تونس والجزائر: ألم يئن الأوان لخروج قطار الخلافة؟
تونس والجزائر: ألم يئن الأوان لخروج قطار الخلافة؟

الخبر: أكد توفيق بوفايد، المدير العام للشركة الوطنية للسكك الحديدية التونسية، يوم الجمعة 07/06/2024، على نجاح الرحلة التجريبية بين تونس والجزائر، بعد توقف دام لمدة 28 عاما (منذ 1996). وأوضح بوفايد خلال اتصال هاتفي لبرنامج "صباح الورد" على إذاعة جوهرة أف أم التونسية، أن "السفرة انطلقت بقطار جزائري من مدينة عنابة، ودامت 8 ساعات". وأضاف أنه سيتم اتخاذ قرار الانطلاق الفعلي في غضون الأسابيع القادمة، مشيرا إلى أن "برنامج السفرات سيكون بمعدل سفرة ذهابا وأخرى إيابا يوميا، بقطار جزائري مبدئيا، وستقتصر على عنابة ثم كامل الجزائر". (روسيا اليوم نقلا عن جوهرة أف أم)

0:00 0:00
Speed:
June 08, 2024

تونس والجزائر: ألم يئن الأوان لخروج قطار الخلافة؟

تونس والجزائر: ألم يئن الأوان لخروج قطار الخلافة؟

الخبر:

أكد توفيق بوفايد، المدير العام للشركة الوطنية للسكك الحديدية التونسية، يوم الجمعة 07/06/2024، على نجاح الرحلة التجريبية بين تونس والجزائر، بعد توقف دام لمدة 28 عاما (منذ 1996). وأوضح بوفايد خلال اتصال هاتفي لبرنامج "صباح الورد" على إذاعة جوهرة أف أم التونسية، أن "السفرة انطلقت بقطار جزائري من مدينة عنابة، ودامت 8 ساعات". وأضاف أنه سيتم اتخاذ قرار الانطلاق الفعلي في غضون الأسابيع القادمة، مشيرا إلى أن "برنامج السفرات سيكون بمعدل سفرة ذهابا وأخرى إيابا يوميا، بقطار جزائري مبدئيا، وستقتصر على عنابة ثم كامل الجزائر". (روسيا اليوم نقلا عن جوهرة أف أم)

التعليق:

فيما أثير مؤخرا موضوع الالتجاء إلى المعسكر الشرقي كبديل للغرب ومؤسساته المانحة، بشكل يضع الناس أمام خيارين لا ثالث لهما: إما الشرق وإما الغرب (مع أنهما شركاء في قتل المسلمين واضطهادهم)، فإن الحاضر الأليم والتاريخ المشرق والمصير المشترك لما كان يعرف سابقا بإفريقية، تعتبر جميعها - فضلا عن إمكانية الاستثمار في "عبقرية" التموقع الجغرافي - حقائق ناطقة أمام العقلاء بضرورة الوحدة كحاجة سياسية مُلحّة وخيار استراتيجي أمثل لمواجهة التحديات التي تتربص بالمنطقة وتهدد أمنها القومي.

بل إن رابطة العقيدة الإسلامية كافية إذا امتزجت طاقتها بطاقة اللغة العربية في ظل حكم رشيد لتجعل من وحدة تونس والجزائر قوة إقليمية ضاربة، يُحسب لها ألف حساب على مستوى المآلات الاستراتيجية لصراع الحضارات، خاصة بعد تعري الوجه القبيح للحضارة الغربية المتقهقرة خلال أحداث غزة. وإلا ستظل المنطقة مكشوفة الظهر لأعدائها، تكتوي بنيران الشرق والغرب، لأن من يستبدل روسيا والصين بأمريكا وأوروبا هو كالمستجير من الرمضاء بالنار.

ألا وقد نطقت الأدلة الشرعية بوجوب الوحدة على أساس الإسلام واعتبر الفقه الإسلامي -بمذاهبه الأربعة - الخلافة تاج الفرائض، ولم يشذ عن ذلك من فقهاء الأمة وعلمائها إلا الأصم (كما أشار القرطبي وابن خلدون والشيخ الخضر حسين)، فإن العمل على إعادة الشعوب إلى حاضنتها الطبيعية وتفعيل هذه الوحدة الإسلامية والطاقة الكامنة فيها ضمن المشروع الحضاري للأمة هو من أوجب الواجبات، وهو فريضة الساعة، إذ به فقط تتحقق الريادة والسيادة، وبه يُقتلع نفوذ الاستعمار والجشع الرأسمالي من بلادنا أيّا كان مأتاه، وضمنه أيضا تُفعّل طاقات المسلمين وكفاءاتهم بشكل يُغني عن الشرق والغرب على حد سواء، في دولة يرضى عنها ساكن الأرض وساكن السماء.

ثم إن العلامة ابن خلدون رحمه الله حين ألف مقدمة كتابه "العبر وديوان المبتدأ والخبر" التي سالت فيها شآبيب الكلام والمعاني على الفكر حتى امتخضت زبدتها وتألفت نتائجها، ومنها الحديث عن وجوب الخلافة وشروطها، كان يعيش في مغارة بالجزائر كما ثبت تاريخيا، وهو لم يكتب ذلك ليُصنعَ له صنمٌ أو ليتباهى البعض بكتاباته في المناسبات الرسمية والمحافل الدولية إصرارا على (تَوْنَسَةِ) الكاتب والمكتوب وعلى احتكار الانتماء والهُويّة بنعرة عصبيّة وضمن قراءة قُطريّة وَطنيّة صاغها المستعمر الذي رسم حدود البلدان بدماء أبنائها تكريسا للفرقة بينهم، وإنما لتكون مرجعا يعود إليه المسلمون حين تشتد الخطوب وتتنوع الكروب ويستفحل الظلم المؤذن بخراب العمران، فيستلهمون منه حلا لواقعهم حين تسقط دولتهم الجامعة، دولة الخلافة.

ولذلك حريّ بأنصار الحلول الوطنية في زمن التكتلات والتحالفات الصهيو-صليبية والحرب المعلنة على الإسلام والمسلمين، وقد عجز حكامهم عن مجاراة والي الجزائر في الدولة العثمانية (بكر حسن) الذي أرغم أمريكا على دفع الجزية سنة 1795م من أجل السماح بمرور سفنها من البحر الأبيض المتوسط، أن يرتقوا إلى مستوى تفكير العامل الذي عيّنه الحجاج بن يوسف على ولاية خراسان المهلب بن أبي صفرة، حيث كانت وصيته لأبنائه السبعة قبل وفاته رحمه الله مقولته الشهيرة:

كونوا جميعا يا بنيّ إذا اعترى *** خطبٌ، ولا تتفرّقوا آحادا

تأبى الرّماح إذا اجتمعن تكسّراً *** وإذا افترقن تكسّرت أفرادا

إن خروج قطار الخلافة الراشدة الثانية هو وعد رباني وبشرى من نبيه الكريم، صلوات ربي وسلامه عليه، وهو إنجاز حتمي ينتظر من ينال شرف تحقيقه بإذن الله وعونه، بعد أن توقف قطار الخلافة لمدة مائة عام أو يزيد. وإن المشاركة في هذا الإنجاز أفضل من التصفيق على صانعيه لاحقا. وما على القادة المخلصين والدعاة الصادقين والأئمة الربانيين إلا أن يلتحقوا بركب العاملين لاستئناف الحياة الإسلامية وأن يُكرّسوا كل جهودهم في هذا الاتجاه بأقصى طاقة وأقصى سرعة، متوكلين على ربهم، فيعلنوها مدوية: لا شرقية ولا غربية، بل خلافة إسلامية، توحد الأمة وتطرد الاستعمار وتعيد الدار إلى أهل الدار.

فالخلافة الراشدة هي البضاعة والصناعة وهي الإنجاز الحضاري الحقيقي وهي عنوان العمران البشري الذي يعقب الملك الجبري بإذن الله.

قال تعالى: ﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست