ترامب يسعى لإيقاف الحرب في أوكرانيا مُتجاوزاً أوروبا
ترامب يسعى لإيقاف الحرب في أوكرانيا مُتجاوزاً أوروبا

  الخبر: أعلن الرئيس الأمريكي دونالد ترامب إجراءه مكالمة طويلة ومثمرة جداً استغرقت 90 دقيقة مع نظيره الروسي فلاديمير بوتين حيث اتفقا على بدء مفاوضات فورية لإنهاء الحرب، وقال: "اتفقنا على العمل معاً بشكل وثيق للغاية، بما في ذلك زيارة كل منا لدولة الآخر"، وأضاف: "اتفقنا أيضاً على أن تبدأ فرقنا المعنية المفاوضات على الفور، وسنبدأ بالاتصال بالرئيس الأوكراني زيلينسكي لإبلاغه بالمحادثة"، وكشف عن أنّه طلب من وزير الخارجية ماركو روبيو ومدير وكالة الاستخبارات المركزية سي آي إيه جون راتكليف ومستشاره للأمن القومي مايكل والتز ومبعوثه إلى الشرق الأوسط ستيف ويتكوف قيادة هذه المفاوضات.

0:00 0:00
Speed:
February 13, 2025

ترامب يسعى لإيقاف الحرب في أوكرانيا مُتجاوزاً أوروبا

ترامب يسعى لإيقاف الحرب في أوكرانيا مُتجاوزاً أوروبا

الخبر:

أعلن الرئيس الأمريكي دونالد ترامب إجراءه مكالمة طويلة ومثمرة جداً استغرقت 90 دقيقة مع نظيره الروسي فلاديمير بوتين حيث اتفقا على بدء مفاوضات فورية لإنهاء الحرب، وقال: "اتفقنا على العمل معاً بشكل وثيق للغاية، بما في ذلك زيارة كل منا لدولة الآخر"، وأضاف: "اتفقنا أيضاً على أن تبدأ فرقنا المعنية المفاوضات على الفور، وسنبدأ بالاتصال بالرئيس الأوكراني زيلينسكي لإبلاغه بالمحادثة"، وكشف عن أنّه طلب من وزير الخارجية ماركو روبيو ومدير وكالة الاستخبارات المركزية سي آي إيه جون راتكليف ومستشاره للأمن القومي مايكل والتز ومبعوثه إلى الشرق الأوسط ستيف ويتكوف قيادة هذه المفاوضات.

وكان وزير الدفاع الأمريكي بيت هيغسيث قد أكد أنّ واشنطن لن ترسل قوات إلى أوكرانيا بموجب أي اتفاق سلام، وشدّد على أنّ استعادة كييف لكل أراضيها أو انضمامها إلى الناتو "ليسا هدفين واقعيين"، وتحدّث أمام وزراء دفاع مجموعة من الدول الداعمة لكييف، بينهم نظيره الأوكراني: "رسالتنا واضحة، إراقة الدماء يجب أن تتوقف ويجب أن تنتهي هذه الحرب"، واعتبر أن محاولة استعادة حدود أوكرانيا إلى ما كانت عليه قبل عام 2014 هو "هدف غير واقعي" من شأنه أن يطيل أمد الحرب.

من جهته أعلن الكرملين بشكل منفصل أنّ المكالمة بين بوتين وترامب استمرت ساعة ونصف ساعة، وأنّهما اتفقا على أنّ الوقت قد حان للعمل معاً. وأنّ بوتين أبلغ ترامب أنّ التوصل إلى حل بعيد المدى للنزاع المستمر في أوكرانيا منذ عام 2022 أمر ممكن، وأنّه دعاه إلى زيارة موسكو.

التعليق:

من الواضح أنّ الرئيس الأمريكي بدأ يعمل في السياسة الخارجية بتجاهل تام للدول الأوروبية، فاتصاله مع الرئيس الروسي بوتين واتفاقه معه على البدء بالعمل مع روسيا لوقف إطلاق النار في أوكرانيا، وتكليفه لوزيري الدفاع والخارجية ومدير وكالة الاستخبارات المركزية ومستشار الأمن القومي ومبعوثه إلى الشرق الأوسط بقيادة هذه المفاوضات كل ذلك يؤكّد على أنّ ترامب يريد القيام بأعمال في السياسة الخارجية بشكلٍ جدي وبمنأى عن الأوروبيين الذين اعترضوا بشدة على استبعادهم من المفاوضات، خاصة وأنّ الموضوع الأوكراني هو موضوع أوروبي بالدرجة الأولى.

وترامب في سعيه هذا قد تخلّى عن أمور مهمة لطالما كانت تُعتبر من الثوابت الأمريكية في عهد الرئيس السابق بايدن، ومنها المطالبة بانسحاب القوات الروسية من كافة الأراضي الأوكرانية، كما تخلى عن ضم أوكرانيا إلى حلف الناتو، وهو بذلك قد أزال أهم عقبتين من أمام المفاوضات كانت روسيا لا تُساوم عليهما.

ولم يكتف ترامب بذلك بل طالب أوكرانيا بدفع ما عليها لأمريكا من ثرواتها النادرة، فقد صرّح في مقابلة مع شبكة فوكس نيوز أنّه طلب من أوكرانيا تقديم معادن نادرة بقيمة 500 مليار دولار كتعويض عن المساعدات المالية والعسكرية التي قدّمتها الولايات المتحدة لها.

فظهر ترامب بذلك وكأنّه مُنحاز بشكلٍ تام في موقفه من التفاوض إلى جانب روسيا على أوكرانيا وضد أوروبا التي تجاهلها تماماً، بل إنّه طالب الصين بالتدخل في المفاوضات لمساعدته في التوصل إلى اتفاق لوقف النار ولم يطالب الأوروبيين بذلك وهم أصحاب القضية الأصليون.

وما يؤكد على وجود علاقة أمريكية جديدة وقوية مع روسيا هو السماح لها بالتفاوض مع السودان على بناء قاعدة روسية على البحر الأحمر، والسماح على إبقاء قاعدتين لها في سوريا.

وبينما تسير العلاقات الأمريكية الروسية بانسجام ووئام تضطرب العلاقات الأمريكية مع أوروبا فيفرض ترامب على الأوروبيين ضرائب باهظة على صادراتهم من الصلب والألمنيوم بنسبة 25%.

تُرى هل انقلاب أمريكا هذا على أوروبا، يقابله تقاربها مع روسيا، يعني أنّ ترامب بات يرى في روسيا شريكا مفيدا لأمريكا أكثر من الأوروبيين الذين هم الشريك التاريخي التقليدي لها؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد الخطواني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست