تسليط الضوء على التافهين وإظهارهم بمظهر القدوة من خصائص نظام آل سعود!
تسليط الضوء على التافهين وإظهارهم بمظهر القدوة من خصائص نظام آل سعود!

  ﺍﻟﺨﺒﺮ: التقط إمام الحرم المكي السابق، عادل الكلباني، صورتين مع النجم الأرجنتيني ليونيل ميسي واللاعب المغربي المتألق أشرف حكيمي، الجمعة، ودار حديث بينه وبين الثاني حول أداء العمرة. ونشر الكلباني الصورتين ومقطع الفيديو عبر صفحته الموثقة على تويتر وعلق عليه بالقول: "مع ميسي وأشرف حكيمي". وظهر إمام الحرم المكي السابق مع ميسي وهما يبتسمان وكذلك الحال مع حكيمي، وذلك في إطار إقامة مباراة موسم الرياض بين فريق نجوم الهلال والنصر وباريس سان جيرمان الفرنسي. (سي إن إن، 2023/01/20).

0:00 0:00
Speed:
January 26, 2023

تسليط الضوء على التافهين وإظهارهم بمظهر القدوة من خصائص نظام آل سعود!

تسليط الضوء على التافهين وإظهارهم بمظهر القدوة من خصائص نظام آل سعود!

ﺍﻟﺨﺒﺮ:

التقط إمام الحرم المكي السابق، عادل الكلباني، صورتين مع النجم الأرجنتيني ليونيل ميسي واللاعب المغربي المتألق أشرف حكيمي، الجمعة، ودار حديث بينه وبين الثاني حول أداء العمرة. ونشر الكلباني الصورتين ومقطع الفيديو عبر صفحته الموثقة على تويتر وعلق عليه بالقول: "مع ميسي وأشرف حكيمي". وظهر إمام الحرم المكي السابق مع ميسي وهما يبتسمان وكذلك الحال مع حكيمي، وذلك في إطار إقامة مباراة موسم الرياض بين فريق نجوم الهلال والنصر وباريس سان جيرمان الفرنسي. (سي إن إن، 2023/01/20).

ﺍﻟﺘﻌﻠﻴﻖ:

لم يكن اختيار مثل عادل الكلباني إماما سابقا للحرم المكي أمرا عبثيا. حيث إن الأئمة في بلاد نجد والحجاز يتم اختيارهم بعناية من حكام آل سعود. وإدراك حكام آل سعود لمكانة الحرمين الشريفين عند المسلمين قاطبة في الدنيا تجعلهم يعتنون باختيار أئمة الحرمين المكي والمدني بشكل أكبر من باقي المساجد. إلا أن هذه العناية في اختيار الأئمة للأسف ليست نابعة من حرصهم على التقيد بأحكام الشرع ولا حتى بمعايير تقيم بها استقامة الأئمة الفكرية والسلوكية. بل وكأنهم يحرصون على أن يتبوأ هذه المسؤوليات من هم من "فئة الظلاميين التي تأبى أن تعيش في النور، لأنها ألفت الحياة في الظلام وتعودت التفاهة والسطحية، وأصيبت بمرض الكسل الجسمي والكسل العقلي وجمدت على القديم الذي وجدت عليه آباءها لمجرد كونه قديماً، ولذلك فهي واقعية حقيقة، لأنها من جنس الواقع وهي جامدة فكرا" بحسب ما جاء في كتاب التكتل الحزبي لحزب التحرير.

ومنذ اغتصاب آل سعود للحكم قبل أكثر من مئتي عام في بلاد الحرمين فقد تدنى مستوى الخطاب الشرعي في المساجد والحياة العامة. ويتبين هذا بوضوح في خطب صلاة الجمعة حيث يقرن الخطباء المصنوعون على عين نظام آل سعود طاعة الله بطاعتهم في افتتاحية ونهاية كل خطبة. ومن يزور بلاد الحرمين ولم يتعاهد القرآن كثيرا في حياته يظن من تلك الخطب أن طاعة حكام آل سعود من الشهادتين أي من صلب العقيدة الإسلامية، بل ربما يظن أن ابن سلمان هو محمد الذي نقر له بالشهادة في كل صلاة وكل آذان، وهو ﷺ بريء منه كل البراءة. وكذلك أمراء آل سعود من قبل، فقد رعت بريطانيا أجداد ابن سلمان الأمريكي على عينها وأوعزت إليهم تبني نظامها للحكم أي النظام الملكي، عدا عن تسليحها لهم ولغيرهم من الأسر الخائنة من أجل تقسيم البلاد الإسلامية إلى مملكات وحظائر وظيفية للغرب.

وبمثل هذه الأنظمة ظهر تباين عظيم ما بين الحق والقوة، بدل أن تكون القوة دائما مع صاحب الحق مهما كان شأنه. نعم في زمن محاولة تغيير الموازين، يعود بنا المشهد إلى مقولة أبي بكر رضي الله عنه في خطبة توليه الخلافة حيث قال: "الضعيف فيكم قوي عندي حتى أريح عليه حقه إن شاء الله، والقوى فيكم ضعيف حتى آخذ الحق منه إن شاء الله". نعم في هذه الأنظمة لم يعد للقرآن دور في الحياة العامة غير القراءة والتجويد للأسف، وأكبر مثال يدل على ذلك هو ما يقوم به هذا الكلباني من اللهث وراء رجل ساقط مثل ليونيل ميسي لالتقاط صورة معه! إن كرة القدم لا تعدو كونها لعبة للرياضة وتحريك البدن إلا أن أنظمة بني علمان اتخذت منها مادة لزرع العنصريات الوطنية والعصبيات المنهي عنها، إضافة إلى تغطية الحياة الشخصية للاعبين المنحطين فكرا وخلقا وسلوكا. فكيف بإمام مزعوم يشد الرحال ليحتفي بصورة تذكارية مع رجل ساقط، ومن ثم يتركه آل سعود يسرح ويمرح وتتم تغطية ما يقوم به إعلاميا بينما يأمرون بسجن غيره لأتفه الأسباب؟! لا يمكن تفسير هذه الظاهرة إلا بأن هذا ما يريده ابن سلمان ومن هم على شاكلته من نشر الفسق والفجور في بلاد الحرمين واصطناع قدوات بديلة من الكفار للأجيال الصاعدة، وإيهام المسلمين في العالم كذلك بأن ما يقوم به جنود ابن سلمان أيضا يمثل إرادة أهل جزيرة العرب. إلا أن الحقيقة ليست كذلك؛ فإن أهل جزيرة العرب لم ولن يتخلوا عن الإسلام فكرا ونظاما طالما يوجد بينهم كتاب الله وسنة رسوله محمد ﷺ، مهما أظهر إعلام نظام آل سعود ما قد يوحي بخلاف ذلك.

وما مثل الكلباني وأمثاله ومعهم حكام آل سعود إلا مثل سحابة صيف تظهر ثم سرعان ما تتلاشى، وذلك بعد أن تكتمل عملية استئناف الحياة الإسلامية بالانقياد للنبي ﷺ انقيادا كاملا في جميع شؤون الحياة، حينها تزيل أمة الإسلام الخبث المتمسك بأكتافها ومن جملتها الأنظمة الملكية الآيلة للسقوط وتستبدل بها نظام الخلافة حيث الحق مع صاحب الحق وليس مع الخليفة.

قال الله تعالى: ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ إِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ * أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ﴾ [الأنعام: 89-90].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نزار جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست