تركيا والرهان الخاسر
تركيا والرهان الخاسر

الخبر:   سيطرت أنباء الانقلاب الفاشل في تركيا على وسائل الإعلام العالمية وركزت بعيد الانقلاب على اعتقال وتوقيف ما يزيد على 50 ألفا من المؤسسات العسكرية والقضائية والتعليمية.

0:00 0:00
Speed:
July 24, 2016

تركيا والرهان الخاسر

تركيا والرهان الخاسر

الخبر:

سيطرت أنباء الانقلاب الفاشل في تركيا على وسائل الإعلام العالمية وركزت بعيد الانقلاب على اعتقال وتوقيف ما يزيد على 50 ألفا من المؤسسات العسكرية والقضائية والتعليمية.

التعليق:

منذ أن تم إحباط محاولة الانقلاب في تركيا، شرعت حكومة أردوغان في تركيا بعمليات اعتقال وتوقيف واسعة حتى إنه خلال ساعات فقط من الإعلان عن سيطرة الحكومة على الانقلاب تم الإعلان عن اعتقال 3000 من المؤسسة العسكرية و2700 من القضاة. وإزاء ذلك انبرى قادة وسياسيون وإعلاميون من أوروبا وأمريكا لتحذير أردوغان من إجراء عمليات تطهير في المؤسسة العسكرية تشمل خصومه السياسيين والعسكريين، وجاء على لسان كيري أن "استمرار تركيا باستغلال الانقلاب في عمليات قمع المعارضين قد يكلف تركيا عضويتها في الناتو"، كما قالت ميركل بأن "عودة تركيا لعقوبة الإعدام فيما يتعلق بالانقلابيين سيحول بين تركيا والاتحاد الأوروبي".

بغض النظر عن محاولة الانقلاب ودوافعها وأسباب فشلها والتي عجت بها وسائل الإعلام، أود أن ألقي الضوء هنا على أهمية الوسط السياسي الذي يتغلغل في تركيا بشكل خاص ثم في أي دولة بشكل عام. إن الأصل في الوسط السياسي أن يكون بمنأى عن المؤسسة العسكرية، كما أن المؤسسة العسكرية يجب أن لا تكون جزءا من الوسط السياسي. فالوسط السياسي هو المنوط به إدارة وتوجيه الدفة السياسية للدولة وتحديد مسارها في الداخل والخارج. إلا أن الوضع في تركيا مختلف. فالمؤسسة العسكرية منذ قيامها مطلع القرن الماضي وهي التي تفرض النمط السياسي في تركيا وتضمن استمرار علمانية الكماليين والصد عن سبيل الله وعن عودة الإسلام إلى تركيا. بل إن المؤسسة العسكرية بقيت وباستمرار حامية للنفوذ الإنجليزي في تركيا، حتى إذا جاءت الانتخابات بأي طرف لا يدين لبريطانيا بالعمالة والولاء، تدخل العسكر مباشرة لإقصائه عن الحكم. وقد حصل ذلك أربع مرات خلال الخمسين سنة الماضية وتحديدا سنة 1960 وسنة 1971 وسنة 1980 وسنة 1997 وآخرها 15 تموز 2016 والذي باء بالفشل. وفي كل مرة يعلن الانقلابيون أن هدفهم الإبقاء على تركيا ضمن المسار الذي حدده انقلاب مصطفى كمال الذي أطاح فيه بنظام الخلافة.

ولا شك أن العسكر في تركيا يساندهم جيش من أدعياء العلمانية ومريديها وعملاء الغرب والمضبوعين بثقافة وحضارة الغرب، وأعداء الإسلام السياسي. فكل هؤلاء يشكلون وسطا قويا يجعل من أي حركة بأي اتجاه مغاير تكاد تكون مستحيلة.

أما أردوغان فقد وصل إلى الحكم بدعم وتأييد من طرفين مهمين لا ينتميان بشكل قوي إلى الوسط السياسي ومنه العسكري في تركيا. فعلى الصعيد الخارجي ارتبط أردوغان وحزبه بأمريكا لتأمين دعم أمريكا له ولحكمه على الصعيد الدولي. ولعل ما ورد على لسان حليفه السابق أربكان في لقائه مع أحمد منصور في برنامج بلا حدود يؤيد ذلك. حيث قال إن أردوغان تحالف مع الأمريكان ليحصل على دعمهم في حكم تركيا. أما الطرف الثاني الذي اعتمد عليه أردوغان فهو المشاعر الإسلامية لدى الشعب التركي والتي تمكن من الوصول إليها من خلال حركة فتح الله غولن ذات الأصول الصوفية والتي تقيم علاقات وطيدة مع أمريكا.

وقد أدرك أردوغان منذ وصوله إلى الحكم أن الوسط السياسي والعسكري القائم في تركيا سيكون حجر عثرة أمام مشاريعه وحتى استمراره بالحكم. وقد حاول أردوغان تقليص أثر المؤسسة العسكرية في المجلس الأمني التركي. ولكنه لم يتمكن من تحييد المؤسسة العسكرية بالكامل. ولعل عملية إسقاط الطائرة الروسية بأوامر مباشرة من العسكر والتي أحرجت أردوغان أمام روسيا وأمريكا على حد سواء تظهر حجم التناقض بين الطرفين.

وبالتالي فإن أردوغان لم يكن ليدع فرصة مثل محاولة الانقلاب ليقوم بعمليات تطهير واسعة للوسط السياسي والعسكري. وقد ورد على لسان أردوغان قوله "كانت محاولة الانقلاب الفاشلة هبة من الله". وقد شبه بعض السياسيين محاولة الانقلاب الفاشلة بأحداث 11/9/2001 في أمريكا التي استغلتها أمريكا لتحقيق أهداف استراتيجية. ولعل سرعة تحرك أردوغان في تطهير الوسط السياسي والعسكري قد جعل بعض المحللين يظنون أن محاولة الانقلاب مدبرة ومرتبة سلفا.

أما الغرب فقد استفزته عمليات التطهير هذه لأنها نالت من مراكز القوى التي طالما استخدمت نفوذها للتأثير على حكومة أردوغان وضبطها. أما أمريكا فإنها تعلم أن العسكر موالون للإنجليز وأنهم ليسوا على نهجها، ولكنها تعلم أيضا أن وجودهم القوي في تركيا يجعل استسلام أردوغان لأمريكا أشد وارتماءه في أحضانها أعمق. فهي تريد تقليص أثر العسكر على أردوغان ولكنها لا تريد إزالته بالكامل. كذلك فإن أمريكا ومن خلال جماعة فتح الله غولن تبقي أردوغان تحت الضغط المباشر، فهي تخشى من ضرب هذه الجماعة أن تفقد أداة من أدوات التأثير على أردوغان. أما بريطانيا فإن مدخلها الرئيسي إلى تركيا هو العسكر، وهي تعلم أن الضمان الوحيد لعدم عودة الخلافة التي قضت على وجودها في تركيا هي المؤسسة العسكرية التي بنيت على كراهية الإسلام وحب العلمانية الكمالية الكافرة. وكذلك فرنسا وألمانيا تخشيان من زوال الوسط السياسي تحديدا والموالي للغرب أن يؤدي إلى إيجاد فراغ سياسي وفكري قد يملؤه وسط سياسي وفكري جديد يتبنى أفكارا وتوجهات إسلامية. ولعل خطاب مدير مخابرات تركيا الذي تحدث عن ولادة جديدة لمحمد الفاتح ولقلب الدين أرسلان ولو بعد أكثر من 30 سنة فيه ما يخيف.

والحاصل أن الوسط السياسي ومنه العسكري له أشد الأثر على سير الدولة وتحقيق غاياتها الاستراتيجية والتكتيكية. فدولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة حين قيامها بإذن الله يجب أن تحرص أشد الحرص على أن لا يكون في الدولة أي وسط سياسي مخالف أو مناقض للدولة سواء من حيث ما يتبناه من أفكار أو ما يحمله من ولاءات. والأهم من كل ذلك أن لا يكون لمؤسسة الجيش أي تأثير مباشر أو غير مباشر على الوسط السياسي وعلى إدارة شؤون الدولة. فالمؤسسة العسكرية يجب أن تبنى على قاعدة واحدة فقط وهي الجهاد وحمل رسالة الإسلام للعالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد ملكاوي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست