تراكم الدين في كينيا يصل إلى 5.4 تريليون شلن ليؤكد فشل النظام الاقتصادي الرأسمالي (مترجم)
تراكم الدين في كينيا يصل إلى 5.4 تريليون شلن ليؤكد فشل النظام الاقتصادي الرأسمالي (مترجم)

الخبر:   تدفع كينيا 658.2 مليار مقابل 1.4 تريليون شلن في الإيرادات الضريبية المتوقعة، مما يفيد بأن نصف المبلغ الذي تحصل عليه هيئة الإيرادات الكينية (كرا) يذهب لدفع الدين. بالإضافة إلى النفقات الإجبارية مثل الرواتب والمعاشات التقاعدية التي يتم خصمها حتى قبل أن تصل إلى حساب النفقات، ومع هذا سيدفع الكينيون مبلغ 735.6 مليار شلن هذا العام، ولن يتبقى سوى 700 مليار تذهب إلى المقاطعات والحكومة الوطنية للتنمية. يقول الدكتور كاماو ثوج في عرض مشروع ميزانية عام 2018: "إن معظم النفقات الحكومية غير اختيارية إذا قمت بطرح كل تلك النفقات لن يتبقى الكثير". إذا ما أدرجت القروض السرية، فإن دين كينيا سيصل إلى 5.4 تريليون شلن هذا العام ليرتفع من أدنى مستوى له إلى 2.5 تريليون شلن في كانون الأول/ديسمبر 2014، وهذه الزيادة تقدر بنسبة 116٪ خلال أربع سنوات. (standard)

0:00 0:00
Speed:
March 03, 2018

تراكم الدين في كينيا يصل إلى 5.4 تريليون شلن ليؤكد فشل النظام الاقتصادي الرأسمالي (مترجم)

تراكم الدين في كينيا يصل إلى 5.4 تريليون شلن

ليؤكد فشل النظام الاقتصادي الرأسمالي

(مترجم)

الخبر:

تدفع كينيا 658.2 مليار مقابل 1.4 تريليون شلن في الإيرادات الضريبية المتوقعة، مما يفيد بأن نصف المبلغ الذي تحصل عليه هيئة الإيرادات الكينية (كرا) يذهب لدفع الدين. بالإضافة إلى النفقات الإجبارية مثل الرواتب والمعاشات التقاعدية التي يتم خصمها حتى قبل أن تصل إلى حساب النفقات، ومع هذا سيدفع الكينيون مبلغ 735.6 مليار شلن هذا العام، ولن يتبقى سوى 700 مليار تذهب إلى المقاطعات والحكومة الوطنية للتنمية. يقول الدكتور كاماو ثوج في عرض مشروع ميزانية عام 2018: "إن معظم النفقات الحكومية غير اختيارية إذا قمت بطرح كل تلك النفقات لن يتبقى الكثير". إذا ما أدرجت القروض السرية، فإن دين كينيا سيصل إلى 5.4 تريليون شلن هذا العام ليرتفع من أدنى مستوى له إلى 2.5 تريليون شلن في كانون الأول/ديسمبر 2014، وهذه الزيادة تقدر بنسبة 116٪ خلال أربع سنوات. (standard)

التعليق:

إن سبب أزمة الديون الحالية في كينيا هو حب القيادة للقروض التي تجذب اهتمام المقرضين الماليين على الصعيدين المحلي والدولي. كما ويتبين من وجهة نظر النظام الاقتصادي الرأسمالي أن المؤسسات المالية المتبعة نظام الفوائد تكون أساس الاقتصاد في أي دولة رأسمالية علمانية بما في ذلك كينيا. ولكي نقول إن بلدا ما يتمتع باقتصاد نامٍ فإنه يوجه ناتجه المحلي الإجمالي مقابل الدين التراكمي، إذا كانت نسبة الناتج المحلي الإجمالي إلى الدين التراكمي أكبر. إن ما نسبته 4 : 1 يدل على استقرار الاقتصاد الذي يمكن سد جميع ديونه! وبالتالي فإن النظام الاقتصادي الرأسمالي لا يعنى بتوزيع الثروة ولكن بإنتاجها فقط.

إن الناتج المحلي الإجمالي يدل على أن هنالك فئة قليلة من الناس تعد الملايين أو المليارات التي تتراكم على رعايا البوبير. وتتحايل النخبة الغنية بنظام الضرائب، حيث إنها لا تفي بوعودها بشأن الإعفاءات الضريبية التي تفرضها الحكومة على سلع وخدمات معينة. وإن دل هذا فإنه يدل على مدى خداع وزيف شعاراتهم التي تروج على نطاق واسع باسم "دفع الضرائب"، والاعتماد على النفس" و"وجوب إعطاء الأولوية للمستثمرين". حيث استولت هذه الشعارات على واقعين متناقضين هما: واقع الناس الفقراء والضرائب الملقاة على عاتقهم، ومن ناحية أخرى، واقع الفئة الغنية المستقطبة للضرائب. إن آليات الاستثمار تحاول أن تبين أن القطاعات الحيوية هي التي يمكن أن ترفع من الاقتصاد. فقطاع المعادن الحكومي قد تراجع في حين إن ما يسمى المستثمرين يستخدمون شركاتهم متعددة الجنسيات التي تتعامل بالمعادن المربحة والأعمال التجارية محليا وإقليميا وعالميا، ولكن ما يتم تقديمه إلى الحكومة هو عبارة عن فتات ما يجنونه.

ولذا لا تملك الحكومة سوى خيار اعتماد قروض باهظة تعتمد على الفوائد لتستخدم بمشاريع التنمية التي هي في الواقع مجرد خطط لنهب الثروات والخزينة العامة.

الحل يكمن في تنفيذ الطريقة الإسلامية كبديل للنظام الرأسمالي العلماني الفاسد. وقد بين الله تعالى هذه الطريقة حيث يقول جل جلاله: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ [البقرة: 257].

إن أي دولة تعتمد في تدبير أمور اقتصادها على نظام القروض المستند على الفائدة التي يديرها الرأسماليون الذين يساعدون على تكبيل واستعباد كل الناس بالديون الدائمة هي دولة فاسدة. حيث سيؤدي نظام القروض هذا إلى سحق البلد وسيعاني أهله جراء الفوائد.

إن البيانات الافتتاحية الحالية التي أدلى بها بعض علماء الاقتصاد المشبوهين في كينيا يروجون الأكاذيب ويبينون أن صندوق النقد الدولي والبنك الدولي هما مفيدان للجميع، مع أنهما لا يجلبان فوائد سوى لهما. إن التدبيرات التقشفية كمثل هذه التي تحدث في كينيا تسهل الفساد وتسرع من وجود الأزمات كما حدث على سبيل المثال في إندونيسيا في عام 1976 وجامايكا في عام 1978 وروسيا في عام 1997 والأرجنتين في عام 2001.

يبين النظام الاقتصادي الإسلامي بأن سوء توزيع الثروة هو السبب الرئيسي في ركود الاقتصاد. وبالتالي، فإنه يدعو إلى توزيعها، ويوفر أيضا سبلاً لتحفيز الناس لكسب الثروة.

وعلاوة على ذلك، فإن السياسة الاقتصادية في الإسلام هي ضمان تلبية جميع الاحتياجات الأساسية لكل فرد على أكمل وجه، وتمكينه من جمع قدر مرضٍ من الرفاهية، بصفته فردا يعيش في مجتمع معين. لذلك ينظر الإسلام إلى كل فرد بعينه. بعكس النظام الاقتصادي الرأسمالي الذي يهتم ببعض المؤسسات المعنية بالشركات القائمة على الوضع الراهن. وبالتالي فإن زيادة أو انخفاض إنتاج شركاتها يحدد الناتج المحلي الإجمالي للبلد الذي يقود إلى اقتصاد متدهور أو مزدهر. إن الدولة هي التي يجب أن تعتني بالأفراد في ظل الوضع الراهن وتكون مستعدة لمجابهة أي انهيار وشيك! ولكن المسئولين يهملون غالبية الرعايا المتعرضين للاستغلال بسبب القروض والفوائد مثل الوضع الحالي في كينيا حيث يصل مقدار دين كل شخص 100.000 شلن.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست