أيلول/سبتمبر، ذكرت وكالة أنباء "أفستا" عن مصدر في وزارة الداخلية في طاجيكستان: "نتيجة للهجوم الذي شنه مسلحون في دوشانبي ومدينة وحدات، لقي 8 من ضباط الشرطة مصرعهم بينهم 4 مقاتلين من فرقة مكافحة الشغب. وثبت أثناء القيام بإجراءات البحث السريع أن نائب وزير الدفاع، الجنرال عبد الحليم نزار زاده، العضو في حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان، وقائد ميداني سابق للمعارضة الطاجيكية الموحدة، قاد جماعة مسلحة غير قانونية. وفي 8 أيلول/سبتمبر فتح مكتب المدعي العام قضية جنائية ضد الجنرال عبد الحليم نزار زاده بموجب أربع مواد من القانون الجنائي للبلاد. وقد أقيمت الدعاوى الجنائية تحت المادة 305 (الخيانة العظمى)، والمادة 307، القسم الثاني (تنظيم جماعة متطرفة)، والمادة 309 (التخريب والتحويل) والمادة 179 (الإرهاب) من القانون الجنائي لجمهورية طاجيكستان. وفي 11 أيلول/سبتمبر أفادت وكالات أمنية خبر تصفية الجنرال عبد الحليم نزار زاده.

التعليق:

إن جشع وجهل الحكام الطواغيت يجعلهم يرتكبون جرائم شنيعة. والأحداث الأخيرة التي وقعت في طاجيكستان هي مثال على ذلك. فما يسمى بـ"التمرد المسلح" الذي نظمه النائب السابق لوزير الدفاع الجنرال عبد الحليم نزار زاده ليس إلا جريمة غادرة أخرى للطاغية إمام علي رحمانوف.

ويرتبط هذا الإجراء الذي اتخذته السلطات مباشرة بحزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان - الحزب "الإسلامي" الوحيد الذي يعمل رسميا في إقليم آسيا الوسطى منذ عام 1990. وزعيم الحزب الحالي هو محي الدين كبيري. هذا الحزب ليس له أية علاقة بالإسلام، إلا أن المسلمين هناك يخدعون بشعارات الحزب الإسلامية. ويأمل هؤلاء المسلمون بأن يتم إحياء الحكم الإسلامي في طاجيكستان في المستقبل القريب. تأسس الحزب على أفكار علمانية، إلا أنه يجذب أتباعه بسبب شعاراته الإسلامية. وقد سبب هذا الحزب المستقل والخارج عن سيطرة السلطات متاعب كثيرة للطاغية رحمانوف.

في 28 شباط/فبراير 2010 نال حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان 8.2٪ صوتا من الذين شملهم الاستطلاع وحصل على مقعدين في الغرفة السفلى في مجلس النواب بالبرلمان الطاجيكي. وفي الانتخابات التي جرت في آذار/مارس عام 2015، وتحت ضغط من رحمانوف الذي استخدم كل أنواع الحيل، ذكرت لجنة الانتخابات المركزية أن 1.5٪ فقط صوتوا لصالح حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان. وهكذا طرحت السلطات بحزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان خارج البرلمان وبدأت في ممارسة ضغوط واسعة النطاق على زعيمه وأتباعه. وكانت هناك اتهامات للحزب بصلة بعض أعضائه بالإرهاب والأنشطة المتطرفة، وقد اتهم محي الدين كبيري باختلاس ممتلكات الدولة وغيرها الكثير. واستكمالا لخطته لحظر حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان تماما، نظم الطاغية رحمون "التمرد المسلح".

شغل عبد الحليم نزار زاده منصب النائب الأول لقائد القوات البرية للقوات المسلحة لجمهورية طاجيكستان في الفترة من 2005-2007. ودرس في الجامعة الطاجيكية الوطنية في الفترة من 2006-2009. ومنذ عام 2007 وحتى كانون الثاني/ يناير تولى منصبه كرئيس الوكالة لقيادة وأمن الخدمة العسكرية. وعين في كانون الثاني/ يناير نائبا لوزير الدفاع في جمهورية طاجيكستان بموجب مرسوم من الرئيس.

تمكن الجنرال عبد الحليم نزار زاده قبل وفاته من الإدلاء ببيان شفوي قال فيه: "قررت حكومة رحمانوف تصفية العديد من القادة السابقين في المعارضة (المعارضة الطاجيكية الموحدة)، حيث لم يقم جميعهم بالتوقيع على قرار السلطات بتصفية حزب النهضة الإسلامية. وهكذا، اعتبرتهم الحكومة مشتبها بهم سياسيا حيث إن هؤلاء القادة قد يدافعون عن الحزب والشعب بعد تصفية الحزب، وعلى الرغم من أنهم لم يوقعوا على هذه الورقة بحجة أن الجيش لا يمكن أن يشارك في السياسة ولا شيء يعتمد على توقيعاتهم. ومع ذلك، ورغم كل شيء فإن القادة الذين لم يوقعوا على طلب إغلاق الحزب قد وقعوا من خلال هذا على قرار الإعدام الخاص بهم".

ووفقا لبيان الجنرال عبد الحليم نزار زاده، فإن السلطات كانت تنوي بعد الهجمات رمي جثث القادة الذين تم قتلهم إلى هذه الأماكن، وأن تعلن للعالم أنهم قتلوا أثناء القتال. وقد نجحت السلطات جزئيا في ذلك. لم يتخل الجنرال ورفاقه المسلحون عن أنفسهم تحت رحمة الطاغية وذئابه الحقيرين. بل حارب المسلحون حتى النهاية المريرة دفاعا عن شرفهم وكرامتهم.

أيها المسلمون! يمكننا وقف جرائم الطغاة فقط إذا توحد العالم الإسلامي كله حول الإسلام. إن العمل على إنهاض المسلمين كما بين لنا النبي محمد صلى الله عليه وسلم هو السبيل لإنقاذنا جميعا. إن النضال ضد الطغاة بأفضل كلمة - القرآن وباتباع سنة النبي محمد صلى الله عليه وسلم سيجعلنا بإذن الله ووعده من الفائزين والشهداء. فرسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «سيد الشهداء حمزة بن عبد المطلب، ورجل قام إلى إمام جائر فأمره ونهاه، فقتله».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خزمين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست