May 06, 2026

تراجع أمريكا وانعكاس ذلك على مستقبل الاتحاد الأوروبي والعالم العربي


" سقوط أمريكا ليس من الضروري أن يكون بانهيار كامل، فهذا البلد الذي نجح في بناء نفسه مرات عديدة، لم يعد يحتمل القيام بذلك مرة أخرى، فليست النهايات دائما ما تكون على ما يرام " - دير شبيجل


إنّ ما يشهده العالم من أزمات سياسية طال أمدها تهدد إعادة تشكيل النظام السياسي القائم، فقد أصبح نظامان سياسيان على المحك، وهما مرتبطان ارتباطا وثيقا وعلى طرفي نقيض في العالم.


ففي الغرب، فإنّ الاتحاد الأوروبي القوي، بعد أن استقر وأصبح قويا ها هو يترنح على حافة الانهيار، فأزمة اليورو والديون التي اجتاحت القارة الأوروبية أطلقت من جديد العنان لقوى الظلام القومية التي ظلت كامنة لمدة ستين عاما ونيف لتعاود البروز.


وفي الشرق، فإنّ العالم العربي المستعبد من قبل الأنظمة الاستبدادية التي نصبتها القوى الغربية، ها هو يسقط الأنظمة واحدة تلو الأخرى كأحجار الدومينو، ويكشف عن قوى التغيير الحيوية وغير المسبوقة.


من ينظرون إلى هذه الأحداث من خلال عدسة التفاؤل يفسرونها بإيجابية بالقول أنّ أوروبا المتحدة ستخرج أقوى من ذي قبل، والعالم العربي سيتحول إلى واحة من الحرية والديمقراطية.


ولكن عندما يُنظر إليها من خلال منظور الواقعية فإنّ الصورة مختلفة تماما، فتجربة ما بعد الحداثة الأوروبية تتجه إلى نهايتها، والعالم العربي هو في النهاية سيحرر نفسه من أغلال الاستعمار بطرد الأنظمة الموالية للغرب الاستبدادي، ووفاة النظم السياسية ليس من قبيل الصدفة، فهو مرتبط بتراجع أمريكا في العالم، ومن أكثر من جانب فإنّ النظم السياسية في أوروبا وفي العالم العربي هي نتاج للهيمنة الأمريكية واختراعا لها.


فقد فتحت خطة مارشال الأبواب لأمريكا للسيطرة على أوروبا والنزوع للحروب وكبحت طموح أوروبا في الحفاظ على المستعمرات في الخارج، وبعد الحرب العالمية الثانية، سعى الزعماء الأمريكيون إلى تقليص هيمنة أوروبا في العالم. يقول المؤرخ جون هاربر بأنّ الرئيس الأمريكي روزفلت أراد " إحداث تخفيض جذري في وزن أوروبا"، وبالتالي "جعل تقاعد أوروبا من السياسة العالمية ممكنا " ( هاربر، رؤى أمريكية لأوروبا: فرانكلين روزفلت جورج كينان، واتشيسون، كامبردج في المملكة المتحدة 1996 ).


في ظل المساعدات الاقتصادية الأمريكية والهيكلة الأمنية لأوروبا، فإنّ أوروبا التي مزقتها الحرب رسمت لنفسها طريقا جديدا نحو كسر فكرة الدول القومية المتحاربة، التي استنزفت القارة في الماضي، وفي نهاية المطاف ولد الاتحاد الأوروبي، حيث قمعت فيه أخيرا القومية والسيادة الوطنية لتفسح المجال أمام سلطة تترأس في بروكسل. فتعجب الأوروبيون في إنشائه فيما بعد الحداثة، ووصف بأنّه من التطور الطبيعي للأمة النموذجية، وقال أحد المؤيدين لهذا النموذج، روبرت كوبر، مستشار رئيس الوزراء البريطاني السابق توني بلير " نظام ما بعد الحداثة الذي نعيش فيه نحن الأوروبيون لا يعتمد على التوازن، كما أنّه لا يؤكد على السيادة أو الفصل بين الشئون الداخلية والخارجية، وقد أصبح الاتحاد الأوروبي نظام متطور للغاية، من حيث التدخل في الشئون المتبادلة بين شئوننا الداخلية، وصولا إلى البيرة والسجق... ومن المهم أن ندرك أنّ هذه ثورة غير عادية وهذه هي (الليبرالية الجديدة والامبريالية) "، الجارديان ، الأحد 7 أبريل 2002، ومع ذلك فقد جاءت ولادة دولة ما بعد الحداثة بثمن، حيث كان الاتحاد الأوروبي لا يمكنه تحدي سيادة أمريكا في العالم، وفقد الكثير من مستعمراته للولايات المتحدة، فقد استخدمت أمريكا وسائل عديدة للسيطرة على الاتحاد الأوروبي، لاسيما في ألمانيا أقوى أعضائه، ومن خلال توسيع حلف الناتو، وتوسيع الاتحاد الأوروبي ليشمل الدول الأعضاء الجديدة، واستخدام العملة الموحدة أي اليورو.


فمن خلال هذه الوسائل، كانت أمريكا قادرة على السيطرة على مقاليد القوة الاقتصادية والعسكرية في أوروبا، واستمر هذا حتى انهيار ليمان براذرز، التي جلبت معها بداية الكساد الاقتصادي الحالي، كما أنّ الأزمة المالية الأمريكية هي السبب الحقيقي وراء الاضطرابات الاقتصادية والسياسية في أوروبا، فهي من يعجل في انهيار الاتحاد الأوروبي، وهو ما تمخض عن ستين عاما من تفوق الولايات المتحدة على الشئون الأوروبية، وعلى الأرجح فإنّ ألمانيا ستنجو من تحت الأنقاض في الاتحاد الأوروبي باعتبارها قوة رئيسية قادرة على إحباط المصالح الأمريكية في أوروبا، وبصفتها المزود الرئيس للسلام والأمن في القارة، وأزمة اليورو وسياسة عدم عسكرة ألمانيا يمكن برلين من صياغة السياسة الأوروبية على الشكل الذي تراه مناسبا.


ونذير آخر، هو أنه في سياق التاريخ الأوروبي فإنّ تجربة ما بعد الحداثة هي حقا مفارقة، فالسلوك المهيمن في أوروبا هو التجاذب نحو الدخول في السلم والحرب، في سلوك تغذيه القومية الجامحة والسعي للهيمنة على الشعوب الأخرى.


الشكل السياسي والمؤسساتي القائم في العالم العربي اليوم هو من مخلفات القوى الأوروبية القديمة التي استعمرته، ومع ذلك فإنّه بعد عام 1945، ظهرت أمريكا كدولة رائدة في العالم ودخلت العالم العربي بهدف إزالة النفوذ البريطاني والفرنسي منه، واغتصاب حقول النفط في الشرق الأوسط. وصفت وزارة الخارجية الأمريكية الشرق الأوسط "بأنّه مصدر قوة إستراتيجية هائل، وهو أحد أكبر الجوائز المادية في تاريخ العالم".


لم يكن لدى أمريكا نية لتفكيك الأنظمة الاستبدادية، بل إنّها سعت إلى التمكين لها لتتمكن من استخدامهم في ادعاءاتها الكاذبة حول تقديم الحرية والديمقراطية في جميع أنحاء العالم، وشرعت أمريكا المسلحة "بمبدأ ترومان" لحرمان العالم العربي من التحرر من الاستبداد والقدرة على حكم نفسه بنفسه، ودعمت هذه الأنظمة سرا وعلانية لإبقاء شعوب هذه المنطقة تحت الجبر والقهر. ولكن في عام 2011 اندلعت ثورات شعبية في جميع أنحاء المنطقة، وأزالت بعض الطغاة، وزعزعة قبضة النظام السياسي الذي وضعته أمريكيا بعناء.


لم يعد العلمانيون اليوم مهيمنين على المشهد السياسي، فهناك موجة إسلامية جديدة قد سارعت إلى ملء الفراغ، في المغرب ، وتونس ، ومصر، حيث أصبح الإسلام السياسي يسود الوسط السياسي، وعلى الأرجح فإنّ ليبيا واليمن ستحذو حذوها، ولا شيء يجسد التيار الإسلامي أفضل من الضجة التي أحدثها رئيس الوزراء المعتدل التونسي حمادي الجبالي، الذي أشار إلى الوقت الحاضر بأنه " لحظة إلهية في الدولة الجديدة، ونأمل أن تكون الخلافة السادسة "، وأنّ " تحرير تونس سيؤدي إلى تحرير القدس إن شاء الله ". فإنّ كان هذا حلم أحد المعتدلين، إحياء الخلافة، فما هو حلم معظم الجماهير العربية؟!.


إنّ مفهوم الدولة الوطنية غريب عن العالم العربي، فقد كان مستوردا إلى المنطقة من القوى الأوروبية، أما الميل الطبيعي للجماهير العربية فهو نحو الانجذاب إلى نظام الخلافة، الذي أبقى على هذه الأمة موحدة تحت قائد واحد لأكثر من ألف سنة، والمؤكد هو أنّ العالم العربي الآن هو على هذا المسار، بغض النظر عما تقوم به الحكومة الأمريكية.


بينما تناضل أمريكا من أجل إدارة انحدارها، فإنّ مصير اثنين من النظم السياسية هي على وشك التغيير، والعالم سيعود إلى ما قبل عام 1945، ضمن نموذج واحد في عالم متعدد الأقطاب، مهيمن عليه من مختلف مراكز النفوذ الجيوسياسي، حيث تكون الخلافة على رأس السلطة.


عابد مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست