ترامب يدشن سياسة بلاده في الشرق الأوسط
ترامب يدشن سياسة بلاده في الشرق الأوسط

الخبر: قام دونالد ترامب رئيس أمريكا بزيارة للسعودية وكيان يهود قبل رمضان بأيام معدودة.

0:00 0:00
Speed:
May 26, 2017

ترامب يدشن سياسة بلاده في الشرق الأوسط

ترامب يدشن سياسة بلاده في الشرق الأوسط

الخبر:

قام دونالد ترامب رئيس أمريكا بزيارة للسعودية وكيان يهود قبل رمضان بأيام معدودة.

التعليق:

بينما يستعد المسلمون في العالم لاستقبال شهر رمضان الفضيل منتظرين هلاله المبارك، أطل دونالد ترامب برفقة زوجته عارضة الأزياء من سماء الجزيرة العربية بعد أن كان قد شن حربا هوجاء على الإسلام مدعيا أنه دين (الإرهاب) وأن معتنقيه أغلبهم (إرهابيون). وقد تم جلب رؤساء وملوك وأمراء دول العالم الإسلامي بمذكرة جلب أمريكية إلى الرياض ليأمرهم سيدهم بالوقوف إلى جانب أمريكا في حربها على الإسلام تحت غطاء مسمى (الإرهاب) الذي اخترعته أمريكا منذ سبعينات القرن الماضي.

وقد دشن ترامب وعبده ملك السعودية مركز مكافحة الإسلام (تحت مسمى الارهاب) وتم توظيف مئات العملاء الباحثين في هذا المركز ليكون بمثابة مركز استراتيجي لحرب الإسلام ومنع ظهوره نظاما عالميا يهدد مصالح الدول العظمى ويستأصل شأفة طاغوت الرأسمالية. وبدلا من أن يستهل العالم الإسلامي رمضان بالتوبة والرجوع إلى الله، استقبله الحكام بالهرولة نحو أمريكا ومخططاتها وهجومها على الإسلام دين الرحمة للبشرية جمعاء.

لم يكتف ترامب باصطفاف زعماء العالم الإسلامي خلفه بالتنديد بالإسلام واتهامه بـ(الإرهاب) والعنف بل فرض عليهم أن يكونوا جنودا في هذه الحرب القذرة وطلب منهم 34 ألف جندي خدمة لشيطانهم وطاغوتهم. وإذعانا بالتكبر والجبروت فقد فرض ترامب على السعودية إتاوة تفوق 450 مليار دولار تحت مسمى شراء وتطوير أسلحة ليس لها دور ولا وظيفة غير إشاعة الفوضى والدمار في حياض المسلمين. وتقديرا لجهود (العم سام!) وأعماله العدوانية وتهجمه المستمر على دين الله ومنهاجه فقد قدم ملك السعودية لترامب وزوجه وعائلته ما يزيد على مليار ونصف المليار دولار على شكل مجوهرات وذهب وهدايا ثمينة، كانت تكفي لإطعام أهل سوريا وغزة بل فلسطين كلها طوال أيام شهر رمضان الفضيل.

أيُّ خزي هذا الذي وصلت إليه أمتنا تحت إمرة السفهاء أمثال سلمان والسيسي وغيرهما من رويبضات هذه الأمة. وكأني بكعب بن عجرة يتلقى من رسول الله rتحذيرا من هؤلاء السفهاء. فعنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ النَّبِيَّ rقَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: «أَعَاذَكَ اللَّهُ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ»، قَالَ: وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: «أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي، لا يَهْدُونَ بِهَدْيِي، وَلا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلا يَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ عَلَى كَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ، وَسَيَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلاةُ قُرْبَانٌ، أَوْ قَالَ: بُرْهَانٌ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ أَبَدًا، النَّارُ أَوْلَى بِهِ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، النَّاسُ غَادِيَانِ، فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، أَوْ بَائِعُهَا فَمُوبِقُهَا». فدونالد ترامب عدو لله ورسوله ودين الإسلام، وهذا ديدنه وهذا دينه وهذا مبدؤه. أما أمراء المسلمين فقد كان المفروض منهم أن يكونوا حماة للمسلمين من استذئاب هذا الوحش، فإذا بهم أكثر وحشية منه.

ولله در الشاعر حين قال: لا يلام الذئب في عدوانه * إن يك الراعي عدو الغنم.

فالذئب عدو للغنم لا محالة، ولكن أن يكون الراعي عدوا كذلك فتلك مأساة ليس لها حل إلا استبدال راعٍ بالراعي الخائن، يرعى الذمم ويحمي الحمى. وليت شعري في الذي قال: ماذا على الراعي إذا اغتصبت عنزٌ ولم تترد الغنمُ

لقد وضع ترامب سياسة بلاده على طاولة الرويبضات. الأولوية لمحاربة الإسلام. ثم لمحاربة الإسلام ثم لمحاربة الإسلام. ولا غير ذلك شيء. أما موضوع فلسطين فهو بالدرجة الأولى أمن واستقرار كيان يهود. فلن تسمح أمريكا أن يُمسّ بأذى أو أن تقوم على حدوده أي دولة فيها قوة ذاتية، مهما كان اسمها؛ فلسطين أو الأردن أو فيدرالية الاثنتين. وأما سوريا فقضيتها هي الحيلولة دون وصول المسلمين للسلطة مهما كانت تسميتهم وتحت أي شعار، فلا بد أن تبقى دولة علمانية غير ذات لون ولا طعم ولا رائحة، تستمر بتوفير الحماية والأمن لكيان يهود سواء بقي في الجولان أم لم يبق.

هذا ما جاء به ترامب. أما ما ذهب به فهو تعهد أمراء السوء السفهاء بتلبية جميع مطالبه بكامل الإذعان سواء منهم من كان في ركاب أمريكا أم من ركب سفينة بريطانيا. فالكل منضبط على إيقاع سيمفونية ترامب النشاز. وقد عاد ترامب بالغنائم فارداً جناحيه لا يخشى من أمة المسلمين بعد أن رأى بأم عينه كيف يتسابق هؤلاء لخدمته وإرضائه بكل غال ونفيس.

لقد جسدت زيارة ترامب للسعودية مأساة أمتنا وما وصلت إليه من هوان وذل على يد سفهائها ورويبضاتها. لقد أزفت الآزفة، وطغى الخطب حتى غاصت الرُّكَب، وتجرعت الأمة كأس الهوان حتى الثمالة، ولم يبق لهذه الأمة ما تخسره إن هي ثارت وتحركت إلا مرارة الذل، وشظف العيش، وظلم الطاغوت، وقيد العبيد.

لقد صدق الله عز وجل حين بين أن الفجر آت ولو بعد ليال عشر، وأن الليل ماض لا محالة، وكما زالت عاد إرم ذات العماد، وكما زالت ثمود الذين جابوا الصخر بالأوتاد، وكما زال فرعون ذو الأوتاد، فإن أمريكا وطغيانها إلى زوال، وحكام الجور والطاغوت إلى زوال، وإن ربك لبالمرصاد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست