تقاطر قادة العالم على زيارة كيان يهود للانضمام إليه في سفك دماء المسلمين
تقاطر قادة العالم على زيارة كيان يهود للانضمام إليه في سفك دماء المسلمين

الخبر:   بعد زيارة الرئيس الأمريكي والمستشار الألماني ورئيسي وزراء بريطانيا وإيطاليا ورئيسة المفوضية الأوروبية بشكل منفصل لدولة يهود، وصل الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون بدوره، صباح اليوم الثلاثاء إلى دولة يهود، في زيارة تهدف بحسب الرئاسية الفرنسية (قصر الإليزيه) إلى "التعبير عن تضامن فرنسا الكامل مع (إسرائيل)، وتجنب تصعيد خطير في المنطقة، والتذكير بأهمية الحفاظ على المدنيين، والاستئناف الحاسم لعملية سلام حقيقة". (القدس العربي)

0:00 0:00
Speed:
October 25, 2023

تقاطر قادة العالم على زيارة كيان يهود للانضمام إليه في سفك دماء المسلمين

تقاطر قادة العالم على زيارة كيان يهود للانضمام إليه في سفك دماء المسلمين

الخبر:

بعد زيارة الرئيس الأمريكي والمستشار الألماني ورئيسي وزراء بريطانيا وإيطاليا ورئيسة المفوضية الأوروبية بشكل منفصل لدولة يهود، وصل الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون بدوره، صباح اليوم الثلاثاء إلى دولة يهود، في زيارة تهدف بحسب الرئاسية الفرنسية (قصر الإليزيه) إلى "التعبير عن تضامن فرنسا الكامل مع (إسرائيل)، وتجنب تصعيد خطير في المنطقة، والتذكير بأهمية الحفاظ على المدنيين، والاستئناف الحاسم لعملية سلام حقيقة". (القدس العربي)

التعليق:

إن قادة العالم يشدون الرحال إلى كيان يهود بعد العمل البطولي الذي قامت به ثلة من المجاهدين في غزة ضد قوات يهود، في رسالة مفادُها مساندة كيان يهود وإبداء الاستعداد لمدّه بشتّى أسباب البطش بأهل فلسطين وإعطائه الضوء الأخضر للإثخان في قتل المسلمين في غزة.

تأتي مواقف القادة التي هي أبعد ما تكون عن الدبلوماسية في وقت اصطفاف شعوب العالم ضد جرائم يهود والتنكّر لها، وتعاطفها الشديد مع أهل فلسطين المضطهدين، وتيسيرها المسيرات الحاشدة في مختلف العواصم العالمية، وفي ظل تحذيرات السلطات للناس من مساندة الجانب الفلسطيني، والتي جعلت المحللين السياسيين يتشككون في بداهة هؤلاء الزعماء وفطنتهم! السؤال الذي يطرح نفسه هو ما الذي يدفع هؤلاء القادة إلى تجاهل الرأي العام في بلدانهم والإصرار على مواقفهم الفجّة مع كيان يهود المجرم، وعدم لجوئهم حتى إلى المواربة والمراوغة؟! لا تزال الإجابة غامضة لغاية الآن، لكن حتى وإن لم تتبين الإجابة كاملة وبدقة لعدم توفّر معلومات دقيقة لوقتنا هذا، فإن لهذه المواقف دلالات واضحة مبنية على أسس التحليل الثابتة، وأهمها:

1- لا يُفترض أن دهاء هؤلاء القادة يُمكّنهم من الإحاطة بالأمور من كل جانب، فهو منطق لا يثبت شيءٌ صحتَه. إن الشيطان ليوسوس لهؤلاء القادة ليكيدوا بالمسلمين، ومع أن كيده ضعيف بدلالة قول الله سبحانه وتعالى: ﴿إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفاً، إلا أن كيده لا يُستهان به، فقد كاد لأبي البشر آدم فأخرجه من الجنة، وقدر على تضليل الناس في الأرض، وسيظل إلى يوم القيامة يكيد بعباد الله ليعصوا الله ويتبعوا الشهوات. إن إجماع هؤلاء القادة على أمر كاده الشيطان لهم، على الرغم من صراعاتهم وتضارب مصالحهم، يكشف لنا عن وجود مصلحة مشتركة تخدمهم جميعاً أو "مفسدة" وأذىً لهم تُدفع عنهم، لكنهم لا يستطيعون البوح بها الآن لحساسيته ولأن مجرد ذكرها سيحبط مسعاهم، وهو الأمر الذي جعلهم يديرون ظهورهم لشعوبهم وشعوب العالم كله، ومنها شعوب المسلمين، على خلاف الأسس الديمقراطية التي تجعل الحكم باسم الشعب وبإرادة الشعب، وتجعل الحكومة تسعى لرضا شعبها ولو بالكذب والتضليل، فقد تجاهلوا هذه المبادئ ولم يلجؤوا حتى إلى الدبلوماسية والمداهنة! الغريب أنهم لا يفصحون عن سبب تجاهلهم لإرادة الشعوب ومشاعرها ودوسهم على القيم الإنسانية المزعومة، فلا بد أنهم لأمر جلل يتخذون هذا الموقف المُستنكر.

2- إن هذا الموقف يؤكد على حقيقة اطمئنان هؤلاء القادة الاستعماريين إزاء قيام الأنظمة القابعة على رؤوس المسلمين بدورها القذر الذي أُسند إليها ونصّبوها من أجله؛ وهو حماية النظام الغربي وعدم السماح للأمة بالتمرد عليه لنصرة بعضها بعضاً والدفاع عن قضاياها، فهي أنظمة وظيفتها لا تعلو وظيفة الجلاد الذي يهدد الناس بسوطه، وقد أصبح للأنظمة باع وخبرة في أداء مهمتها، وباتت تبدع في أساليب بطشها مع توفر الإمكانات المالية والتكنولوجية والمعلوماتية والاستخباراتية.

3- إن حشد أمريكا ومعها بريطانيا لحاملات الطائرات بالقرب من سواحل البلدان الإسلامية في المنطقة يدلّل على أن القوى الغربية غير مطمئنة من قدرة هذه الأنظمة على السيطرة على الشارع العام في عواصم بلاد المسلمين، في القاهرة وعمان وإسطنبول وغيرها، لذلك فهي تحاول تدارك أي انفلات محتمل، وهو ما يؤكد أيضاً إدراك قادة العالم بأن مواقف الأنظمة لا تعدو كونها صدى لمواقف صناع القرار في الغرب، على نقيض مواقف الأمة التي تتداعى لأعضاء جسدها إذا ما اشتكى أي عضو فيها.

ينبغي على المسلمين في مختلف بلدان المسلمين ترسيخ ثقتهم بدينهم وأنفسهم وأمتهم، والتبرؤ من حكامهم وأنظمتهم الذين لا يعبرون عنهم، وليكونوا على ثقة بأنهم لاعب عنيد لا يُستهان به في الموقف الدولي، والمسألة هي مسألة وقت حتى يتسنى لهذا اللاعب التسديد في المرمى بحرية. يتوجب على الأمة الالتفاف حول القادة السياسيين الحقيقيين من بينهم، العاملين الحاملين للدعوة في حزب التحرير، فهم الممثلون الحقيقيون للأمة ودينها، ومعهم وتحت قيادتهم سينعتقون من ربقة الأنظمة العميلة، ويسيرون فاتحين للعالم بالإسلام، ويلقّنون هؤلاء القادة وربيبهم كيان يهود المسخ دروساً تنسيهم وساوس الشيطان.

﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال المهاجر – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست