توقعات زيلينسكي من الغرب وخيبة أمله!
توقعات زيلينسكي من الغرب وخيبة أمله!

الخبر:   اتهم الرئيس الأوكراني فولوديمير زيلينسكي، في خطابه في قمة الناتو عبر رابط فيديو، روسيا باستخدام قنابل الفوسفور صباح اليوم. وقال لقادة الناتو: "مرة أخرى، كان الأطفال يموتون، والناس يموتون". ولم يقدم زيلينسكي أي دليل على الهجوم المزعوم ولم يصرح بمكان وقوع الهجوم. قال زيلينسكي إنه بما أن أوكرانيا تفتقر إلى دفاع قوي مضاد للطائرات، فقد سعت للحصول على دعم جوي منذ البداية "للمساعدة في حماية أجوائنا". ...

0:00 0:00
Speed:
March 26, 2022

توقعات زيلينسكي من الغرب وخيبة أمله!

توقعات زيلينسكي من الغرب وخيبة أمله!

الخبر:

اتهم الرئيس الأوكراني فولوديمير زيلينسكي، في خطابه في قمة الناتو عبر رابط فيديو، روسيا باستخدام قنابل الفوسفور صباح اليوم. وقال لقادة الناتو: "مرة أخرى، كان الأطفال يموتون، والناس يموتون". ولم يقدم زيلينسكي أي دليل على الهجوم المزعوم ولم يصرح بمكان وقوع الهجوم. قال زيلينسكي إنه بما أن أوكرانيا تفتقر إلى دفاع قوي مضاد للطائرات، فقد سعت للحصول على دعم جوي منذ البداية "للمساعدة في حماية أجوائنا". وذكر أن روسيا تستخدم أسلحة الدمار الشامل والنتائج واضحة للعيان. وقال إن روسيا تستخدم ترسانتها بالكامل بلا حدود، وقال: "إنها تستهدف المستوطنات والمستشفيات والجسور". وصرح الزعيم الأوكراني أيضاً أنه حتى الآن، لم تستلم أوكرانيا طائرة واحدة من الناتو. وذكر أيضاً أنه أجرى نداءً للدبابات: "أعطها لنا، بعها لنا" على حد قوله لكنه لم يتلق بعد رداً واضحاً من أعضاء الناتو. وقال زيلينسكي "نريد فقط البقاء على قيد الحياة وإنقاذ شعبنا"، مضيفاً أنه لا يلوم الناتو. (جريدة حريات، 2022/03/24م)

التعليق:

على الرغم من مرور شهر على الغزو الروسي لأوكرانيا، لا يبدو أن الحرب ستتوقف. أمريكا، التي جرّت روسيا بالفعل إلى المستنقع الأوكراني وتريدها أن تظل معزولة، لا تؤيد إنهاء الحرب مبكراً. لأنه كلما علقت روسيا في المستنقع ونبذتها جميع دول العالم، وخاصة الدول الأوروبية، كانت تخدم أهداف أمريكا. ومع ذلك، وعلى الرغم من أن هذا ما تتوقعه أمريكا، لا يبدو أن روسيا تستسلم بسهولة. لأنه في المفاوضات بين الوفدين الروسي والأوكراني لإعلان وقف إطلاق النار والسلام في البلاد ضد الهجمات الروسية على أوكرانيا صرح نائب الرئيس الروسي فلاديمير ميدينسكي الذي ترأس الوفد الروسي أنه عقدت محادثات بين الوفدين عبر الفيديو المؤتمر هذا الأسبوع وقال: "المفاوضات قريبة من توافق في الآراء بشأن القضايا الثانوية ولكن لا يوجد تقدم بشأن القضايا الرئيسية". وأعرب ميدينسكي عن مطالب روسيا من أوكرانيا بشأن القضايا الرئيسية التي لا يمكن إحراز تقدم فيها على النحو التالي: "نحن نصر على اتفاق شامل ينص على عدد من المواقف الحيوية بالإضافة إلى وضع أوكرانيا المحايد. أعتقد أنه من غير المرجح أن يتم التوصل إلى اتفاق بشأن نزع السلاح في أوكرانيا والتخلص من النازيين والاعتراف بشبه جزيرة القرم على الأراضي الروسية، ودونباس". وهذا يعني أن روسيا تصر على أهدافها الخاصة.

وأمام إصرار روسيا، تقدمت الولايات المتحدة بادعاء استخدام روسيا للقنابل الفسفورية وأسلحة الدمار الشامل كما فعلت في غزو العراق لوضعه في موقف غير مرغوب فيه خاصة ضد الدول الأوروبية. لأن تصريح زيلينسكي في قمة الناتو بأن روسيا استخدمت القنابل الفوسفورية وأسلحة الدمار الشامل هو أوضح دليل على ذلك. ومع ذلك فإن أمريكا لا تهتم كثيراً إذا استخدمت روسيا القنابل الفسفورية وأسلحة الدمار الشامل لقتل الشعب الأوكراني. لكنها تريد عزل روسيا بهذه الطريقة وتقوية الأرضية لفرض عقوبات عليها. في الواقع نجحت أمريكا أيضاً في فرض عقوبات على روسيا. لأنه بعد قمة الناتو، أدلت الدول الأوروبية تصريحات واحدة تلو الأخرى حول العقوبات المفروضة على روسيا. على سبيل المثال، قال رئيس الوزراء البريطاني بوريس جونسون: "بصفتنا قادة لحلف شمال الأطلسي ومجموعة السبع، نحن متحدون في تصميمنا على مواصلة تفاقم التأثير على روسيا لإبعاد أنفسنا عن النفط والغاز الروسي وإعادة تشكيل أمن الطاقة العالمي". بالإضافة إلى ذلك أدلى الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون بيانا بعد اجتماعات الناتو ومجموعة السبع مستخدما عبارات "اتفقنا على تزويد أوكرانيا بأسلحة دفاعية"، وأعلن أن الناتو قرر دعم أوكرانيا دون خوض حرب ضد روسيا. من ناحية أخرى، أعلنت الحكومة السويسرية أنها جمدت 6.17 مليار دولار من الأصول الروسية في إطار العقوبات المفروضة على الغزو الروسي لأوكرانيا. كل هذه التصريحات دليل على نجاح أمريكا في فرض عقوبات على روسيا.

من ناحية أخرى وعلى الرغم من أن الغرب وخاصة الولايات المتحدة، قد أعربوا عن دعمهم لأوكرانيا ضد روسيا، لا يبدو أن هذا يلبي توقعات زيلينسكي. لأن تصريح زيلينسكي بأن أوكرانيا لم تتلق طائرة واحدة من الناتو وأنه دعا لدبابات لكنه لم يتلق بعد إجابة واضحة من أعضاء الناتو يؤكد ذلك. زيلينسكي الذي كان يفتقر إلى البصيرة السياسية أن أمريكا والغرب قد انخرطوا في فكرة الوقوف إلى جانبه فعلياً بدباباتهم ومدفعيتهم وطرد روسيا من بلاده في وقت قصير وتحقيق النصر وهو ما يعبر عن لومه. مع ذلك فإن أوكرانيا وجيشها ليسا سوى بيادق في صراع الغرب ضد روسيا. لكن زيلينسكي عديم الرؤية الذي ليس لديه سياسة مستقلة ولديه عقل مفهرس تماماً للغرب لن يفهم ذلك أبداً. نأمل أن يؤدي هذا الصراع بين روسيا والغرب على أوكرانيا إلى تفككهما ونتيجة لذلك سيظهر نظام هو منارة أمل للبشرية جمعاء وخاصة المسلمين. طبعا هذا النظام هو دولة الخلافة الراشدة وهي وعد الله سبحانه وبشارة رسوله ﷺ. ﴿وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَز۪يزٍ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست