تقرير مؤسسة راند للأبحاث حول تركيا لعام 2020
تقرير مؤسسة راند للأبحاث حول تركيا لعام 2020

الخبر: وضعت مؤسسة راند التصريحات التالية في تقريرها المعنون بـ"المسار القومي لتركيا: الآثار المترتبة على الشراكة الاستراتيجية بين أمريكا وتركيا والجيش الأمريكي": "يُقال إن الضباط متوسطي المستوى يشعرون بالإحباط الشديد من القيادة العسكرية ويشعرون بالقلق من إبعادهم في تطهير مستمر بعد الانقلاب. قد يؤدي هذا الاستياء إلى محاولة انقلاب أخرى في مرحلة ما، ويبدو أن أردوغان يأخذ هذا التهديد على محمل الجد". (تقرير مؤسسة راند تركيا 2020، الصفحة 14)

0:00 0:00
Speed:
March 02, 2020

تقرير مؤسسة راند للأبحاث حول تركيا لعام 2020

تقرير مؤسسة راند للأبحاث حول تركيا لعام 2020
(مترجم)


الخبر:


وضعت مؤسسة راند التصريحات التالية في تقريرها المعنون بـ"المسار القومي لتركيا: الآثار المترتبة على الشراكة الاستراتيجية بين أمريكا وتركيا والجيش الأمريكي": "يُقال إن الضباط متوسطي المستوى يشعرون بالإحباط الشديد من القيادة العسكرية ويشعرون بالقلق من إبعادهم في تطهير مستمر بعد الانقلاب. قد يؤدي هذا الاستياء إلى محاولة انقلاب أخرى في مرحلة ما، ويبدو أن أردوغان يأخذ هذا التهديد على محمل الجد". (تقرير مؤسسة راند تركيا 2020، الصفحة 14)


التعليق:


أصدر تقرير مؤسسة راند، وهي مؤسسة فكرية أمريكية، تقريراً من 276 صفحة بما في ذلك الملحق المتعلق بتركيا. يتكون هذا التقرير من تسعة فصول وموضوعات مختلفة متعلقة بتركيا وتناقش في كل قسم. ومع ذلك، على الرغم من أن التقرير يحتوي على تسعة فصول ويعالج مواضيع مختلفة، إلا أن وسائل الإعلام التركية عرضت "مناقشات الانقلاب". لم يتم التأكيد على قضايا أخرى في التقرير. تناول كل قطاع من المجتمع من السياسيين والصحفيين والمنظمات غير الحكومية إلى الأكاديميين الموضوع، وناقشوا القضية عند النقطة التي يمكن فيها لبعض الضباط في الجيش الانقلاب. دون الخوض في التفاصيل، سنقوم بتحليل التقرير بالعناوين الرئيسية وتقييم مناقشات الانقلاب.


1- أولاً وقبل كل شيء، يبدو أن هذا التقرير يجب دراسته بطريقة مفصلة ودقيقة. في الواقع، في تقرير مؤسسة راند، الذي أعد في عام 1996 في عهد حكومة الرفاه، يبين أنه "من أجل إيجاد حل شامل لمشكلة الشرق الأوسط، يجب أن تكون تركيا محكومة لرئاسة عبد الله غول ورئيس الوزراء رجب طيب أردوغان". لذلك، يمكن هنا رؤية محاور المقررات السياسية الداخلية والخارجية التي يجب تطبيقها في تركيا على الجانب الأمريكي في العقد القادم.


2- في هذا التقرير، تكشف أمريكا كيف يجب أن يتصرف الحزب السياسي في السلطة، وخاصة المسار الذي يجب اتباعه في السياسة الخارجية:


أ. كما في الصورة المعطاة للرأي التركي بشأن أردوغان، ستستمر أمريكا في إظهار تركيا بقيادة أردوغان كدولة تقاتل الولايات المتحدة والعالم بأسره. في الواقع، في استطلاع حديث، كانت إجابات السؤال عن سبب وجود الجيش التركي في سوريا على النحو التالي: أجاب 45٪ أنه وجد لمحاربة وحدات الشعب، وأجاب 9٪ أنه معارض للعالم، و16٪ أجابوا أنها معارضة لأمريكا.


ب. في الفترة المقبلة، ستستمر تركيا في تكوين وجهة نظر معادية، بينما تتصرف نيابة عن أمريكا في العالم الخارجي وتخدم مصالحها عن طريق إرسال جنودها. كما هو الحال الآن في سوريا وليبيا. في الواقع، في الجزء التمهيدي من التقرير، نص على أن: "تركيا والولايات المتحدة لديهما شراكة استراتيجية لأكثر من ستة عقود، لكن الشراكة أصبحت متوترة في السنوات الأخيرة".


ج. من ناحية، يقوم هذا التقرير بإجراء تقييمات تشير إلى أنه من المطلوب رؤية أردوغان في السلطة على مدى السنوات العشر المقبلة، بينما، من ناحية أخرى، يعبر عن إمكانية وجود هيكل بديل بالطريقة التالية: "إذا كان هناك تحالف قابل للحياة في تركيا، سيتم طرد أردوغان وحزب العدالة والتنمية من السلطة في عام 2023... ومع ذلك، فإن الشكوك العامة العميقة للولايات المتحدة وأوروبا ستحد من وتيرة ونطاق التقارب مع تركيا في المستقبل". وهكذا، فمن ناحية، بينما يتم تسليم الرسائل للرأي التركي، من ناحية أخرى، يبقى أردوغان في السلطة على حساب حماية المصالح الأمريكية، كما يجب عليه ألا يعرف حدوداً للمصالح من أمريكا. من خلال إعطاء صورة أن جميع أعضاء المعارضة، بخلاف حزب العدالة والتنمية والحركة القومية العليا يتصرفون في نفس المرتبة مع أمريكا، فيُطلب من القسم المحافظ مواصلة دعم أردوغان.


3- بالنسبة لبيانات الانقلاب في التقرير. على الرغم من الظروف التي نعيش فيها، فإن احتمال حدوث انقلاب عسكري ضعيف للغاية، فالضباط الموالون لبريطانيا وغيرهم ممن طُردوا من الجيش أو قُبض عليهم بسبب قضيتي إرغينكون وفيتو يتحملون ضغائن وكراهية ضد أردوغان وأمريكا، وبالتالي ما زالوا يحلمون بالانقلاب. لأنه، منذ 15 تموز/يوليو، تم تنفيذ عمليات اعتقال واحتجاز للجنود. تحت اسم عملية فيتو، بدأ المؤيدون البريطانيون، الذين كانوا منزعجين للغاية من هذا الوضع، في مناقشة ما يسمى "المحطة السياسية" ـ وبهذا، أزعج هذا الوضع أردوغان وحزبه الذي يحاول خدمة أمريكا بكل قوة، بغض النظر عن دماء ملايين المسلمين، وخاصة في سوريا. وصرح المؤلفون والمعلقون المؤيدون لأردوغان، من خلال التأكيد على بيان من التقرير "هذا السخط يمكن أن يؤدي إلى محاولة انقلاب أخرى في مرحلة ما"، وهكذا، فإن أردوغان وحزب العدالة والتنمية، اللذين كانا في المجلس المستهدف من خلال مناقشات "الضربة السياسية لمحادثات فيتو"، أتيحت لهما فرصة لعكس الضغط عليهما وتغيير جدول الأعمال.


من ناحية أخرى، هدد أردوغان، في كلمته التي ألقاها عند عودته من زيارته لباكستان، أولئك الذين يفكرون في القيام بانقلاب بقوله "لقد حصلوا بالفعل على الإجابات اللازمة، وخاصة في 15 تموز/يوليو. وبمجرد وجود شيء من هذا القبيل، فإن أمتنا لم تعد تسألنا عما إذا كان ينبغي لنا الخروج من الباب أم لا. سوف يخرجون بكل ما لديهم".


وبما يتعلق بالقضية نفسها، قال وزير الدفاع، خلوصي أكار: "حتى الآن، تم اتخاذ إجراء بشأن 24.185 شخصاً. هذا الرقم يتغير يوما بعد يوم. يوجد حتى الآن من طُردوا من الجيش بموافقة الوزير في إطار هذه اللوائح القانونية. تم طرد 3.963 بتوقيعنا. لذلك، ليس هناك شك في التباطؤ والانحراف في هذه المعركة. كل ما يجب القيام به، تم القيام به وما زال يتم بنفس الحساسية". لذا صرح خلوصي أكار أن العمليات ضد البريطانيين تحت اسم فيتو ستستمر ولن تكون خطوة إلى الوراء.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست