تركيا تقوم بإجراء "إصلاحات" عندما يطلب الاتحاد الأوروبي ذلك  بينما تطلق سراح المدانين فوراً عند طلب أمريكا
تركيا تقوم بإجراء "إصلاحات" عندما يطلب الاتحاد الأوروبي ذلك  بينما تطلق سراح المدانين فوراً عند طلب أمريكا

الخبر: أعلن أردوغان وثيقة استراتيجية الإصلاح القضائي. وتتضمن الوثيقة التي تتكون من 9 مواد و63 هدفاً و256 نشاطاً، مواضيع مثل تعيين القضاة والمدعين العامين، وفترة التعليم لمدة 5 سنوات في كليات الحقوق، وجواز السفر الأخضر للمحامين، وتدابير الاحتجاز الوقائي، وتوسيع نطاق المعلومات وحقوق الوصول إلى الوثائق. وقال خلال العرض الذي قدمه: "أحد أكبر مكاسب عملية الانضمام إلى الاتحاد الأوروبي كانت القدرة على تنفيذ جهود الإصلاح بشكل منهجي. نحن ننفذ الإصلاحات ليس لأن الاتحاد الأوروبي طلب ذلك، ولكن لأن أمتنا بحاجة إليها. من خلال وثيقة الإصلاح هذه، على الرغم من عدم الوفاء بالوعود الممنوحة لنا، فإننا نعرب عن التزامنا بعملية العضوية الكاملة في الاتحاد الأوروبي. لقد أعددنا وثيقة استراتيجية إصلاح العدالة في إطار تعزيز استقلالية ونزاهة العدالة وتخفيف الولاية القضائية".

0:00 0:00
Speed:
June 07, 2019

تركيا تقوم بإجراء "إصلاحات" عندما يطلب الاتحاد الأوروبي ذلك بينما تطلق سراح المدانين فوراً عند طلب أمريكا

تركيا تقوم بإجراء "إصلاحات" عندما يطلب الاتحاد الأوروبي ذلك

بينما تطلق سراح المدانين فوراً عند طلب أمريكا

(مترجم)

 

الخبر:

أعلن أردوغان وثيقة استراتيجية الإصلاح القضائي. وتتضمن الوثيقة التي تتكون من 9 مواد و63 هدفاً و256 نشاطاً، مواضيع مثل تعيين القضاة والمدعين العامين، وفترة التعليم لمدة 5 سنوات في كليات الحقوق، وجواز السفر الأخضر للمحامين، وتدابير الاحتجاز الوقائي، وتوسيع نطاق المعلومات وحقوق الوصول إلى الوثائق. وقال خلال العرض الذي قدمه: "أحد أكبر مكاسب عملية الانضمام إلى الاتحاد الأوروبي كانت القدرة على تنفيذ جهود الإصلاح بشكل منهجي. نحن ننفذ الإصلاحات ليس لأن الاتحاد الأوروبي طلب ذلك، ولكن لأن أمتنا بحاجة إليها. من خلال وثيقة الإصلاح هذه، على الرغم من عدم الوفاء بالوعود الممنوحة لنا، فإننا نعرب عن التزامنا بعملية العضوية الكاملة في الاتحاد الأوروبي. لقد أعددنا وثيقة استراتيجية إصلاح العدالة في إطار تعزيز استقلالية ونزاهة العدالة وتخفيف الولاية القضائية".

التعليق:

بينما أعلن أردوغان وثيقة استراتيجية الإصلاح القضائي في تركيا يوم الخميس 30 أيار/مايو؛ فإنه في اليوم نفسه، وربما في الساعات نفسها، قامت المتحدثة باسم وزارة الخارجية الأمريكية، مورجان أورجتوس، في مؤتمر صحفي بالتأكيد على أن سركان جولج، وهو مواطن أمريكي، حُكم عليه بالسجن وسجن في تركيا بدعوى اتصاله مع منظمة غولن، قد أطلق سراحه. وفي اليوم نفسه مرة أخرى، أدلى الرئيس الأمريكي ترامب بالبيان التالي للصحفيين: "لقد تلقينا للتو أخباراً تفيد بأن تركيا أطلقت سراح سجين كنا نحاول الحصول عليه، وأطلقوا سراحه منذ فترة قصيرة إلى حجز منزلي وسيتم إطلاق سراحه وإرساله إلى الولايات المتحدة في وقت قريب جداً، أريد فقط أن أشكر الرئيس أردوغان. لقد تعاملنا مع هذا، وكان هو - كان ذلك رائعاً".

هذا هو النظام القضائي "المزعوم" في تركيا، حيث يسن إصلاحات قضائية بناءً على طلب الاتحاد الأوروبي، ويطلق سراح القس المحكوم عليه بالفعل أندرو برونسون وعامل وكالة الطيران والفضاء الأمريكية (ناسا) سركان جولج بناءً على طلب أمريكا، وينظف كل ملف قذر بناءً على طلب السياسيين.

تم الإعلان عن عشرات من حزم الإصلاح على مدار عشرات السنين من هذا النظام القضائي، والذي هو مجرد حقيبة ممزقة. لكن الاضطهاد القضائي للشعب المظلوم والمسلمين المتضررين لم يتوقف أبداً. شكلت حزم الإصلاح أملاً للأقوياء فقط، الذين هم من ذوي الخلفية السياسية والمافيا والعصابات بدعم من الأحزاب السياسية والمواطنين الأوروبيين والأمريكيين، وللمحامين الذين يشيدون بجواز السفر الأخضر. لم يتم تضمين الضحايا المسلمين وسجناء فترة 28 شباط/فبراير في برامج الإصلاح هذه، ولم تتضمن أيضاً الرجال الشجعان من أعضاء حزب التحرير، الذين سجنوا دون ذنب في السجون المحصنة. إن حزم الإصلاح هذه مستعدة لتلبية مطالب واحتياجات الاتحاد الأوروبي وأمريكا، كما قال أردوغان، وليس لتلبية احتياجات الأمة.

في سعيه السياسي البحت لكسب القيادة على إسطنبول، يطعم أردوغان العلمانيين والليبراليين والكماليين والقوميين وحتى الانفصاليين بمزايا وفوائد مالية من جهة، ومن ناحية أخرى يسعى إلى جذب الناس والرأي العام وعيون المجتمع الدولي من خلال هذا النوع من حزم الإصلاح. بالإضافة إلى ذلك، فإن الإفراج عن مواطنين أمريكيين بناءً على أوامر ترامب يجعل الدولار ينخفض، والذي يعمل على تحقيق الاستقرار الاقتصادي المصطنع، على الأقل حتى 23 حزيران/يونيو.

طالما هنالك مسلمون في السجون المحصنة، لمجرد دعوتهم إلى الحق وحملهم الدعوة الإسلامية ورفضهم العلمانية والديمقراطية ومطالبتهم بالخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فإن هذه الإصلاحات القضائية ليست إصلاحات قضائية بل هي إصلاحات سياسية بحتة. طالما يوجد 8000 من الآباء المحتجزين في السجون، لمجرد زواجهم قبل سن الـ18 وبالتالي وصفهم واعتقالهم على أنهم مغتصبون، فإن هذا الإصلاح لا يتم تطبيقه لأن الأمة بحاجة إليه، بل لأن الاتحاد الأوروبي يريد ذلك. ما دام هناك أعضاء من حزب التحرير في سجون تركيا ولا يزال طلبهم بمحاكمة جديدة مرفوضاً، على الرغم من تقارير مخابرات الشرطة التي تنص على أن حزب التحرير لم يلجأ أبداً إلى العنف بل يرفض العنف والإرهاب؛ علاوة على ذلك، حتى تقرر المحكمة الدستورية التركية أن حزب التحرير ليس منظمة إرهابية؛ فليس هنالك شيء في هذا الإصلاح يمكن أن يكون قضائياً أو عادلاً.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست