تصريحات أردوغان بشأن النزاهة الإقليمية لسوريا تعني تدوير نظام الأسد المجرم
تصريحات أردوغان بشأن النزاهة الإقليمية لسوريا تعني تدوير نظام الأسد المجرم

الخبر:   قال وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو، "هذه العمليات لها أهمية فيما يتعلق بوحدة أراضي سوريا والعراق. فلو لم نفعل ذلك، لما تم تطهير داعش ولا وحدات حماية الشعب وحزب العمال الكردستاني. لا يمكننا أن نبقى مكتوفي الأيدي ضد الهجمات". (وكالات الأخبار)

0:00 0:00
Speed:
August 16, 2022

تصريحات أردوغان بشأن النزاهة الإقليمية لسوريا تعني تدوير نظام الأسد المجرم

تصريحات أردوغان بشأن النزاهة الإقليمية لسوريا

تعني تدوير نظام الأسد المجرم

(مترجم)

الخبر:

قال وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو، "هذه العمليات لها أهمية فيما يتعلق بوحدة أراضي سوريا والعراق. فلو لم نفعل ذلك، لما تم تطهير داعش ولا وحدات حماية الشعب وحزب العمال الكردستاني. لا يمكننا أن نبقى مكتوفي الأيدي ضد الهجمات". (وكالات الأخبار)

التعليق:

قال أردوغان، في بيان عقب الاجتماع الأخير لمجلس الوزراء، "إننا نبدأ في اتخاذ خطوات جديدة قريباً فيما يتعلق بالأجزاء المفقودة من العمل، وقد بدأنا في إنشاء مناطق آمنة بعمق 30 كيلومتراً على طول حدودنا الجنوبية. المناطق التي هي مركز الهجمات المتكررة والمضايقات والفخاخ على بلدنا والمناطق الآمنة على رأس أولوياتنا العملياتية. وبمجرد أن تكمل قواتنا المسلحة التركية والاستخبارات وقوات الأمن استعداداتها، ستبدأ هذه العمليات".

من ناحية أخرى، ألقى وزير الخارجية، جاويش أوغلو، جملة مهمة في برنامج تلفزيوني حضره، مذكرا بأنهم يتفاوضون مع إيران من أجل إخراج الإرهابيين من المنطقة:

"وسندعم أيضا العملية التي سينفذها النظام (دمشق). لكن على النظام ألا يعتبر المعارضة المعتدلة إرهابية...".

قبل أيام قليلة من تصريح الوزير مولود جاويش أوغلو، رداً على أسئلة الصحفيين على متن الطائرة عائدين إلى سوتشي، قال أردوغان إن بوتين أظهر للأسد خطاباً بشأن سوريا، قائلاً: "هنا يلمح إلينا بأنه سيكون أكثر دقة. إذا كنت تفضل طريقة حل هذه المشكلات مع النظام قدر المستطاع، فنحن نقول أيضاً إن منظمتنا الاستخباراتية تجري حالياً هذه القضايا بالفعل مع المخابرات السورية، لكن بيت القصيد هو الحصول على نتائج".

وتابع أردوغان: "إذا كانت مخابراتنا تجري هذا العمل مع المخابرات السورية، ورغم ذلك لا تزال هناك منظمات إرهابية متوفرة هناك، نقول إنك بحاجة إلى دعمنا في هذا الأمر. ولدينا اتفاق في هذا الشأن أيضاً".

الواقع أن لقاء مسؤولي المخابرات التركية والسورية ليس هو الأول. ففي كانون الثاني/يناير 2020، التقى رئيس المخابرات الوطنية التركية هاكان فيدان ورئيس المخابرات السورية علي مملوك في موسكو. ومع ذلك، افتتح حزب الاتحاد الديمقراطي، الذي يعتبره أردوغان منظمة إرهابية، مكتباً رسمياً في موسكو في عام 2016.

من المعروف أن أردوغان ناقش قضايا عملية عسكرية محتملة في سوريا أو شمال سوريا مع الرئيس الروسي بوتين خلال زيارته الأخيرة لسوتشي. ومعلوم أن إيران وروسيا لم تصادقا على هذه العملية العسكرية في قمة طهران المنعقدة بين تركيا وإيران وروسيا.

على الرغم من وجود عدد من الخلافات بين هذه الدول الثلاث حول حل الأزمة السورية، فإن الفاعل الرئيسي في سوريا هو الولايات المتحدة. تعمل هذه الدول الثلاث لصالح أمريكا في سوريا وتقود حرباً بالوكالة نيابة عنها. أمريكا تستخدم هذه الدول كرافعة لمصالحها السياسية من أجل تنفيذ القرارات التي اتخذت في مؤتمر جنيف لمجلس الأمن الدولي في عام 2012 وتحقيق حل سياسي دائم في سوريا.

جميع العمليات العسكرية التي نفذتها حكومة حزب العدالة والتنمية في سوريا حتى الآن بتعليمات وإذن من أمريكا هي عملية لحماية الأسد المجرم واستعادة الأراضي التي خسرها. بالإضافة إلى ذلك، فإن التصريحات المتعلقة بوحدة أراضي سوريا، والتي يعرب عنها أردوغان وسلطات الدولة الآن في كل فرصة، تعني القبول ضمنياً بنظام الأسد الوحشي الدموي، الذي يذبح المسلمين بوحشية منذ سنوات.

ومع ذلك، يريد أردوغان دخول الانتخابات الرئاسية المقبلة لعام 2023 بيد قوية. يُرى أن أردوغان وحزبه تكبدوا خسائر فادحة في الأصوات بسبب الأزمة الاقتصادية في تركيا. كما أكد ذلك عدد من استطلاعات الرأي العام التي أجريت. فانتخابات 2023 حاسمة بالنسبة لأردوغان. هذه الانتخابات مهمة للغاية ليس فقط له، ولكن أيضاً لأمريكا التي يعتمد عليها. فأمريكا لا تريد أن تخسر ما كسبته حتى الآن من خلال أردوغان. وسيكون من الصواب تقييم كل خطوة يتخذها أردوغان داخلياً وخارجياً في هذا الاتجاه.

من أجل تقوية يد أردوغان في الداخل والخارج وزيادة شعبيته، أعطت أمريكا تركيا دوراً في حل أزمة الحبوب بين روسيا وأوكرانيا، كما أرادت أمريكا تقوية يد أردوغان مرة أخرى من خلال تطبيع يهود مع دول مثل الإمارات ومصر ودول الخليج والسعودية، حيث شهدت الحكومة أزمات دبلوماسية لفترة. مرة أخرى، تريد أمريكا الآن من تركيا إجراء محادثات دبلوماسية مع سوريا لتطبيع العلاقات التركية السورية وحل الأزمة السورية في أقرب وقت ممكن.

من ناحية أخرى، أنشأ أردوغان تحالف الشعب مع حزب الحركة القومية بعد محاولة الانقلاب في 15 تموز/يوليو. لكن هذا التحالف مع القوميين الأتراك أغضب الناخبين الأكراد الذين صوتوا له في السابق وأدى إلى نفورهم. إن خطاب أردوغان المستمر عن عملية عسكرية وشيكة في سوريا هو بيان موجه للجمهور، وخاصة القوميين، لا يتجاوز مجرد الإعلام. وبالتالي، يواجه أردوغان مشكلة في إعادة ترسيخ جذوره والناخبين الوطنيين الذين ابتعدوا عنه بسبب الأزمة الاقتصادية، فهو بيان لمداعبة مشاعرهم.

نتيجة لذلك، مهما كانت مشكلة أردوغان، فهناك حقيقة معروفة وهي أنه خان مسلمي فلسطين وتركستان الشرقية وأراكان وسوريا. ولم يقتصر الأمر على إدارة ظهره للأمة من أجل تحقيق مصالح أمريكا ومصالحه الشخصية، بل على العكس من ذلك، فقد طعن الأمة من الخلف!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست