تُجرى الانتخابات وتتغيّرُ الحكومات، ولا تتغير سياسة الخضوع لصندوق النقد الدولي!
تُجرى الانتخابات وتتغيّرُ الحكومات، ولا تتغير سياسة الخضوع لصندوق النقد الدولي!

الخبر:   قال توفيق الراجحي الوزير المكلف بالإصلاحات لدى رئيس الحكومة، إن بعثة من صندوق النقد الدولي ستشرع في زيارة إلى تونس بداية من يوم الثلاثاء 8 تشرين الأول/أكتوبر وحتى يوم 12 من هذا الشهر، لمواصلة الاطلاع على مدى تقدم تنفيذ برنامج الإصلاح الاقتصادي المتفق بشأنه بين الطرفين ضماناً لتأمين تمويل ميزانية الدولة لسنة 2020. وتنتظر تونس الحصول على القسط السادس من القرض بقيمة مقدرة بنحو 450 مليون دولار بعد أن حصلت على خمسة أقساط بقيمة إجمالية بلغت 1.8 مليار دولار من القرض المتفق بشأنه والمقدر بـ2.9 مليار دولار. ...

0:00 0:00
Speed:
October 08, 2019

تُجرى الانتخابات وتتغيّرُ الحكومات، ولا تتغير سياسة الخضوع لصندوق النقد الدولي!

تُجرى الانتخابات وتتغيّرُ الحكومات، ولا تتغير سياسة الخضوع لصندوق النقد الدولي!

الخبر:

قال توفيق الراجحي الوزير المكلف بالإصلاحات لدى رئيس الحكومة، إن بعثة من صندوق النقد الدولي ستشرع في زيارة إلى تونس بداية من يوم الثلاثاء 8 تشرين الأول/أكتوبر وحتى يوم 12 من هذا الشهر، لمواصلة الاطلاع على مدى تقدم تنفيذ برنامج الإصلاح الاقتصادي المتفق بشأنه بين الطرفين ضماناً لتأمين تمويل ميزانية الدولة لسنة 2020.

وتنتظر تونس الحصول على القسط السادس من القرض بقيمة مقدرة بنحو 450 مليون دولار بعد أن حصلت على خمسة أقساط بقيمة إجمالية بلغت 1.8 مليار دولار من القرض المتفق بشأنه والمقدر بـ2.9 مليار دولار.

وتسعى وزارة المالية التونسية من خلال ميزانية الدولة للسنة المقبلة إلى مواجهة مجموعة من التحديات من بينها التحكم في عجز الميزانية، وضبط نفقات التصرف بزيادة لا تتجاوز 5 في المائة والأخذ بعين الاعتبار خدمة الدين بما يقارب 12 مليار دينار تونسي (نحو 4 مليارات دولار)، والعمل على تطوير الموارد الجبائية بنسبة لا تقل عن 10 في المائة.

واعتبر الراجحي أن السلطات التونسية مقدمة على مراجعة سادسة للحصول على قسط من أقساط القرض المالي الموجه إلى تونس في ظل هذه التحديات، مشيراً إلى ضرورة إعداد مشروع قانون المالية لسنة 2020 وإيداعه بمجلس نواب الشعب (البرلمان التونسي) في أجل أقصاه يوم 15 تشرين الأول/أكتوبر الحالي.

وأكد أن المراجعة السادسة قد تتضمن إمضاءات من وزير المالية ومحافظ البنك المركزي كالتزامات.

ولفت الراجحي الانتباه إلى أن "الإصلاحات المالية" المرتبطة بتقليل العجز في الميزانية والمديونية، تستوجب نمواً اقتصادياً أفضل والترفيع من مداخيل الدولة عبر توسيع قاعدة الجباية ومقاومة المتهربين من الضرائب وإصلاح منظومة الدعم والتحكم في كتلة الأجور وجعلها أقل من 12 في المائة من الناتج الإجمالي المحلي، وهي نقاط محل نقاشات متتالية مع صندوق النقد الدولي التي يعتبرها من بين الشروط الأساسية لمواصلة التعاون المالي بين الطرفين. (الشرق الأوسط)

التعليق:

إن فرض السياسة الاقتصادية الرأسمالية والمساهمة المباشرة في إعداد وصياغة مشاريع قوانين الميزانية عبر تدخل سافر ومباشر من بعثات صندوق النقد الدولي، لهو ضحك على ذقون الناخبين والمنتخَبين على حد سواء، حيث يواصل الاستعمار إيهام أهل تونس بأن الانتخابات الديمقراطية هي طريق التغيير والإصلاح السياسي والاقتصادي في الوقت الذي يفرض فيه شروطه القاسية عبر أذرعه الاقتصادية، بل في الوقت الذي ستجد فيه الحكومة القادمة نفسها غارقة في الديون فضلا عن كونها ستكون بالضرورة الحارس الأمين لقرارات وتوصيات هذا الصندوق وراعية لحسن تنفيذها، أي أنها ستكون أداة عملية لصناعة الفقر عبر رفع الأسعار والتحكم في كتلة الأجور، فهل سينفع بعدها التصفيق لوصول بعض الملتحين إلى قبة البرلمان؟!

إن الحكومة المترنحة في تونس، ترى أن مثل هذه القروض تساهم في معافاة الوضع وإنعاش الاقتصاد، مع أن الاقتصاد لا يعالج بالاقتراض من هذه المنظمة الدولية أو تلك، وإنما بتنفيذ مشروع مبدئي نابع من عقيدة الأمة ومنبثق من كتاب ربها وسنة رسولها r، لا من نظريات المبدأ الرأسمالي ونهج الكافر المستعمر في الحياة. علاوة على ذلك فقد أصبح معروفاً عند القاصي والداني أن صندوق النقد الدولي وكذلك البنك الدولي هما مؤسستان استعماريتان للدول الكبرى للتدخل في شئون دول العالم بإغراقها في دوامة الديون وفرض التبعية الاقتصادية عليهم، فقد ازداد الفقر وتضاعفت المشاكل حيثما حلا، وبلدنا هذا هو خير شاهد على ذلك بعد تعاملات دامت عقوداً مع هاتين المؤسستين، ولقد حدا هذا الواقع ببعض المراقبين الدوليين النزيهين للمطالبة بإلغائهما، أو وضع قيود للحد من تدخلاتهما في الشئون الداخلية والخارجية للبلاد، فإن أمريكا والدول الأوروبية تتخذ منهما أدوات قوية لتحقيق أهدافها السياسية.

إن الاقتراض من هذه المنظمات التي تعمل بالنظام الرأسمالي الربوي يجرُّ البلاد إلى مزيد من الفقر والتابعية والارتهان، والشواهد على ذلك في كل بقاع العالم أكثر من أن تُحصى، علاوة على استجلاب سخط رب العالمين لأنه تعامل بالربا الذي حرمه الشرع، يقول تعالى: ﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ﴾ ويقول: ﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾، وجاء في صحيح مسلم عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ r آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ». فما بال الحكومة تسير على نفس نهج سابقتها والنظام البائد في سياستها الاقتصادية؟ بل ما بالها تفرض على الحكومة القادمة تكرار الأخطاء الفادحة نفسها؟

إن اقتصاد تونس لم ولن يتعافى بالحرام، ولن ينهض بمخالفة شريعة الله الغراء وطريق الهدي المستقيم، قال تعالى: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً﴾ ومن يفعل ذلك فكأنما يتجرع الداء ليتداوى! ويترك البلاد فريسة لمزيد من النهب من الدول الكبرى ومؤسساتها. وحتى تنهض البلاد اقتصادياً النهضة الصحيحة يجب المسارعة في تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي كاملاً في إطار تطبيق المنظومة الإسلامية الكاملة دون اجتزاء أجزاء منها، فإن أحكام الإسلام متداخلة مترابطة، وهي كلّ لا يتجزأ، فلا يمكن ولا يجوز فصلها وتجزئتها بحال من الأحوال، ولن تؤدي إلى النهضة إلا بتطبيقها كاملةً في إطار دولة إسلامية هي دولة الخلافة، هذا ما فرضه علينا رب العالمين، وهذا ما يدعو إليه حزب التحرير.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست