تصريحات خطيرة للإدارة السورية الجديدة حول السلام مع كيان يهود
تصريحات خطيرة للإدارة السورية الجديدة حول السلام مع كيان يهود

الخبر:   أدلى ماهر مروان الذي عينه رئيس الإدارة السورية محافظا لدمشق تصريحات خطيرة للإذاعة الأمريكية العامة نشرت يوم 2024/12/27 قال فيها: "نريد السلام، ولا نريد أن نكون أعداء لـ(إسرائيل)، أو لأي أحد آخر".

0:00 0:00
Speed:
December 29, 2024

تصريحات خطيرة للإدارة السورية الجديدة حول السلام مع كيان يهود

تصريحات خطيرة للإدارة السورية الجديدة حول السلام مع كيان يهود

الخبر:

أدلى ماهر مروان الذي عينه رئيس الإدارة السورية محافظا لدمشق تصريحات خطيرة للإذاعة الأمريكية العامة نشرت يوم 2024/12/27 قال فيها: "نريد السلام، ولا نريد أن نكون أعداء لـ(إسرائيل)، أو لأي أحد آخر".

التعليق:

إنها تصريحات جد خطيرة! حتى إنه برر للعدوان الذي شنه كيان يهود على سوريا واحتل أجزاء جديدة من أراضيها فقال: "من الممكن أن (إسرائيل) شعرت بالخوف ولهذا تقدمت قليلا وقصفت قليلا، إنه خوف طبيعي. ليس لدينا خوف تجاه (إسرائيل)، ومشكلتنا ليست مع (إسرائيل). ليس لدينا أي رغبة في التدخل في أمر من شأنه يهدد أمن (إسرائيل). يوجد أناس يريدون التعايش، يريدون السلام، لا يريدون النزاعات، نريد السلام، ولا نستطيع أن نكون أعداء لـ(إسرائيل) أو أعداء لأي أحد". أليست هذه خيانة ونذالة واستسلام؟! فأدركوا أنفسكم يا أهل الثورة، إنها تباع بثمن بخس بعدما قدمتم التضحيات الجسام!

وقالت الإذاعة "إنه دعا الولايات المتحدة إلى تسهيل علاقات أفضل مع (إسرائيل)". وبهذه الدعوة ألم يؤكد التبعية لأمريكا والتهالك على الصلح مع كيان يهود؟!

إن تصريحاته تتطابق مع تصريحات رئيسه الجولاني للتلفزيون السوري يوم 2024/12/14 حيث قال "إن الوضع في سوريا المنهكة بعد سنوات من الحرب والصراعات لا يسمح بالدخول في صراعات جديدة، وإن البناء والاستقرار على رأس الأولويات وعدم الانجرار إلى صراعات جديدة تؤدي إلى مزيد من الدمار". فهذه أقوال مثبطة واستسلامية، وتبريرات واهية لمن لا يريد تطبيق الإسلام وإعلان الجهاد ليحرر أرضه المحتلة وفلسطين، بل يريد أن يجعل الناس يركنون إلى الدنيا ليعيشوا أذلاء، يتمسكون بأذناب البقر، فيبنون ويتمتعون ويأكلون! ويتوهمون أنهم ناجون ويحققون ما يريدون، بل سيصيبهم صغار، وسيبقى سيف الاحتلال مسلطا عليهم ويبدأ في نخر كيانهم وتمزيق بلدهم.

هذه التصريحات لم يجرؤ عليها الطاغية الفار بشار أسد ولا أحد من أركان حكمه الساقط، فهي خوار وخيانة لا تقل عن خيانة المطبعين مع كيان يهود وخوارهم. هل كانت هذه من شروط أمريكا عليهم لتوافق على إسقاط عميلها بشار أسد وتأتي بهم عن طريق تركيا؟! إذ إن أمريكا لا ترضى عن أي نظام إلا إذا تعهد بالصلح مع كيان يهود أو تعهد بأن لا يحاربه، ويكتفي بالشكوى للأمم المتحدة، وبتصريحات فارغة، كالقول نحتفظ بحق الرد في الوقت المناسب، كما كان يفعل نظام بشار أسد.

وقالت الإذاعة "إنه لم يشر إلى الفلسطينيين أو الحرب في غزة". وقالت: "هناك تقارير في وسائل الإعلام (الإسرائيلية) تفيد بأن الولايات المتحدة حثت (إسرائيل) على التعامل مع هيئة تحرير الشام لكنها كانت مترددة". أفلم يعد يهم القادة الجدد بسوريا أمر إخوانهم في فلسطين وما يرتكبه كيان يهود من مجازر هناك؟! أيظنون أن الدور سوف لا يأتي على أهل سوريا إذا تحركوا ضد كيان يهود وأرادوا إخراجهم من أراضيهم؟!

فمثل ذلك قد حصل عندما استسلمت بغداد للمغول وفعلوا فيها الأفاعيل من قتل وتدمير وتخريب، وبعدها زحفوا نحو دمشق فخاف قادتها، وصالحوا المغول أهل الغدر، وظنوا أنهم ناجون، فغدر بهم المغول بعدما صالحوهم، ففعلوا بدمشق شبه ما فعلوه ببغداد. حتى إن هؤلاء القادة حاربوا إخوانهم الذين رفضوا الصلح مع المغول وأصروا على القتال بدعوى أنهم ينقضون العهد! وكأن المشهد يتكرر بأن يستسلم قادة دمشق الجدد ويبدؤوا بمحاربة من يرفض صلح المغول الجدد كيان يهود ويدعو لقتالهم! قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ‏﴾.

يبرر المبررون بأن أمريكا وكيان يهود وأوروبا ودول المنطقة التابعة لهم، لن يسمحوا بتطبيق الإسلام وإقامة الخلافة وسيهاجمونها ويقضون عليها، وأنه ليست لدى سوريا الإمكانيات للوقوف في وجه هذه الدول. فنسوا الله، ونسوا التوكل عليه ووعده بنصر من ينصره وتأييده لهم بالملائكة وبالمؤمنين.

فلسان حال هؤلاء أن الدعوة لتطبيق الإسلام عبث، ويجب الاستسلام والرضا بما تمليه دول الكفر عليهم! فكلما تنازلوا فإن الكفار سيطالبونهم بتنازلات جديدة، وهذا ملاحظ في كل مكان، حتى يطلبوا منهم في النهاية ترك دينهم! وهذه حقيقة تاريخية ماثلة، حصلت في الأندلس وفي غيرها؛ فكلما تنازل المسلمون طالبهم الكفار بتنازل آخر. وهي قبل كل شيء حقيقة قرآنية علّمنا إياها ربنا بقوله: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾، ﴿وَلاَ يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّىَ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُواْ﴾.

يجري التهويل من قدرات دول الكفر واستصغار قدرات المسلمين. وهذه الأقوال تؤدي إلى الإحباط واليأس والتثبيط للأمة ولأبنائها العاملين على نهضتها وتحريرها وإقامة خلافتها. إنها مغالطة كبيرة سواء صدرت عن حسن نية أو عن سوئها.

فمجموع الناس لا يتعبون، وإنما يعتادون أجواء الحرب، فيبنون ويحاربون، فالرسول ﷺ أقام الدولة ووضع الإسلام موضع التطبيق، فكلما تحدث حادثة يوحي الله له بحكمها، يبني في الداخل ويحارب في الخارج بالتوازي، وسار الخلفاء الراشدون على سنته، وواصل الخلفاء طوال عصورها تقريبا، يبنون في الداخل ويحاربون في الخارج، فاعتادت الأمة على هذه الأجواء، فأصبحت دولتها أعظم دولة في العالم تسعة قرون ودولة كبرى أربعة قرون.

إن مقاومة المسلمين في أفغانستان والعراق وتغلبهم على الكفار تكذّب تلك المغالطات. ففي أفغانستان حاربوا أمريكا وحلفاءها 20 عاما فهزموهم، فلو أعلنوا الخلافة وانطلقوا ليوحدوا بلاد الإسلام لينصرنهم الله. ولو أرادت هذه الدول محاربتهم، فالناس لديهم الاستعداد للحرب ولديهم المعنويات والأمل بالانتصار لأنهم انتصروا على قوى الشر أول مرة وسيهزمونهم بإذن الله إذا هاجموهم مرة أخرى. وفي سوريا حاربوا النظام الإجرامي والداعمين المباشرين له روسيا وإيران وحزبها اللبناني وأشياعها وتغلبوا عليهم بعد 14 عاما. وإذا أعلنوا الخلافة وتطبيق الإسلام فلينصرنهم الله كما نصرهم على هؤلاء المجرمين. وإن الناس على استعداد لقتال أمريكا وكيان يهود وغيرهم، ولو طالت الحرب 14 سنة أخرى. ولكن سيؤسسون صرحا عظيما، صرح الخلافة على منهاج النبوة، تعزهم في الدارين، وتستمر بإذن الله إلى قيام الساعة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست