تطرف وعجز السياسىة الأمریكیة
تطرف وعجز السياسىة الأمریكیة

الخبر: نشرت صحیفة واشنطن بوست مقالاً في 12 شباط/فبرایر بعنوان: "یمكنك أن تشعر به الآن": "الدیمقراطیون الجدد یدفعون الحزب، والمرشحین لعام 2020 إلى الیسار في قضایا خلافیة". تركز القصة على التحول إلى الیسار في السیاسة الدیمقراطیة استعداداً لحملة الانتخابات الرئاسیة الأمریكیة لعام 2020. "جیل جدید من الدیمقراطیین یستخدم أفكاراً سیاسیة بعیدة المدى ووجوداً محیراً في وسائل الإعلام الإلكترونية لتقویة الحزب".

0:00 0:00
Speed:
February 17, 2019

تطرف وعجز السياسىة الأمریكیة

تطرف وعجز السياسة الأمریكیة

(مترجم)

الخبر:

نشرت صحیفة واشنطن بوست مقالاً في 12 شباط/فبرایر بعنوان: "یمكنك أن تشعر به الآن": "الدیمقراطیون الجدد یدفعون الحزب، والمرشحین لعام 2020 إلى الیسار في قضایا خلافیة". تركز القصة على التحول إلى الیسار في السیاسة الدیمقراطیة استعداداً لحملة الانتخابات الرئاسیة الأمریكیة لعام 2020. "جیل جدید من الدیمقراطیین یستخدم أفكاراً سیاسیة بعیدة المدى ووجوداً محیراً في وسائل الإعلام الإلكترونية لتقویة الحزب".

التعلیق:

لا ینبغي إغفال أهمیة هذه الحركة داخل الحزب الدیمقراطي وقدرته على إحداث تغییر جذري في السیاسة الأمریكیة، مثل حركة حزب الشاي المحافظة وصعود الیمین البدیل الذي جلب ترامب إلى السلطة. أولاً، ومع ذلك، فإنه یستحق الإشارة إلى أن تغطیة مقترح الصفقة الخضراء الجدیدة قد خُفضت من البدایة من خلال لغة سیاسات الدائرة الانتخابیة. وتشیر صحیفة واشنطن بوست إلى أن "التحول اللیبرالي، والمشرعین الذین یقودونه، یخلقون أیضاً تحدیات للدیمقراطیین في مناطق أكثر تحفظاً"، الأمر الذي یشكل معضلة بالنسبة إلى رئیس مجلس النواب الدیمقراطي الجدید "الذي یحاول إدارة مجموعة من الأصوات الصریحة". في حین إن الأعضاء اللیبرالیین الجدد یظلون متناغمین مع احتیاجات المعتدلین الذین ینحدرون من المناطق المتأرجحة التي یمكن أن تكون أساسیة للدیمقراطیین الذین یحتفظون بالأغلبیة في مجلس النواب في عام2020. تقاریر جیدة على وجه الیقین، وتقتبس بوست بأن سلسلة من الدیمقراطیین یخشون أن أي تغییر في دوائرهم الانتخابیة إلى الیسار سیجعل الأمر أكثر صعوبة بالنسبة لهم.

تقدیم الدعم هذا إلى الدوائر المحلیة ما یعیق الدیمقراطیات من تنفیذ أي تغییر جذري. في الواقع، تفتخر الأنظمة الدیمقراطیة بنقل السلطة بین الهیئات الدستوریة بطریقة تجعل ممارسة السلطة صعبة. وبالتالي، في أمريكا، على الرغم من بناء جدار حدودي ضخم مع المكسیك كونه وعداً مركزیاً لترامب للناخبین الذین صوتوا له في السلطة، فهو غیر قادر على الوفاء بوعده، والآن یوقع على اتفاق تسویة لبناء جدار صغیر على جزء صغیر من الحدود من أجل فتح الحكومة بعد أطول إغلاق في التاریخ. كان هذا الانشقاق بین الرئیس والكونغرس، الذي ینقسم إلى قسمین: مجلس النواب ومجلس الشیوخ، حیث یتمتع الدیمقراطیون الآن بالأغلبیة في مجلس النواب، في حین إن الجمهوریین یتمتعون بالأغلبیة في مجلس الشیوخ. ربما یكون أفضل مكان الآن لرؤیة شلل هذا النظام المتضارب بالتصمیم هو بريطانيا، التي تتسابق نحو الموعد النهائي لتاریخ بریكست في نهایة الشهر المقبل دون أن یعرف أحد ما الذي سیحدث في أخطر تغییر في العلاقات الخارجیة بین عشیة وضحاها لعدة قرون، وكل ذلك الوقت تؤثر العولمة والترابط على كل جانب من جوانب حیاة المواطنین على أساس یومي كما لم یحدث من قبل! أصبح بریكست سیاسة الحكومة بفضل مقامرة رئیس الوزراء السابق دیفید كامیرون الانتخابیة بأن إجراء استفتاء شعبي سیحصل على أصوات دون عواقب، حیث یمكن لبریطانیا استخدام مخاطرة الانسحاب للحصول على صفقة أفضل من الاتحاد الأوروبي دون خوف من أن یصوت الرأي العام البریطاني على الرحیل. كم كان مخطئأ!

الآن في أمريكا لدینا تحول جدید أكثر إلى الیسار في الحزب الدیمقراطي، وهو رد فعل على السیاسات الرادیكالیة في الیمین. إذا كانت أمريكا تبدو منقسمة إلى حد كبیر وغیر قادرة على تقدیم الكثیر مما وعدت به في حملة ترامب، فكم ستكون الحكومة الأمریكیة أكثر انقساما وشللا إذا ما حقق الدیمقراطیون نصرا انتخابیا في عام 2020 كقوة رادیكالیة تتراجع عن أجندة ترامب؟

في جمیع الحالات، تم تصمیم النظام بحیث لا یمكن أن یحدث شيء مدهش للغایة، وأیاً ما ستفعله إدارة ما ستبطله الإدارة القادمة، كما هو الحال مع أوباما كیر والشراكة العابرة للمحيط الهادئ. إن الطریق أمام "الصفقة الخضراء الجدیدة"، التي تهدف إلى القضاء على الوقود الأحفوري في غضون عشر سنوات، وتوفیر الرعایة الصحیة الشاملة مع فرض ضرائب أعلى على الملیارديرات، لن یكون سهلاً. سیكون لدى الدیمقراطیین، كما الجمهوريین، دائماً على الأقل ما تریده دوائرهم الانتخابیة وسوف یصوتون ضد أحزابهم عندما تتعرض مقاعدهم للتهدید. ما سیفعله التحول المقترح إلى الیسار هو بالتأكید الاستفادة من الورید الموازي للاستیاء الذي كان ترامب ناجحاً معه. ربما، یمكن لأمريكا أن یكون لها شعار "دعونا نجعل أمريكا عظیمة مرة أخرى" - فقط من خلال نقاط حوار جدیدة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحریر

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست