تصاعد ارتفاع الأسعار وبدء فرض الضرائب في السعودية
تصاعد ارتفاع الأسعار وبدء فرض الضرائب في السعودية

السعودية والإمارات تطبقان ضريبة "القيمة المضافة".. وارتفاع أسعار الوقود بالمملكة (سي إن إن عربية 2018/1/1)

0:00 0:00
Speed:
January 18, 2018

تصاعد ارتفاع الأسعار وبدء فرض الضرائب في السعودية

تصاعد ارتفاع الأسعار وبدء فرض الضرائب في السعودية

الخبر:                                               

السعودية والإمارات تطبقان ضريبة "القيمة المضافة".. وارتفاع أسعار الوقود بالمملكة (سي إن إن عربية 2018/1/1)

التعليق:

كما هو الحال المعروف في النظام الرأسمالي فإن ارتفاع الأسعار وفرض ضرائب على الناس هو ديدن هذا النظام في مختلف البلدان التي تطبقه، وكذلك هو الحال للأسف في ظل حكم سلمان وابنه اللذين راحا يطبقان الرأسمالية ويفتحان الأبواب لها على مصاريعها لتتحكم في رقاب العباد والبلاد، وهما في ذلك لم يكونا الأوائل إنما كانوا الأجرأ من بين سابقيهم من آل سعود عبر العقود الماضية.

خلال الثلاث سنوات الماضية ومنذ تولي سلمان زمام الحكم في السعودية بدأت آثار الرأسمالية البشعة تطال الناس ولقمة عيشهم وجميع نواحي معاشهم حتى أصبحت الدولة بمثابة العلقة التي تمتص عرق الناس ودماءهم فتحولت من دولة تغدق على الناس لكي تسكتهم إلى دولة جباية تسترد ما أنفقته عليهم فتقتر عليهم وتأخذ ما في جيوبهم، فعلى مستوى الضرائب والرسوم الحكومية فقد تضاعفت بعض الرسوم بما يزيد عن عشرة أضعاف، كرسوم التأشيرات للزيارة ورسوم التأشيرة للحج أو العمرة بالإضافة إلى استحداث ضرائب جديدة كضرائب الأراضي البيضاء وضريبة القيمة المضافة 5% ورسوم المقيمين والمرافقين ورسوم العمالة الوافدة، أيضا باشرت الحكومة وعلى طريقة الرأسماليين في رفع الدعم عن مشتقات النفط والطاقة فتضاعفت أسعار المحروقات قرابة 200% وأسعار الكهرباء بما يتجاوز 350% وأسعار الماء بما يقارب 100%، كل ذلك وأكثر والحكومة ما زالت تقول إننا في بداية الطريق وأن الحال سوف يستمر على هذا المنوال من الارتفاعات حتى عام التوازن المالي 2023م بحسب خطتهم، مما يعني أن الارتفاعات الحالية في الأسعار والضرائب ما هي إلا الجزء الأول من الخطة وأن المضاعفات القادمة سوف تكون مثل السابقة وأكثر من الجباية.

في هذه الأجواء المحتقنة ومع بداية عام 2018 وبداية الدفعة الجديدة من الضرائب يطل علينا علماء السلطان وخطباؤهم ليقرعوا رؤوس الناس بخطبهم الرنانة والتي تحمل الناس على الصبر والانتظار بل ويقوم بعضهم بتحميل الناس مسؤولية الغلاء بسبب ذنوبهم ومعاصيهم ليساهموا بذلك مع الحكومة في جريمتها فيصرفوا أنظار الناس عن الحكومة بل يصل الحال في أوقحهم قولا لأن يلمع صفحة الحكومة ويتفاخر في إنجازاتها ويبرر لها الحرام ويحلل لها الضرائب والمكوس والتي قال فيها الرسول صلى الله عليه وسلم: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ» وتصل فيه الجرأة والوقاحة بأن يستغبي القائلين بحرمة الضرائب وأن "الضرائب مقابل خدمات الدولة جائزة.. ليست مُكُوساً ولا حراماً" بحسب ما ذكر المطلق، وكأن الدولة صارت من غير دخل بل وكأن آل سعود لم ينهبوا ثروات البلاد والعباد منذ زمن الآباء والأجداد!!

إن الرأي الشرعي للضرائب الجائزة شرعا أنها التي تفرض في حالة خلو بيت مال المسلمين من المال اللازم لسد النفقات الواجبة على الدولة كنفقات الجهاد والإنفاق على الفقراء وفي حالات الكوارث والنكبات وغيرها، حيث ينتقل هذا الوجوب على المقتدرين من المسلمين، فيفرض عليهم من بعد سد حاجاتهم الأساسية من مأكل وملبس ومسكن وحاجاتهم الكمالية بالمعروف (أي على الأغنياء)، لقول النبي صلى الله عليه وسلم «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى»، أما الواقع الموجود في مملكة آل سعود هو أنها سياسات عفنة متراكمة من الجهل والسرقة وسوء التوزيع جاء بها عهد سلمان عميل أمريكا، وأخذ يغدق الأموال لربيبته أمريكا ليثبّت كرسيه وكرسي ابنه من بعده في الملك فأصبحت الأموال في أيدي أعداء الأمة فصاروا يأخذونها من أيادي الناس ليعطوا أسيادهم ويشبعوا رغباتهم الدنيوية الرخيصة فأين وجه الحلال في ذلك يا أيها العلماء؟!

إن الزيادة في الأسعار وغلاء المعيشة هو الأساس الطبيعي الذي تصل إليه السياسة الرأسمالية وهي نفسها التي يسير عليها سلمان وابنه في بلاد الحرمين كما أن الخداع الذي يمارسه سلمان وابنه في سياسات بدلات الغلاء و"حساب المواطن" هو جزء مفضوح ومعروف في النظام الرأسمالي وهو ليس بالخفي على سكان بلاد الحرمين بل إنهم واعون لكل تلك السياسات وصاروا يميزون بين الخبيث والطيب.

إن وسائل التواصل الإلكتروني والتواصل المباشر مع الناس في بلاد الحرمين يظهر بما لا يدع مجالاً للشك بأن الناس جميعا في بلاد الحرمين غير راضين عن كل تلك السياسات الحمقاء كما أن الجميع أصابه منها الضرر الكبير، كما أن كثيراً من الناس في بلاد الحرمين باتوا يصرحون علانية بهذا الأمر ويسألون مستنكرين مع كل قرار عن مصير المليارات التي يتحكم فيها آل سعود بل إنهم تجاوزوا بذلك كل الخطوط الحمراء التي خوفهم منها سلمان وابنه، فصاروا يسمون الأمور بمسمياتها تصريحا لا تلميحا ويوجهون البوصلة شيئا فشيئا نحو البحث عن الحل الصحيح حتى وإن كان بعيداً وكأنهم بذلك أصبحوا يتحررون من عبودية حاكمهم الظالم ليبحثوا عن بديل عادل.

إن كل تلك السياسات الحمقاء لن تزيد الناس إلا حقداً على حكامهم وهي جميعها بمثابة الجمر الراكد تحت الرماد والذي راح ينفث حرارته هنا وهناك وصار كالنار التي يغلي منها وعاء آل سعود وكل الحكام الظالمين في مختلف بلاد المسلمين بل وحتى في مختلف بلاد العالم التي تعاني من ويلات الرأسمالية العفنة، فهل من هؤلاء الحكام من معتبر؟!

إن الحل الأوحد الصحيح لجميع هذه المشاكل الاقتصادية والسياسية لا يكون إلا بالعودة إلى نظام الإسلام وهو المنهج الرباني، في ظل دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والتي سوف تعالج جميع مشاكل الإنسان وتضمن النجاة في الدنيا والآخرة، وهذا الحل لن يكون إلا بعد إزالة هؤلاء الحكام من على كراسيهم وتنصيب خليفة تقي يحكم المسلمين جميعا ويقيم الإسلام فيهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست