تصنيف باكستان من بين الدول الأدنى في مستوى الجوع الشديد بسبب إهمال الدولة (مترجم)
تصنيف باكستان من بين الدول الأدنى في مستوى الجوع الشديد بسبب إهمال الدولة (مترجم)

الخبر: نشر مؤشر الجوع العالمي مؤخرا تقريرا إحصائيا وضع باكستان في الترتيب 107 من بين 118 دولة نامية. وكشف التقييم، الذي يقيس نجاح مختلف البلدان في القضاء على الجوع، أن باكستان متخلفة عن معظم جيرانها في جنوب آسيا. (الفجر)

0:00 0:00
Speed:
October 27, 2016

تصنيف باكستان من بين الدول الأدنى في مستوى الجوع الشديد بسبب إهمال الدولة (مترجم)

تصنيف باكستان من بين الدول الأدنى في مستوى الجوع الشديد

بسبب إهمال الدولة

(مترجم)

الخبر:

نشر مؤشر الجوع العالمي مؤخرا تقريرا إحصائيا وضع باكستان في الترتيب 107 من بين 118 دولة نامية. وكشف التقييم، الذي يقيس نجاح مختلف البلدان في القضاء على الجوع، أن باكستان متخلفة عن معظم جيرانها في جنوب آسيا. (الفجر)

إن حجم هذه الإحصاءات المهينة يبعث على القلق. حيث إن ما يقرب من ربع سكان البلد الذي أنعم الله عليه بأفضل الموارد يعانون من سوء التغذية. هذا هو البلد الزراعي، الذي ينخرط فيه أكثر من 50٪ من السكان في مستوى ما من الزراعة. ليس فقط أن هذه الأرض قادرة على إنتاج أفضل المحاصيل، وإنما فيها عقول وهيئات ممتازة على استعداد للأداء والإنتاج. ويشير التقرير إلى أنه في المعدل الحالي من التراجع، ستصل باكستان بحلول عام 2030 من المستويات المتوسطة إلى الخطيرة من الجوع.

التعليق:

يعتمد اقتصاد باكستان إلى حد كبير على الزراعة. فهي ليست مجرد القطاع الأكثر مساهمة في الناتج المحلي الإجمالي ولكنه يوفر أيضا الوظائف لعدد كبير من الأفراد. فما هو سبب هذه الأرقام المثيرة للقلق؟ الإهمال من جانب السلطات هو السبب في المقام الأول. ونحن جميعا نعرف قصة سيدنا يوسف عليه السلام وكيف أنه أنقذ مصر من المجاعة التي حلت بها لمدة سبع سنوات. إن استراتيجياته وولاءه لرعيته وثقته التامة في الله سبحانه وتعالى هي التي أنقذت الأمة من هذه الكارثة. وهنا نرى أرضاً غنية بكل شيء، ولكن إهمال الحكام سبب بقاء سكانها جياعا.

إن باكستان بلد زراعي يحتوي على نظام واسع للري والمياه التي تلعب دور شريان الحياة للزراعة. حيث يبلغ معدل هطول الأمطار سنويا 255 ملم، ولكن في كثير من الأحيان تتحول هذه النعمة إلى دمار بسبب عدم اتخاذ تدابير وقائية لمنع الفيضانات. كما لا يتم مراقبة منشآت الري مما يسبب مشاكل خطيرة في القطاع الزراعي. عامل مهم في هذا هو ملكية الأراضي والائتمان الزراعي للنظام الرأسمالي، مما يعني أن المحاصيل تزرع لدفع الفائدة على القروض، وليس بقصد إطعام الناس، وإنما كمحاصيل نقدية. إن النظام الإقطاعي لملكية الأراضي يأخذ المبادرة بعيدا عن المزارع الفعلي.

للأسف نحن نعيش في بلد أصبح شعار الذين يصلون إلى السلطة فيه هو "الخبز والملبس والمأوى". وهذا يثبت أن قادتنا يدركون تماما ما يحتاجه الناس، لكنهم لا يرونها احتياجات وإنما كنقاط ضعف يمكن استغلالها للبقاء في السلطة وكسب مصالحهم الذاتية. وحيث إن الملاك والإقطاعيين لا يزرعون أراضيهم بأنفسهم، وفي الواقع فإن أكثرهم لا يعيشون حتى بالقرب منها مفضلين الحياة الحضرية، فإن المستأجرين لا يكون لديهم حافز للعمل الشاق لذلك يبقى الإنتاج منخفضا في القطاع الزراعي. معظم الناس في الحكومة ذوي خلفيات إقطاعية أو يرتبطون ارتباطا وثيقا بها. ومهما كانت الأساليب الزراعية التي يستخدمونها قديمة فإنها أكثر من كافية بالنسبة لهم لأنهم لا يفكرون أو يخططون في الإنتاج لتغذية الجماهير، ولكن فقط لملء جيوبهم.

إن البنية التحتية الريفية مثل الطرق، ومرافق التخزين والنقل والكهرباء والتعليم ومرافق الصرف الصحي والصحة، ليست كافية لتلبية متطلبات نمو الزراعة. فإجمالي طول الطريق من المزرعة إلى السوق ليست طويلة فحسب، بل حالتها سيئة أيضا.

العديد من القرى ليس لديها طرق معبدة على الإطلاق. أما الكهرباء فهي غير متوفرة لسكان المناطق الريفية.

ما نحتاج إليه هو قيادة تقية تتفهم احتياجات شعبها والتي تخشى الله سبحانه وتعالى في تصريف شؤون الدولة، ونظام إسلامي يخطط وفقا لاحتياجات الناس، حيث يعتبر تحسين أحوال الرعية من تحسين أحوال الدولة. إذا تم توزيع جميع الأراضي الجرداء في باكستان بين الناس الذين على استعداد لزراعتها وفقا لأحكام الإسلام، ويتم توفير المساعدة والتدريب وتعطى لهم الحوافز والمكافآت، فهل يمكن لشخص أن ينام جائعا في أرض مثل هذه؟ ولنأخذ على سبيل المثال سيدنا عمر رضي الله عنه عندما استرجع جزءاً من أرض من بلال بن الحارث المزني كان قد استقطعه له من قبل النبي r لأنه عجز عن إحياء الأرض كلها. لقد طلب عمر منه إعادة الجزء الذي لا يستطيع إعماره وقسمه بين المسلمين. وبالإضافة إلى ذلك، في ظل النظام الإسلامي الحقيقي لدولة الخلافة، فإن الشخص الذي يملك أرضا يعجز عن استخدامها لمدة ثلاث سنوات، تقوم الدولة بأخذها منه وتمنحها لشخص قادر على إحيائها.

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ r قَالَ: «لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ بَيْتٌ يَسْكُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ» سنن الترمذي.

كل هذه الحقوق قد منحها الله سبحانه وتعالى للأفراد. لذلك تصبح مسؤولية من يفهم حاجات الآخرين القيام بواجباتهم والعمل من أجل إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي وحدها ستطبق جميع أحكام الإسلام، وبالتالي ستضمن لهذه الأمة حقوقها المستحقة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست