ٹرمپ نے غزہ پر جنگ کے حوالے سے 6 ممالک کے رہنماؤں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی
خبر:
عبرانی چینل 12 نے اتوار کی شام اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ جنگ کے حوالے سے سعودی عرب، امارات، قطر، مصر، اردن اور ترکی کے رہنماؤں کو ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ عبرانی چینل نے اس معاملے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منگل کو منعقد ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس وزیراعظم نیتن یاہو کے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچنے سے چند دن قبل ہو رہا ہے۔
تبصرہ:
کیا یہ افسوسناک اور تکلیف دہ نہیں ہے کہ امریکہ کا صدر مسلمانوں کے حکمرانوں کو دعوت دے اور وہ جواب دیں، اور ان کو حکم دے اور وہ اطاعت کریں؟! کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ٹرمپ کا انتظار کریں کہ وہ غزہ پر یہودیوں کی جنگ کے حوالے سے انہیں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دے؟! کیا ان کا یہ اجلاس اہل غزہ کے لیے وبال جان نہیں ہوگا؟! اگر وہ مرد ہوتے تو ان میں مردوں جیسی غیرت ہوتی کہ وہ غزہ اور اس کے باشندوں کی مدد کرتے۔ اور اگر ان کا تعلق اسلام سے ہوتا تو وہ فلسطین کو مکمل فلسطین آزاد کرانے کے لیے اس کے احکامات کو حرکت میں لاتے۔
اے مسلمانو: تم اس وقت تک عزت و تکریم حاصل نہیں کر سکتے جب تک یہ رُویبضات تمہاری تقدیر پر قابض ہیں اور وہ یہود و امریکہ کے پیروکار ہیں۔ اس لیے تمہاری فوجوں پر لازم ہے کہ انہیں معزول کریں اور اللہ کی شریعت کو نافذ کریں اور اللہ کی راہ میں جہاد کا اعلان کریں، جسے جب سے اُمت نے چھوڑا ہے ذلیل ہوئی اور اس کی زمین اور مقدسات غصب کر لیے گئے اور یہود اس پر قابض ہو گئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس قوم نے جہاد چھوڑ دیا اللہ اسے عذاب میں مبتلا کر دے گا" اور جیسا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جس قوم نے جہاد چھوڑ دیا وہ ذلیل ہو گئی۔"
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے۔
محمد سلیم - ارض مبارکہ (فلسطین)