تصويب الخطاب وتصحيح الأفكار والمفاهيم يقوم به المخلصون أما العملاء فاستئصالهم فريضة
تصويب الخطاب وتصحيح الأفكار والمفاهيم يقوم به المخلصون أما العملاء فاستئصالهم فريضة

الخبر: نقلت روسيا اليوم على موقعها الأربعاء 2021/9/15م، قول الرئيس المصري إن القناعة بتصويب الخطاب الديني تتحول إلى إرادة مستمرة، وأنه "لو عندك قناعة بموضوع ما هتتشكل إرادة من أجل معالجة هذا الموضوع"، وأضاف السيسي بمداخلة هاتفية عبر برنامج التاسعة المذاع على فضائية الأولى قائلا: "شوفوا شكل الدنيا في العالم عاملة إزاي..

0:00 0:00
Speed:
September 19, 2021

تصويب الخطاب وتصحيح الأفكار والمفاهيم يقوم به المخلصون أما العملاء فاستئصالهم فريضة

تصويب الخطاب وتصحيح الأفكار والمفاهيم يقوم به المخلصون
أما العملاء فاستئصالهم فريضة


الخبر:


نقلت روسيا اليوم على موقعها الأربعاء 2021/9/15م، قول الرئيس المصري إن القناعة بتصويب الخطاب الديني تتحول إلى إرادة مستمرة، وأنه "لو عندك قناعة بموضوع ما هتتشكل إرادة من أجل معالجة هذا الموضوع"، وأضاف السيسي بمداخلة هاتفية عبر برنامج التاسعة المذاع على فضائية الأولى قائلا: "شوفوا شكل الدنيا في العالم عاملة إزاي.. وده نتيجة استخدام نصوص معينة بطريقة معينة، لفت على العالم كله"، وتابع قائلا: "شوفوا كم الخراب اللي بيحصل في العالم.. وعدد القتلى!"، مشيرا إلى أن هذه الأسباب كافية لإعادة بناء فهم وتفكير كل مواطن، وأوضح الرئيس السيسي أن تصويب الخطاب الديني هو عبارة عن عملية ديناميكية ومستمرة وليست مؤقتة، وهذا يرجع إلى تطور الإنسانية في عالمنا، مشيرا إلى شكل الحياة أيام النبي محمد عليه الصلاة والسلام، وشكلها في الوقت الحالي، وأردف متسائلا: "هل إحنا كمسئولين محتاجين إننا نفهم ونفكر وندرس ما نحن فيه ونغيره، ولا إحنا ما زلنا مصرين على موقفنا ومش هنغير حاجة!"، وأضاف: "ممكن نخطئ في مسألة وننجح في مسألة تانية.. لا بأس.. إحنا خايفين من إيه.. ده الناس بتعمل حاجات غريبة في الدنيا وربنا شايف ومطلع علينا وساكت.. صابر علينا.. عشان عارف إن إحنا بشر وضعاف".


التعليق:


لا زال الرئيس المصري يعلن للعالم ويسوق نفسه للغرب كرأس حربة في صراعه مع الإسلام ولا زال يصر على تنفيذ ما يملى عليه من سياسات يظن هو وسادته من خلالها أنهم يهدمون الإسلام من جذوره بها ويحتكرون خطابه ويتحكمون في طريقة فهمه وفهم أحكامه، ويجففون أي منابعَ لفهم الإسلام بطريقة لا يرضى عنها الغرب، لا زال الرئيس المصري يعمل في الإطار نفسه؛ تجديد وتصويب الخطاب الديني على حد زعمه! ومحاولة تدجين الإسلام وفهمه بالشكل الذي لا يؤرق الغرب ولا يعترض على رأسماليته التي تحكم بلاد الإسلام، مستغلا جهل الناس بالإسلام وأحكامه لعقود خلت حمل فيها المسلمون الكثير من أفكار الغرب التي اختلطت على الناس، فهل يحتاج الناس حقا لتصويب الخطاب؟! وما الذي يحتاجه الناس ومن يمكنه القيام به على الوجه الصحيح وكيف؟


قبل ما يقارب المئة عام أسقط الغرب دولة الخلافة الإسلامية، سبقها عمل حثيث لهدم وتغييب أفكار الإسلام وفصل المسلمين عنها وخلطها بأفكار الغرب حتى كانت النتيجة إعلان هدم الخلافة، وبعدها كان استمرار العمل لمنع إقامتها من جديد بمحاولة هدم كل فكرة من الإسلام يمكن أن توجدها من جديد، ولا زال العمل مستمرا خاصة بعد تململ الأمة وثورتها على الرأسمالية.


لا شك أن هناك الكثير من المفاهيم المغلوطة التي تحتاج لتصحيح وكثيراً من الأفكار الخبيثة التي تحتاج للهدم، لكنها قطعا ليست أفكار الإسلام ولا مفاهيمه بل ما علق بالإسلام وعقيدته من أفكار الغرب ومفاهيمه التي يروج لها الرئيس المصري ويدعونا لفهم الإسلام على أساسها وفي ضوئها، فالإسلام الذي نزل على رسول الله ﷺ نزل كاملا تاما؛ فيه ما يصلح حال الناس ويعالج كل مشكلاتهم إلى قيام الساعة، علاجا صحيحا يوافق فطرتهم، وقد حكم الإسلام وعدل وعالج حقا مشكلات الناس ونهض بهم من جاهلية وانحطاط حتى صارت دولته هي الأولى في العالم بقوة أفكارها وعدلها ورحمتها بالناس ومنهم غير المسلمين الذين استظلوا بظلها ونعموا بعدلها.


لا يستطيع العملاء تصحيح مفاهيم الناس ولا تصويب خطابهم ففاقد الشيء لا يعطيه! فهم أنفسهم يحتاجون لعمل لتصحيح أفكارهم أو إزالة خبثهم وأذاهم الذي ملأ البلاد وطال كل العباد، نعم فتصحيح أي مسار لا يكون بعود أعوج بل يحتاج استقامة ولا يأتمّ الناس بكاذب غاش وإلا أضلهم، فالأصل هو استئصال هؤلاء العملاء لا أن يكونوا هم القائمين على تصويب الخطاب الديني للناس وتصحيح مفاهيمهم كما يدعون!


إن استئصال العملاء واجب يقع على أبناء الأمة المخلصين في الجيوش وعلى رأسهم جيش الكنانة أحفاد الناصر صلاح الدين والمظفر قطز، أحفاد المجاهدين العظام الذين انتصروا لهذا الدين وكانوا درعا لدولته أمام أجداد الرأسماليين الذين اجتاحوا الإسلام وهدموا دولته ولا زالوا يطوقون الأمة بطوق التبعية حتى الآن ولن تنجو الأمة إلا باحتضان المخلصين في الجيوش لأفكار الإسلام واقتلاع هؤلاء الحكام العملاء وكلاء الغرب وإقامة دولة الإسلام الخلافة الراشدة على أنقاض عروشهم، فمن للإسلام غيرهم ومن ينصره سواهم؟!


إن ما يحتاجه الناس حقا هو تصحيح طريقة تفكيرهم لتصبح على أساس الإسلام وعقيدته وحينها لن يتسلط عليهم العملاء ولن يحتاجوا لعيون أخرى لقراءة النصوص ولن تكون معضلتهم فهم ما نقله التابعون بل سيكون همهم الاجتهاد واستنباط أحكام شرعية لما يستجد من أحداث، إلا أن هذا لا يمكن للعملاء القيام به بل لا يقوم به إلا المخلصون والعلماء الربانيون الذين لا يقتاتون من خبز الحكام العملاء ولا يخشون في الله لومة لائم، قال ﷺ: «يا كعبَ بنَ عُجْرَةَ أعيذُك باللَّهِ من إمارةِ السُّفَهاءِ قال وما ذاكَ يا رسولَ اللَّهِ قال أمراءٌ سيَكونونَ من بعدي من دخلَ عليهم فصدَّقَهم بحديثِهم وأعانَهم على ظلمِهم فليسوا منِّي ولستُ منهم ولم يرِدوا عليَّ الحوضَ ومن لم يدخل عليهم ولم يصدِّقهم بحديثِهم ولم يعِنهم على ظلمِهم فأولئِك منِّي وأنا منهم وأولئِك يرِدونَ عليَّ الحوضَ» إلا أن تصحيح أفكار الناس بعمومهم وإيجاد الوعي لديهم بما يمكنهم من فهم الإسلام فهما صحيحا يقيهم خبث الغرب وتلونه، غيرُ ممكن في ظل تلك الأنظمة العميلة التي تحكم بلادنا وتمنع ظهور أي صوت يعمل على تصحيح مفاهيم الإسلام وهدم أفكار الغرب التي علقت بها فالأمة تحتاج حتما لهدم هذه الأنظمة التي تتبنى سياسات الغرب، وإقامة دولة الإسلام التي تتبنى أفكاره ومفاهيمه وتستأنف بالناس حياتهم الإسلامية من جديد في دولة خلافة راشدة على منهاج النبوة ترعى دين الناس ودنياهم، نسأل الله أن تكون قريبة وأن نكون من جنودها وشهودها وأن تكون مصر حاضرتها.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست