تمرير ألمانيا لما يسمى "مشروع قانون الأرمن" من البرلمان
تمرير ألمانيا لما يسمى "مشروع قانون الأرمن" من البرلمان

أقر المجلس الفيدرالي في ألمانيا مشروع قانون يعتبر أحداث عام 1915 "إبادة جماعية".

0:00 0:00
Speed:
June 10, 2016

تمرير ألمانيا لما يسمى "مشروع قانون الأرمن" من البرلمان

تمرير ألمانيا لما يسمى "مشروع قانون الأرمن" من البرلمان

الخبر:

أقر المجلس الفيدرالي في ألمانيا مشروع قانون يعتبر أحداث عام 1915 "إبادة جماعية".

ولم تحضر أنجيلا ميركل رئيسة وزراء ألمانيا الجلسة التي تم فيها إقرار مشروع القانون الذي تبدي تركيا عليه ردة فعل قوية.

تم قبول مشروع القانون للقرار الذي يحمل في طياته معنى رمزيا بالرفض والامتناع عن التصويت.

رجب طيب إردوغان رئيس الجمهورية وفي معرض رده على أسئلة الصحفيين أثناء زيارته لكينيا قال: "هذا القرار الذي اتخذه البرلمان الألماني هو قرار قد يؤثر جديا على العلاقات التركية الألمانية". (المصدر: جريدة حريات التركية)

التعليق:

تبذل الدول الغربية جهودا كبيرة على مر السنين من أجل حمل حكومات جمهورية تركيا على القبول بادعاء "القيام بالإبادة" من قبل حكام الخلافة العثمانية بحق الأرمن الذين كانوا يعيشون في الأناضول أثناء الحرب العالمية الأولى.

وضمن هذا السياق اتخذت تركيا في ظل حكم حزب العدالة والتنمية مبادرة في عام 2008 من أجل تسوية علاقاتها مع الأرمن ضمن إطار سياسة "صفر مشاكل مع الجيران". وبعد مفاوضات طويلة تم في 10 تشرين الأول/أكتوبر 2009 في مدينة زيوريخ السويسرية توقيع "بروتوكول حول تأسيس علاقات دبلوماسية بين الجمهورية التركية وبين جمهورية أرمينيا" وذلك من قبل أحمد داود أوغلو وزير الخارجية التركي ونظيره الأرميني إدوارد نالبانديان. وأيضا بحضور وزراء خارجية دول فرنسا وروسيا والولايات المتحدة الأمريكية وأعضاء مجموعة مينسك للتعاون والأمن في أوروبا.

حدد هذا البروتوكول خريطة طريق تتضمن تأسيس لجنة متعلقة بادعاءات "وقوع إبادة" من قبل العثمانيين في عام 1915 بحق الأرمن الذين كانوا يعيشون في الأناضول وأيضا فتح حدود أرمينيا التي تم إغلاقها في عام 1993.

أظهرت السلطات الأذرية والرأي العام في تركيا رد فعل كبيراً على هذا البروتوكول بسبب عدم تضمنه حلاً لمشكلة مرتفعات كاراباغ. ولكن ما فعلته وسائل الإعلام وما فعله بعض الكتاب المقربين من حكومة حزب العدالة والتنمية في هذه الفترة من عمليات للمجتمع وادعاء أن ما تم القيام به "من إبادة للأرمن" هو حقيقة، اعترض الرأي العام الأرمني وأظهر ردة فعل كبيرة بسبب عدم ضرورة قبول تركيا "بالقيام بالإبادة" بحق الأرمن في عام 1915. ولم يتم الاتفاق على هكذا بروتوكول في البرلمان التركي والأرمني، ولم يدخل حيز التنفيذ. وعادت حكومة حزب العدالة والتنمية مرة أخرى أيضا إلى سياسة تركيا التقليدية.

ولم تصف أنقرة الأحداث في عام 1915 على أنها تهجير. وأكدت على أن تركيا جاهزة لفتح أرشيفها من أجل التحقيق فيما حدث بين الأتراك والأرمن في منطقة الأناضول في الحرب العالمية الأولى.

وأصبح عدد الدول التي أقرت بادعاء "حصول الإبادة" بحق الأرمن حتى اليوم 29 دولة مع ألمانيا. هذه الدول هي ألمانيا، وجمهورية قبرص، والأرجنتين، وليتوانيا، والنمسا، ولبنان، وبلجيكا، ولوكسمبورغ، وبوليفيا، والباراغواي، والبرازيل، وبولونيا، وبلغاريا، وروسيا، وجمهورية التشيك، وسلوفاكيا، وأرمينيا، وسوريا، وفرنسا، وتشيلي، وهولندا، والأروغواي، والسويد، والفاتيكان، وسويسرا، وفنزويلا، وإيطاليا، واليونان، وكندا.

وأقرت 41 ولاية أمريكية أيضا بموضوع "إبادة الأرمن". ومن جهة أخرى، أقرت أيضا العديد من الهيئات بموضوع "حصول الإبادة" مثل اللجنة الفرعية لمنع التمييز وحماية الأقليات التابعة للأمم المتحدة، والمجلس الأوروبي، والبرلمان الأوروبي، ومجلس الكنائس العالمي، ومنظمة حقوق الإنسان، وجمعية الشباب المسيحية للاتحاد الأوروبي، ومحكمة الشعوب الدائمة.

وفيما يتعلق بمشروع القانون الذي تمرره ألمانيا، أشارت الأحزاب الثلاثة في البرلمان عدا حزب الشعوب الديمقراطي في إعلان مشترك لهم إلى تنديدهم بألمانيا. وألقى إردوغان رئيس الجمهورية تصريحات بخصوص ضرورة أن ينظر الغرب إلى تاريخه. ومن جانب آخر، أبدت أوروبا ارتياحها نوعا ما خلال إلقاء التصريح من جهة أنه لن يتم الخلط بين هذا الموضوع وبين اتفاق "قبول إعادة اللاجئين".

السياسة التي يستخدمها الغرب تجاه تركيا في مسألة "إبادة الأرمن" هي سياسة العصا. الغرب لا يفكر في الأرمن. إنهم يفكرون بمصالحهم الخاصة فقط. جعلت ألمانيا هذا القانون ينتظر على الرف لسنوات. القانون الذي تم تحضيره بقيادة الخضر دعمه أيضا الحزب الديمقراطي الاجتماعي والاتحاد المسيحي برئاسة أنجيلا ميركل رئيسة الوزراء. وقد مرّ هذا القانون على الرغم من اللقاءات بين رئيس الجمهورية ورئيس الوزراء وبين ميركل رئيسة وزراء ألمانيا. وهذا يدل على أنه سواء ألمانيا أو غيرها من الدول والهيئات التي مرّرت هذا القانون تريد لهذا الموضوع أن يبقى حيّا ويريدون استخدامه ضد تركيا كأداة ضغط. ولذلك، عملت فرنسا على استخراج قانون حتى "يجرّم إنكار الإبادة الجماعية". ولكن القانون لم يمر.

والأمر المحزن هو كون العلاقات ودية بين الحكومة التركية وبين حكام الدول التي أقرت ما يُسمى "الإبادة" المزعومة. ولم تصدر أي ردة فعل غير استدعاء سفير الحكومة في ألمانيا إلى تركيا. حديث إردوغان رئيس الجمهورية كان ضعيفا على شاكلة "كيف ستنظر ميركل إلى وجوهنا؟" سيستمر الغرب في الضغط على تركيا بهذا الشكل حتى إيجاد حكومة تركية تقبل بهذا القانون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عثمان يلديز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست